شرح حدیث

دومنہ والےانسان

* مولانا سید سمر الہدیٰ یمنی

ماہنامہ مارچ2022ء

اللہ پاک کےآخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا : تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَاللَّهِ ذَاالْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَاْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَيَاْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ ترجمہ : تم قیامت کے دن الله كی بارگاہ میں لوگوں میں بدترین دو منہ والے کو پاؤ گے ، جو اِن کے پاس اور منہ سے جائے اور اُن کے پاس اور منہ سے۔ [1]

یہاں ذُوالْوَجْہَیْن سےحقیقی دو منہ والا انسان مراد نہیں بلکہ وہ آدمی مرادہے جو سامنے تعریف کرےپیچھے بُرائی یا سامنے دوستی ظاہر کرے پیچھے دشمنی یا دو لڑے ہوئے آدمیوں کے پاس جائے اِس سے ملے تو اِس کی سی کہے دوسرے سے ملے تو اُس کی سی کہے ، ہر ایک کا ظاہری دوست بنے۔ [2]

دومنہ والے کی مذمت کیوں؟

شارحینِ حدیث نے دو منہ والےکی مذمت کی یہ وُجوہات بیان فرمائی ہیں :

(1)دو منہ والوں کو بدترین مخلوق اس لئے کہا گیا کہ ان کی اور منافق کی حالت یکساں ہےکیونکہ یہ افراد بھی باطل اور جھوٹی بات کے ذریعےلوگوں کےدرمیان شروفساد ، بغض و عداوت پیدا کرنے اور تعلقات ختم کروانےکی کوشش کرتے ہیں۔ [3]

(2)دو منہ والاآدمی ہرایک کےپاس آکر ایسی باتیں کرتا ہے جس سےوہ راضی ہوجائےخواہ بات اچھی ہویا بُری ، ان کے ہر اچھے بُرے کاموں پر رضا مندی ظاہر کرتا ہے جو کہ حرام ہے۔ [4]

دو منہ والے اپنی حرکتوں سے ناصرف معاشر ے کا توازن بگاڑ دیتے ہیں بلکہ خود اپنی دنیا و آخرت بھی خراب کر بیٹھتے ہیں۔ اس کی چند خرابیاں اور منفی اثرات ملاحظہ کیجئے :

(1)یہ کام (یعنی دو منہ والا ہونا) دراصل کئی گناہوں مثلاً جُھوٹ ، غیبت ، چُغلی ، بُہتان ، دھوکا وغیرہ کا مجموعہ ہے۔

(2)اس کا مرتکب اللہ پاک اور اس کے بندوں کے نزدیک ناپسندیدہ اور قابل ِ نفرت ہوجاتا ہے۔

(3)اس کی وجہ سے معاشرے میں فساد اور لوگوں کے دِلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔

 (4)ایسے شخص کی آخرت برباد ہوجاتی ہے ، رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : جس کی دنیا میں دو زبانیں ہوں گی اللہ پاک بروزِ قیامت اس کی آگ کی دو زبانیں بنادے گا۔ [5]

(5)یہ عمل کسی کو قتل کرنے سےبھی زیادہ سخت ہےکہ قتل سے فردِ واحد کی جان جاتی ہےجبکہ اس عمل سے بے شمار زندگیوں کی راحت چِھن جاتی ہے۔

(6)ایک وقت آتا ہے کہ اس کی منافقت دونوں فریقوں پر ظاہرہوجاتی ہے پھر وہ دونوں تو مِل بیٹھتےہیں لیکن یہ ذلیل و خوار ہوجاتا ہے۔

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی دعوتِ دين کا ایک بہت بڑا حصہ لوگوں کے دلوں میں باہم محبت ، خیرخواہی ، رشتوں کو جوڑنے اور نفرتیں مٹانے کی کوششوں پر مشتمل ہے۔ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےحضرت انس  رضی اللہُ عنہ  کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اے میرے بیٹے! اگر تو یہ کرسکتا ہے کہ اس حال میں صبح وشام کرےکہ تیرےدل میں کسی کی بد خواہی (کینہ) نہ ہو تو ایسا ہی کر۔ پھر فرمایا : اے میرے بیٹے! یہ میری سنّت ہے ، جس نے میری سنّت سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔ [6]

معلوم ہوا کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی رضامندی اس میں ہےکہ امت باہم جُڑی رہے ، مَحبّت و دشمنی کا معیار صرف اللہ و رسول کی ذات ہو ، پھر کسی سچے کلمہ گو کے لئے کیوں کر دُرست ہوسکتا ہےکہ وہ امت میں اِنتشار و اِفتراق کا باعث بن کر دنیا و آخرت کی ذلّت کا مستحق ٹھہرے ، لیکن افسوس کہ معاشرے میں یہ بُرائی بہت عام ہوچکی ہے ، مرد و عورت ، بوڑھے ، جوانوں کی بڑی تعداد اس قبیح فعل میں مبتلا ہیں ، جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے سکونی ، دلوں میں نفرتیں اور طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کے دلوں کو دوسرے مسلمان بھائی کے بُغض و حَسد سے پاک و ستھرا فرمائے اور ہمیں ہر اس کام سے اِجتناب کرنے کی توفیق بخشے جس سے اُمّت میں اِنتشار و اِفتراق کو ہَوا ملے۔

یاد رہے! دومنہ والےوہی کہلائیں گے کہ جن کی نیت مسلمانوں میں جدائی پیدا کرنےکی ہو۔ رہا ایسی باتیں کہنا جو مسلمانوں میں دوریاں مٹانےاور محبت کا باعث بنیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں بلکہ شریعت کو محمود و مطلوب ہیں۔

پیارےآقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : لَيْسَ الكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا اَوْ يَقُولُ خَيْرًا یعنی لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا شخص جھوٹا نہیں (کیونکہ) وہ اچھی نیت کے ساتھ بات پہنچاتا ہےیا اچھی بات کہتا ہے۔ [7]

امام نووی  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں : فَاِنْ اَتَى كُلَّ طَائِفَةٍ بِالْاِصْلَاحِ وَنَحْوِهٖ فَمَحْمُوْدٌ یعنی اگر ہر گروہ کےپاس صلح کرانے یا اسی کے مثل کسی ارادے سے آئے تو وہ قابلِ تعریف ہے۔ [8]

اللہ کریم ہمیں اخلاص کی دولت عطافرمائےاورمُنافَقت سے محفوظ فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ  التحصیل جامعۃ المدینہ ، شعبہ فیضان حدیث ، المدینۃ العلمیہ(اسلامک ریسرچ سینٹر) کراچی



[1] بخاری ، 4 / 115 ، حدیث : 6058

[2] مراٰۃ المناجیح ، 6 / 468 ملخصاً

[3] المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم ، 6 / 478

[4] اکمال المعلم بفوائدالمسلم ، 7 / 564

[5] مسند ابی یعلیٰ ، 3 / 10 ، حدیث : 2763 ، 2764

[6] مشکاۃ المصابیح ، 1 / 55 ، حدیث : 175

[7] بخاری ، 2 / 210 ، حدیث : 2692

[8] شرح النووی علی المسلم ، 16 / 156


Share

شرح حدیث

دومنہ والےانسان

* مولانا سید سمر الہدیٰ یمنی

ماہنامہ مارچ2022ء

اللہ پاک کےآخری نبی  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےفرمایا : تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَاللَّهِ ذَاالْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَاْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَيَاْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ ترجمہ : تم قیامت کے دن الله كی بارگاہ میں لوگوں میں بدترین دو منہ والے کو پاؤ گے ، جو اِن کے پاس اور منہ سے جائے اور اُن کے پاس اور منہ سے۔ [1]

یہاںذُوالْوَجْہَیْن سےحقیقی دو منہ والا انسان مراد نہیں بلکہ وہ آدمی مرادہے جو سامنے تعریف کرےپیچھے بُرائی یا سامنے دوستی ظاہر کرے پیچھے دشمنی یا دو لڑے ہوئے آدمیوں کے پاس جائے اِس سے ملے تو اِس کی سی کہے دوسرے سے ملے تو اُس کی سی کہے ، ہر ایک کا ظاہری دوست بنے۔ [2]

دومنہ والے کی مذمت کیوں؟

شارحینِ حدیث نے دو منہ والےکی مذمت کی یہ وُجوہات بیان فرمائی ہیں :

(1)دو منہ والوں کو بدترین مخلوق اس لئے کہا گیا کہ ان کی اور منافق کی حالت یکساں ہےکیونکہ یہ افراد بھی باطل اور جھوٹی بات کے ذریعےلوگوں کےدرمیان شروفساد ، بغض و عداوت پیدا کرنے اور تعلقات ختم کروانےکی کوشش کرتے ہیں۔ [3]

(2)دو منہ والاآدمی ہرایک کےپاس آکر ایسی باتیں کرتا ہے جس سےوہ راضی ہوجائےخواہ بات اچھی ہویا بُری ، ان کے ہر اچھے بُرے کاموں پر رضا مندی ظاہر کرتا ہے جو کہ حرام ہے۔ [4]

دو منہ والے اپنی حرکتوں سے ناصرف معاشر ے کا توازن بگاڑ دیتے ہیں بلکہ خود اپنی دنیا و آخرت بھی خراب کر بیٹھتے ہیں۔ اس کی چند خرابیاں اور منفی اثرات ملاحظہ کیجئے :

(1)یہ کام (یعنی دو منہ والا ہونا) دراصل کئی گناہوں مثلاً جُھوٹ ، غیبت ، چُغلی ، بُہتان ، دھوکا وغیرہ کا مجموعہ ہے۔

(2)اس کا مرتکب اللہ پاک اور اس کے بندوں کے نزدیک ناپسندیدہ اور قابل ِ نفرت ہوجاتا ہے۔

(3)اس کی وجہ سے معاشرے میں فساد اور لوگوں کے دِلوں میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔

 (4)ایسے شخص کی آخرت برباد ہوجاتی ہے ، رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : جس کی دنیا میں دو زبانیں ہوں گی اللہ پاک بروزِ قیامت اس کی آگ کی دو زبانیں بنادے گا۔ [5]

(5)یہ عمل کسی کو قتل کرنے سےبھی زیادہ سخت ہےکہ قتل سے فردِ واحد کی جان جاتی ہےجبکہ اس عمل سے بے شمار زندگیوں کی راحت چِھن جاتی ہے۔

(6)ایک وقت آتا ہے کہ اس کی منافقت دونوں فریقوں پر ظاہرہوجاتی ہے پھر وہ دونوں تو مِل بیٹھتےہیں لیکن یہ ذلیل و خوار ہوجاتا ہے۔

رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی دعوتِ دين کا ایک بہت بڑا حصہ لوگوں کے دلوں میں باہم محبت ، خیرخواہی ، رشتوں کو جوڑنے اور نفرتیں مٹانے کی کوششوں پر مشتمل ہے۔ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےحضرت انس  رضی اللہُ عنہ  کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اے میرے بیٹے! اگر تو یہ کرسکتا ہے کہ اس حال میں صبح وشام کرےکہ تیرےدل میں کسی کی بد خواہی (کینہ) نہ ہو تو ایسا ہی کر۔ پھر فرمایا : اے میرے بیٹے! یہ میری سنّت ہے ، جس نے میری سنّت سے محبت کی اُس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنّت میں میرے ساتھ ہو گا۔ [6]

معلوم ہوا کہ رسولُ اللہ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی رضامندی اس میں ہےکہ امت باہم جُڑی رہے ، مَحبّت و دشمنی کا معیار صرف اللہ و رسول کی ذات ہو ، پھر کسی سچے کلمہ گو کے لئے کیوں کر دُرست ہوسکتا ہےکہ وہ امت میں اِنتشار و اِفتراق کا باعث بن کر دنیا و آخرت کی ذلّت کا مستحق ٹھہرے ، لیکن افسوس کہ معاشرے میں یہ بُرائی بہت عام ہوچکی ہے ، مرد و عورت ، بوڑھے ، جوانوں کی بڑی تعداد اس قبیح فعل میں مبتلا ہیں ، جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے سکونی ، دلوں میں نفرتیں اور طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کے دلوں کو دوسرے مسلمان بھائی کے بُغض و حَسد سے پاک و ستھرا فرمائے اور ہمیں ہر اس کام سے اِجتناب کرنے کی توفیق بخشے جس سے اُمّت میں اِنتشار و اِفتراق کو ہَوا ملے۔

یاد رہے! دومنہ والےوہی کہلائیں گے کہ جن کی نیت مسلمانوں میں جدائی پیدا کرنےکی ہو۔ رہا ایسی باتیں کہنا جو مسلمانوں میں دوریاں مٹانےاور محبت کا باعث بنیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں بلکہ شریعت کو محمود و مطلوب ہیں۔

پیارےآقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : لَيْسَ الكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا اَوْ يَقُولُ خَيْرًا یعنی لوگوں کے درمیان صلح کروانے والا شخص جھوٹا نہیں (کیونکہ) وہ اچھی نیت کے ساتھ بات پہنچاتا ہےیا اچھی بات کہتا ہے۔ [7]

امام نووی  رحمۃُ اللہِ علیہ  فرماتے ہیں : فَاِنْ اَتَى كُلَّ طَائِفَةٍ بِالْاِصْلَاحِ وَنَحْوِهٖ فَمَحْمُوْدٌ یعنی اگر ہر گروہ کےپاس صلح کرانے یا اسی کے مثل کسی ارادے سے آئے تو وہ قابلِ تعریف ہے۔ [8]

اللہ کریم ہمیں اخلاص کی دولت عطافرمائےاورمُنافَقت سے محفوظ فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النّبیّٖن  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ  التحصیل جامعۃ المدینہ ، شعبہ فیضان حدیث ، المدینۃ العلمیہ(اسلامک ریسرچ سینٹر) کراچی



[1] بخاری ، 4 / 115 ، حدیث : 6058

[2] مراٰۃ المناجیح ، 6 / 468 ملخصاً

[3] المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم ، 6 / 478

[4] اکمال المعلم بفوائدالمسلم ، 7 / 564

[5] مسند ابی یعلیٰ ، 3 / 10 ، حدیث : 2763 ، 2764

[6] مشکاۃ المصابیح ، 1 / 55 ، حدیث : 175

[7] بخاری ، 2 / 210 ، حدیث : 2692

[8] شرح النووی علی المسلم ، 16 / 156


Share

Articles

Comments


Security Code