اپنے شہر میں روزگار

تاجروں کے لئے

اپنے شہر میں روزگار

*مولانا عبدالرحمٰن عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ مارچ 2023

قراٰنِ پاک میں کسبِ مَعاش میں مشغول ہونے کو بھی اللہ کا فضل تلاش کرنا کہا گیا ہے ، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :  ( فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ( ۱۰ )  )  ترجَمۂ کنز الایمان : پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرواور اللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔   [1]     (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 ” اور اللہ کا فضل تلاش کرو “ یعنی اب تمہارے لئے جائز ہے کہ مَعاش کے کاموں میں مشغول ہو۔[2]

آیتِ قراٰنی  اور ادائے سرکار پر عمل کی نیت سے بازار کا چکر ایک بزرگ کا بیان ہے کہ میں نے صحابیِ رسول حضرت سیّدنا عبدُاللہ بن بُسْر مازِنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے نمازِ جمعہ سے فراغت کے بعد کچھ دیر بازار کا چکر لگایاپھر واپس مسجد آکرجب تک اللہ پاک نے چاہا نمازپڑھی ، آپ سےپوچھا گیا : حضور ! اس طرح کرنے میں کیا حکمت تھی ؟  ارشاد فرمایا : میں نے سیدُ المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے اور پھر یہی آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی۔[3]

خوش نصیبی کی چار علامتیں رزقِ حلال کے لئے کوشش کرنا انبیائے عظام ، صحابۂ کرام اور بزرگانِ دین کا طریقہ رہا ہے۔ رزق کا ذریعہ اور سبب اگر اپنے شہر میں ہو تو کیا ہی بات ہے ، حدیث شریف میں اسے خوش بختی کی علامت کہا گیا ہے ، چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے : چار چیزیں مرد کی خوش نصیبی سے ہیں :  ( 1 ) اس کی بیوی نیک ہو ( 2 )  اس کی اولاد فرمانبردار ہو  ( 3 ) اس سے میل جول رکھنے والے  ( یعنی اس کے ساتھی اور ہم پیشہ لوگ جن کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی ضرورت پیش آتی ہے )  نیک ہوں  ( 4 ) اس کا رزق اس کے شہر میں ہو  ( یعنی اس جگہ ہو جہاں اس کی رہائش ہے خواہ وہ شہر ہو یا گاؤں ) ۔  [4]علامہ عبد الرءوف مُناوی رحمۃُ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : حدیث کی مراد یہ ہے کہ ( آدمی کو رزقِ حلال کے لئے ) دُور دراز کے سفر اور طویل جنگلوں کی مسافت طے کرنے کی نوبت پیش نہ آئے  ( اور یہ چیزآدمی کی خوش نصیبی سے ہے ) ۔  [5]

اپنے شہر میں رزق کی دعاامام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ نے سفرِ حج سے واپسی کے آداب میں لکھا کہ جب ( مسافر )  اپنے شہر کے قریب پہنچے تو  ( رفتار تیز کرنے کے لئے ) اپنی سواری کو حرکت دے اور یہ دعا پڑھے : اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ لَنَا بِہَا قَرَارًا وَرِزْقًا حَسَنًا یعنی اے اللہ ! ہمیں اس شہر میں سکون اور اچھا رزق عطا فرما۔[6]

مقیم تاجر جیسا رزق حضرت سیّدنا وہب بن مُنبِّہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک سائل نے حضرت سیّدنا داؤد علیہ السّلام کے دروازے پر صدا لگائی : اے اہلِ بیتِ نُبوّت ! اے سرچشمۂ رسالت والو ! مجھ پرکچھ صدقہ کرو ، اللہ پاک تمہیں اپنے گھر والوں کے ساتھ مقیم تاجر جیسا رزق عطا فرمائے۔حضرت سیدنا داؤد علیہ السّلام نے فرمایا : اس کو دو ، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! بے شک زبور میں بھی ایسا ہے۔[7]

عظیم لطف و مہربانی علامہ نجم الدین محمد بن محمد غَزِّی شافِعی رحمۃُ اللہ علیہ اس روایت کے ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں : * ہوسکتا ہے سائل نے اس مقصدسے دعا کی ہو کہ اللہ پاک ان گھر والوں کو ایسا رزق عطا فرمائے جیسا اس تاجر کو عطا فرماتا ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ رہائش پذیر ہوتا ہے اور یہ لوگ بھی اس تاجر کی طرح اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتے ہوئے راحت و سکون کے ساتھ تجارت کریں اور نفع پائیں اور حضرت سیّدنا داؤد علیہ السّلام کا اس دعا کو برقرار رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ سفر کی سختیاں اور منزل پر ٹھہرنے اور کوچ کی تکلیفیں جھیلے بغیر اپنے گھر والوں کے ساتھ رہتے ہوئے تجارت کرنا ایک مستحسن اور پسندیدہ عمل ہے اور یہ عمل بہتر کیسے نہ ہو کہ حضرت سیّدنا داؤد علیہ السّلام نے قسم کے ساتھ اس عمل کے زبور میں ہونے کی تصدیق بھی فرمائی ہے * اوریہ بھی ممکن ہے کہ دعا سے سائل کی مراد گھر والوں کے ساتھ رہتے ہوئے آسانی کے ساتھ مطلق رزق کا حصول ہو جیسا کہ اپنے گھر والوں کے ساتھ مقیم تاجر سکون میں ہوتا ہے اور نفع پا رہا ہوتا ہے * نیزسائل کی دعاسے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ شہروں میں گھومنے پھرنے کی مشکلات اور سفر کی مشقتیں اور تکلیفیں اٹھائے بغیرسہولت کے ساتھ تھوڑا تھوڑا روزانہ نیا رزق حاصل ہو اور یہ عظیم لطف و مہربانی ہے۔[8]

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃُ المدینہ عربی ٹرانسلیشن ڈیپارٹمنٹ ، کراچی



[1] پ28 ، الجمعۃ : 10

[2] خزائن العرفان ، ص1025

[3] در منثور ، الجمعۃ ، تحت الآیۃ : 10 ، 8 / 164

[4] جامع صغیر ، ص62 ، حدیث : 920- فیض القدیر ، 1 / 596 ، 597 ، تحت الحدیث : 920

[5] فیض القدیر ، 1 / 597 ، تحت الحدیث : 920

[6] احیاء العلوم ، 1 / 349

[7] حلیۃالاولیاء ، 4 / 66 ، رقم : 4766

[8] حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ ، 5 / 58


Share

Articles

Comments


Security Code