یمن اور اہلِ یمن کے متعلق احادیث مبارکہ (چوتھی اور آخری قسط)

تاریخ کے اوراق

یمن اور اہل یمن کے متعلق احادیثِ مبارکہ (چوتھی اورآخری قسط)

*مولانا محمد آصف اقبال عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ جنوری 2024ء

قراٰنی آیاتِ طیبات کی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی یمن اور اہلِ یمن کے خوب خوب مبارک تذکرے ہیں، ہم یہاں ایسے ہی ایمان افروز فرامین ِعالی شامل کرتے ہیں:

(1)یمن کی طرف سے رحمٰن کی خوشبو

حضور نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نےاہلِ یمن کی دین سے محبت اور حمایت کی خوبی کو بیان کیا۔ حضرت سَلمہ بن نفیل رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اِنِّی اَجِدُ نَفَسَ الرَّحْمٰنِ مِنْ قِبَلِ الْیَمَن ترجمہ: بے شک میں  یمن کی طرف سے رحمان کی خوشبو پاتا ہوں۔ ([1])

اس کا معنیٰ یہ ہے کہ بے شک میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اللہ پاک کا مجھے کشادگی عطا فرمانا اور میری تکلیف دور فرمانا یمن والوں کی طرف سے میری مدد ونصرت فرمانے کے ذریعے ہے۔([2]) ایک قول یہ ہے کہ اس فرمانِ نبوی سے مراد انصار ہیں کیوں کہ اللہ پاک نے ان کے ذریعے مسلمانوں سے تکلیف کو دُور فرمایا اور انصار قبیلۂ اَزْد سے تعلق رکھنے کی وجہ سے یمنی ہیں۔([3])علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃُ اللہِ علیہ نقل کرتے ہیں: بعض شارحین کے بقول اِس فرمانِ نبوی میں حضرت اویس قرنی رحمۃُ اللہِ علیہ کی طرف اشارہ ہے۔([4])

(2)اہلِ یمن کی نرم دلی اور ایمان وحکمت

حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اہل ِیمن کے ایمان، حکمت اور دل کی نرمی کو پسند فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: اہلِ یمن آئے ، وہ دلوں کے نرم ہیں، ایمان یمن  کا ہے،فقہ تو یمنی ہے اور حکمت یمنی ہے۔([5])

علامہ عبدالرؤف مناوی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: ایمان کو اہلِ یمن کی طرف منسوب کیا گیا کیونکہ یہ بغیر کسی تکلیف و مشقت کے ایمان کو تسلیم کرنے والے ہیں۔([6])امام جزری فرماتے ہیں: حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےیہ اس لئے فرمایا کیونکہ ایمان مکہ مکرمہ سے شروع ہوا اور  یہ تہامہ کی سرزمین  ہے اور تہامہ یمن کی زمین سے ہے،اسی لئے کہا جاتا ہے: کعبہ یمانی ہے۔([7])

امام محمد بن ابو اسحاق کِلابازی رحمۃُ اللہِ علیہ مذکورہ حدیثِ پاک  کے تحت لکھتے ہیں: آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یمن والوں کو دِلوں کی نرمی اور رقت سے موصوف فرمایا، پھر ایمان و حکمت کو ان کی طرف منسوب کرکے گویا خبر دی کہ ایمان کی بنیاد مخلوقِ الٰہی کے ساتھ شفقت ومہربانی پر رکھی گئی ہے کیونکہ یہی صفت ہے ان لوگوں کی جن کی طرف ایمان کو منسوب کیا گیا ہے۔([8])

شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی رحمۃُ اللہِ علیہ لکھتے ہیں: اہلِ یمن علم و صفائی ِقلب اور حکمت و معرفتِ الٰہی کی دولتوں سے ہمیشہ مالا مال رہے۔ خاص کر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہ یہ نہایت ہی خوش آواز تھے اور قراٰن شریف ایسی خوش الحانی کے ساتھ پڑھتے تھے کہ صحابَۂ کرام رضی اللہُ عنہممیں ان کا کوئی ہم مثل نہ تھا۔علمِ عقائد میں اہلِ سنّت کے امام شیخ ابوالحسن اشعری رحمۃ ا علیہ انہی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضیَ اﷲ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔([9])

(3)ان کے دل ادھر لگادے

اہل ِیمن کے دِلوں کے لئے رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایمان و اسلام کی طرف پھر جانے کی خاص دعا فرمائی، حضرت زید بن ثابت رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضور نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یمن کی طرف دیکھ کر یوں دعا فرمائی: اَللّٰهُمَّ اَقْبِلْ بِقُلُوْبِهِم یعنی اے اللہ پاک! ان کے دل ادھر لگادے۔([10])یعنی اہلِ یمن کے دلوں میں ہماری محبت پیدا فرمادے، انہیں ایمان کی دولت سے مالا مال کردے۔ (دراصل) اہلِ مدینہ پر رزق کی تنگی تھی یمن میں دانے پھل کثرت سے تھے ان کے ادھر آنے سے اہلِ مدینہ کو دنیاوی فائدے تھے اور انہیں دینی فائدے اس لئے(حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے) یہ دعا فرمائی۔([11])

(4)یمن کے لئے برکت کی دعا

حضور نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یمن کو اپنا کہا اور وہاں کے لئے دوبار یوں دعائے برکت فرمائی: اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا یعنی اے اللہ! ہم کوہمارے یمن میں برکت دے۔([12])

 عظیم حنفی عالم حضرت علامہ مولانا علی قاری رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: ظاہری وباطنی دونوں برکتوں کی دعا کی گئی ہے، یہی وجہ ہے کہ یمن والوں میں اولیائے کرام کثرت سے ہوئے اور یمن وشام کو دعائے برکت سے خاص کرنا بظاہر اس لئے تھا کہ مدینے والوں کے لئے خوراک ان دو شہروں سے آتی تھی۔ بعض بزرگ فرماتے ہیں: ان دو شہروں کے لئے برکت کی دعا اس لئے فرمائی کیونکہ آپ کی ولادت گاہ مکہ مکرمہ ہے اور یہ سرزمین یمن سے ہے اور آپ کا مسکن ومدفن شریف مدینہ طیبہ ہے اور یہ علاقہ شام سے ہے اور ان دونوں کی فضیلت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ایک آپ کی جائے ولادت اور دوسری جائے تدفین ہے، جبھی ان کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔([13]) حکیمُ الْاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہِ علیہ اس دعا کے تحت لکھتے ہیں:یمن حضرت اویس قرنی کا وطن ہے وہاں کا ایمان، وہاں کی حکمت حضور صلَّی الله علیہ و سلَّم کو پسند ہے۔([14])

(5) اہلِ یمن بہترین لوگ ہیں

آخری نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اہلِ یمن کو زمین پر بسنے والے بہترین لوگوں میں شمار فرمایا۔چنانچہ حضرت جُبَیر بن مُطْعِم رضی اللہُ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے ساتھ تھے، آپ نے ارشاد فرمایا: یمن والے بادلوں کی طرح تمہارے پاس آئیں گے، وہ زمین میں رہنے والوں میں سے بہترین لوگ ہیں۔ ایک انصاری نے عرض کی:وہ ہمارے علاوہ دیگر سے بہترین ہیں؟تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خاموش رہے، انہوں نے تین بار یہ سوال دہرایا کہ یارسول اللہ! سوائے ہمارے دیگر سے بہترین ہیں؟تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آہستہ سے فرمایا: سوائے تمہارے۔([15])

 (6) یمن والوں سے محبت ِرسول

اللہ کے آخری رسول حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کئی مواقع پر اہلِ یمن سے محبت وشفقت کا اظہار فرمایا، اپنائیت سے بھرپور یہ ارشادِ رسول ملاحظہ کیجئے: اِذَا مَرَّ بِكُمْ اَهْلُ الْيَمَنِ يَسُوقُونَ نِسَاءَهُمْ ويَحْمِلونَ اَبْنَاءَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، فَاِنَّهُمْ مِنِّي وَاَنَا مِنْهُمْ ترجمہ: جب یمن والے اپنی عورتوں کو لے کر اور اپنے بچوں کو کاندھوں پر اٹھائے ہوئے تمہارے پاس سے گزریں تو وہ مجھ سے اور میں ان سے ہوں۔([16])

اور ایک بار یوں لطف وکرم اور عنایتوں کا اظہار کیا:اَيْنَ اَصْحَابِي الَّذِينَ هُمْ مِنِّي وَاَنَا مِنْهُمْ، وَاَدْخُلُ الجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَهَا مَعِي؟ ترجمہ: میرے وہ اصحاب کہاں ہیں جومجھ سے اور میں ان سے ہوں،میں جنت میں داخل ہوں گا تو وہ بھی  میرے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔([17])

اور یمن والوں پرنہ صرف خودمہربان تھے بلکہ دوسروں کو بھی مہربانی کرنے اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا، چنانچہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اَلْاِيمَانُ يَمَانٍ، وَهُمْ مِنِّي وَاِلَيَّ، وَاِنْ بَعُدَ مِنْهُمُ المَرْبَعُ، وَيُوشِكُ اَنْ يَأْتُوكُمْ اَنْصَارًا وَاَعْوَانًا فَآمُرُكُمْ بِهِمْ خَيْرًا ترجمہ:ایمان تو یمن والوں کا ہے، وہ مجھ سے ہیں اور میری طرف آئیں گے اگرچہ ان کی زرخیز زمین ان سے دور ہوجائےگی اورقریب ہے کہ وہ تمہارے معاون اور مددگار بن کر آئیں گے تو میں تمہیں ان کے ساتھ بھلائی کا حکم دیتا ہوں۔([18])

(7)نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے  سب سے پہلے مصافحہ کرنے والے

بوقتِ ملاقات  مصافحہ کرنا سنّتِ صحابہ ہے بلکہ سنتِ  رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے۔([19])اور اہلِ یمن کو یہ شرف وفضیلت حاصل ہے کہ سب سے پہلے انہوں نے آکر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مصافحہ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ جب اہلِ یمن حضور نبیِّ پاک  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا: ”تمہارے پاس اہلِ یمن آئے ہیں اور وہ پہلے لوگ ہیں جنہوں نے آکر مصافحہ کیا۔“([20])

اللہ پاک یمن اور تمام بلادِ اسلامیہ پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے اور دنیا بھر میں بسنے والے تمام مسلمانوں کو اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں کا پابند بنائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغُ التحصیل جامعۃُ المدینہ، شعبہ تراجم، المدینۃ العلمیہ کراچی



([1])معجم کبیر،7/52، حدیث:6358-مسند الشامیین،2/149، حدیث:1083

([2])مشکل الحدیث وبیانہ،1/198

([3])النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، 5/80

([4])فیض القدیر ،4/170

([5])مسلم، ص50،حدیث:182

([6])التیسیر بشرح الجامع الصغیر،1/427

([7])مرقاۃ المفاتیح، 10/319، تحت الآیۃ:5969

([8])بحرالفوائد المشہور بمعانی الاخیار للکلاباذی،ص72

([9])مدارج النبوت،2/366-المواہب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، 5/163تا166-سیرت مصطفی،ص510

([10])ترمذی،5/489، حدیث:3960

([11])مراٰۃ المناجیح،8/579

([12])بخاری، 4/440، الحدیث:7094

([13])مرقاۃ المفاتیح،10/639،تحت الحدیث:6271

([14])مراۃ المناجیح،8/578

([15])مسند بزار،8/351،حدیث:3429

([16])معجم کبیر،17/123،حدیث:304

([17])معجم کبیر،13/35،حدیث:123

([18])معجم کبیر،13/29،حدیث:96

([19])مراٰۃ المناجیح، 6/355

([20])ابو داؤد، 4/ 453، حدیث: 5213


Share