تقویٰ  کی سات اقسام قراٰن و حدیث  کی روشنی میں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳) ترجمہ : اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ (پ2 ، البقرۃ : 183)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تقویٰ کی عظمت:آیتِ مبارَکہ میں روزے کا مقصد تقویٰ و پرہیزگاری قرار دیا ہے۔ تقویٰ عظیم عبادت ، تمام نیکیوں کی اصل اور بےشمار فضائل کا حامل ہے۔ تقویٰ ، اللہ کےدوستوں یعنی ولیوں کی پہچان ہے ، فرمایا :  الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ(۶۳)  ترجمہ : (اللہ کے دوست ہیں)وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے۔ (پ11 ، یونس : 63)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)   متقی کا مرتبہ خدا کی بارگاہ میں سب سے بلند ہے ، فرمایا :  اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- ترجمہ : بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ (پ26 ، الحجرات : 13) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  متقی اللہ کے دوست ہیں اور خدا متقیوں کا دوست ہے ، فرمایا : وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ(۱۹)  ترجمہ : اور اللہ پرہیزگاروں کا دوست ہے۔ (پ25 ، الجاثیۃ : 19) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) پرہیزگاروں سے اللہ کریم محبت فرماتا ہے ، فرمایا : اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ(۷) ترجمہ : بیشک اللہ پرہیزگاروں سے محبت فرماتا ہے۔ (پ10 ، التوبۃ : 7) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  تقویٰ ، سفرِِ آخرت کے لئے بہترین زادِ راہ  ہے۔ فرمایا : فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى٘- ترجمہ : پس سب سے بہتر زادِ راہ یقیناً پرہیزگاری ہے۔ (پ2 ، البقرۃ : 197) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  تقویٰ انسان کے لئے بہترین لباس ہے جو ایمان ، عملِ صالح ، شرم و حیا اور اچھے اَخلاق کے ساتھ انسان کے باطنی و روحانی وُجود کی شیطان سے حفاظت کرتا ہے اور اس کے اخلاقی وُجود کو زینت بھی بخشتا ہے ، فرمایا : وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ- ترجمہ : اورپرہیزگاری  کا لباس سب سے بہتر ہے۔ (پ8 ، الاعراف : 26) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  متقی کو رب تعالیٰ حق و باطل میں فرق کرنے والا نور عطا فرماتا ہے ، متقی کی خطائیں معاف ہوتی ہیں اور اسے بخشش سے نوازا جاتا ہے۔ فرمایا :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(۲۹) ترجمہ : اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو تمہیں حق و باطل میں فرق کر دینے والا نور عطا فرما دے گا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا اور تمہاری مغفرت فرما دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (پ9 ، الانفال : 29)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  متقی کے لئے اللہ تعالیٰ مشکلات میں راہِ نجات پیدا کردیتا ہے اور اسے عالی شان رزق وہاں سے عطا کرتا ہے جس کا اُس نے سوچا بھی نہیں ہوتا وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ-وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ- ترجمہ : اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نکلنے کا راستہ بنا دے گا۔ اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ (پ28 ، الطلاق : 2 ، 3) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تقویٰ کا معنی و مفہوم اور اقسام:صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الھادی نے سورۂ بَقَرَہ کی آیت 2 کی تفسیر میں تقویٰ کے معنیٰ و مفہوم اور اس کی اقسام کے متعلق تحریر فرمایا : “ تقوٰی کے کئی معنی آتے ہیں ، نفس کو خوف کی چیز سے بچانا اور عرفِ شرع میں ممنوعات چھوڑ کر نفس کو گناہ سے بچانا۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا : متّقی وہ ہے جو شرک و کبائر و فواحش سے بچے۔ ۔ ۔ بعض کے نزدیک معصیت پر اصرار اور طاعت پر غرور کا ترک تقویٰ ہے۔ بعض نے کہا تقویٰ یہ ہے کہ تیرا مولیٰ تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا۔ ۔ ۔ یہ تمام معنی باہم مناسبت رکھتے ہیں اور مآل (یعنی نتیجہ) کے اعتبار سے ان میں کچھ مخالفت نہیں۔ تقویٰ کے مراتب بہت ہیں : عوام کا تقویٰ ایمان لا کر کُفر سے بچنا ، مُتوسّطین کا اوامر و نواہی کی اطاعت ، خواص کا ہر ایسی چیز کو چھوڑنا جو اللہ تعالیٰ سے غافل کرے ۔ ۔ ۔ حضرت مترجم(اعلیٰ حضرت ، امام احمد رضا) قُدِّسَ سِرُّہ نے فرمایا : تقویٰ سات قسم کا ہے۔ کُفر سے بچنا یہ بفضلہٖ تعالیٰ ہر مسلمان کو حاصل ہے(۲)بدمذہبی سے بچنا یہ ہر سنی کو نصیب ہے (۳)ہر کبیرہ سے بچنا (۴)صغائر سے بھی بچنا (۵)شبہات سے احتراز (۶)شہوات سے بچنا (۷)غیر کی طرف التفات سے بچنا ، یہ اَخَصُّ الْخَواص کا منصب ہے اور قرآنِ عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی(راہنما)ہے۔ “ (خزائن العرفان مع کنزالایمان ، ص4 ملخصاً)

تقویٰ کی سات اقسام کی تفصیل و دلائل

پہلی قسم کفر سے بچنا:رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جس شخص میں تین خصلتیں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پا لے گا : (1)اللہ اور اس کا رسول اسے باقی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں (2)جس شخص سے بھی اس کو محبت ہو وہ محض اللہ تعالیٰ کی وجہ سے ہو (3) کفر سے نجات کے بعد کفر میں جانے  کو اس طرح ناپسند کرتا ہو جیسے آگ میں پھینکے جانے  کو ناپسند کرتا ہے۔

(مسلم ، ص47 ، حديث : 165 ، بخاری ، 1 / 17 ، حديث : 16)

 دوسری قسم گمراہی و بدمذہبی سے بچنا: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : آخری زمانہ میں جھوٹے دجال لوگ ہوں گے ، وہ تم کو ایسی احادیث سنائیں گے جن کو نہ تم نے سنا ہوگا ، نہ تمہارے باپ دادا نے ، تو تم ان سے دور رہنا ، کہیں وہ  تمہیں گمراہ نہ کر دیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ مبتلا کر دیں۔          (مسلم ، ص17 ، حديث : 16)

تیسری قسم کبیرہ گناہوں سے بچنا: نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : “ اِتَّقِ المَحَارِمَ تَكُنْ اَعْبَدَ النَّاس “ ترجمہ : حرام کاموں سے بچو سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے۔ (ترمذی ، 4 / 137 ،  حديث : 2312) اور قرآن میں فرمایا گیا: اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا(۳۱) ترجمہ : اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے دوسرے گناہ بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔ (پ5 ، النسآء : 31)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

چوتھی قسم صغیرہ گناہوں سے بچنا: نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : “ اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَا اَذْنَبَ كَانَتْ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فِي قَلْبِهِ “ بندہ جب گناہ کرتا ہے تو دل پر سیاہ نکتہ لگ جاتا ہے۔

(ابن ماجہ ، 4 / 88 ، حديث : 4244)

پانچویں قسم ان چیزوں سے بچنا جن کے جائز و حلال ہونے میں شبہ ہو:رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : حلال واضح  ہے اور حرام  بھی بالکل واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ شبہ والی چیزیں  ہیں جن کا بہت سے لوگوں کو علم نہیں ہے ، تو جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا اور جو شبہ والی چیزوں میں پڑا تو وہ حرام ہی میں جاپڑےگا ، جیسے کوئی شخص کسی ممنوعہ چراگاہ کے آس پاس جانور چرائے  تو قریب ہے کہ وہ جانور ممنوعہ چراگاہ میں بھی  داخل ہو جائیں۔

(مسلم ، ص663 ، حديث : 4094 ، بخاری ، 1 / 33 ، حديث : 52)

چھٹی قسم شہوات و خواہشاتِ نفس  سے بچنا: نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے فرمایا : تین باتیں مہلکات میں شامل ہیں : ایک وہ  طمع و لالچ جس کی پیروی کی جائے۔ دوسری وہ  خواہشِ نفس جس کے پیچھے چلا جائے اور تیسری آدمی کی خودپسندی۔ (معجم الاوسط ، 4 / 129 ، حدیث : 5452) اور قرآن میں فرمایا : وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ(۴۱)  ترجمہ : اور رہا وہ جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرا اور نفس کو خواہش سے روکا۔ تو بیشک جنت ہی  (اس کا) ٹھکانہ ہے۔ (پ30 ، النّٰزعٰت : 40 ، 41) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ساتویں قسم غیر کی طرف التفات سے بچنا:تقویٰ کی ساتویں قسم اَخَص الْخَواص مقربینِ بارگاہِ الٰہی کا نصیب ہے کہ اپنا جینا مرنا سب اللہ کے لئے کردیتے ہیں ، اپنی جان  مولائے کریم کو بیچ دیتے ہیں اور اس کی یاد اور محبت میں ڈوب کر سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہوجاتے ہیں۔ غیر کو ظاہراً دیکھنے میں  بھی تجلیاتِ الٰہیہ کے مشاہدہ و مطالعہ میں یا حکمِ الٰہی کی پیروی میں  ہوتے ہیں۔ فرمایا : قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)  ترجمہ : تم فرماؤ ، بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے(پ8 ، الانعام : 162) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں) اور فرمایا وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِؕ- ترجمہ : اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی رضا تلاش کرنے کے لئےاپنی جان بیچ دیتا ہے۔ (پ2 ، البقرۃ : 207) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  اور فرمایا : وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًاؕ(۸) ترجمہ : اور اپنے رب کا نام یاد کرو اور سب سے ٹوٹ کر اسی کے بنے رہو۔ (پ29 ، المزمل : 8)  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

  اللہ کریم ہمیں تقویٰ کے یہ مدارج عطا فرمائے اور ہمارے روزوں اور عبادتوں کو ان مقامات کے حصول کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*دارالافتاء اہلِ سنّت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ ، کراچی

 

Share

Articles

Comments


Security Code