رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آباء و اجداد

اپنے بزرگوں کو یاد رکھئے

رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آباء و اجداد  

( قسط : 01 )

 صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم   Blessed Ancestors of rasoolullah

*مولانا ابوماجد محمد شاہد عطاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ ستمبر 2023ء

اللہ پاک نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو ان میں سے انسان کو فضیلت دی ، پھر انسانوں کو دو حصوں عرب و عجم میں تقسیم کیا ، ان میں عربوں کو فضیلت دی ، پھر اہلِ عرب کے کئی قبیلے بنائے ،  ان میں سے قبیلۂ قریش کو فضیلت دی ، پھر قبیلۂ قریش میں کئی خاندان بنائے ، ان میں خاندان بنی ہاشم کو فضیلت دی اور ہمارے آقا محمدِ عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بنی ہاشم سے پیدا فرمایا چنانچہ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : اللہ پاک نے مخلوق بنائی تو مجھے بہترین مخلوق  ( انسانوں )  میں رکھا ، پھر اس کے دو حصے  ( عرب و عجم )  کئے مجھے ان میں سے بہتر حصے  ( عرب )  میں رکھا ، پھر قبیلے بنائے تو مجھے بہتر قبیلے  ( قریش )  میں رکھا اور خاندان بنائے تو مجھے بہترین خاندان  ( بنو ہاشم )  میں پیدا فرمایا ، تو میں ان سب میں اچھی ذات والا ہوں اور میرا خاندان بھی تمام خاندانوں سے بہتر ہے۔[1]

مسلم شریف کی حدیثِ پاک ہے : اللہ پاک نے اولاد اسماعیل میں سے بنی کِنانہ کو منتخب فرمایا اور اولادِ کِنانہ میں سے قریش کا انتخاب فرمایا ، اور قریش میں سے بنی ہاشم کو چنا ، اور بنی ہاشم میں سے مجھے شرفِ انتخاب بخشا۔[2]  حضرت جبرائیل علیہ السّلام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی : مَیں نے تمام زمین کی سمتوں اور گوشوں کو چھان مارا مگر نہ تو مَیں نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بہتر کسی کو پایا اور نہ ہی مَیں نے بنی ہاشم کے گھر سے بہتر کوئی گھر دیکھا۔[3]علّامہ عبدالرؤف مُناوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضور ِاکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنی اصل  ( ماں باپ )  کے لحاظ سے بھی سب سے بہتر ہیں کیونکہ آپ پُشت دَر پُشت پاک صُلبوں اور رَحْموں میں  ( نکاح کے ذریعے )  منتقل ہوتے رہے یہاں تک کہ حضرت عبدُ اللہ کی پُشت میں پہنچے۔[4]  حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ جب اسلام نہیں لائے تھے اور ہرقل کے دربار میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نسب کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا : ھُوَ فِیْنَا ذُوْ نَسَبٍ یعنی وہ ہم سب میں سے عالی نسب والے ہیں۔[5]ہمارے پیارے نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے آباء و اجداد اللہ پاک کی توحید کے قائل تھے۔ قیامت اور حساب کتاب پر ایمان رکھتے تھے اور دینِ ابراہیمی کے احکام کو مانتے تھے۔ ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں : لَمْ اَزَل اُنْقَلُ مِنْ اصْلابِ الطَّاهرينَ الٰى اَرْحَامِ الطَّاهِرَاتِ یعنی مَیں پاکیزہ پشتوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل ہوتا رہا۔[6]  اس حدیث پاک کے تحت علما فرماتے ہیں کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت آدم علیہ السّلام اور حضرت حوا سے لے کر آپ تک آپ کے سارے آباء و اجداد میں سے کوئی بھی کافر نہ تھا کیونکہ کافر کو پاکیزہ نہیں کہا جاسکتا۔[7] ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب اپنے نسب کا تذکرہ فرماتے تو حضرت عدنان تک بیان فرماتے۔ تمام محدثین ، سیرت نِگار اور علمائے اَنساب حضرت عدنان تک نسب نامہ پر اتفاق کرتے ہیں۔ یہ نسب یوں ہے : حضرت محمد ( رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم )  بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِمَناف بن قُصَی بن کِلاب بن مُرہ بن کَعب بن لُؤی بن غالب بن فِہر بن مالک بن نَضر بن کِنانہ بن خُزیمہ بن مُدرِکہ بن الیاس بن مُضَر بن نِزار بن مَعَد بن عدنان۔[8]

مختصر تذکرہ حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آباء و اجداد

ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پیدائش 12ربیعُ الاوّل مطابق 20اپریل571ء کو وادیِ بطحا مکہ شریف کے معزز ترین قبیلے قریش کے خاندان بنی ہاشم میں ہوئی۔ آپ کا نسب حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السّلام سے مل جاتا ہے۔ آپ وجۂ تخلیقِ کائنات ، محبوبِ خدا ، امامُ المُرسلین ، خاتمُ النَّبیّٖن اور کائنات کی اَکمل و اَجمل و مؤثر ترین شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ نے 40 سال کی عمر میں اعلانِ نبوت فرمایا۔ 13سال مکہ شریف اور 10سال مدینہ شریف میں دینِ اسلام کی دعوت دی۔ اللہ پاک نے آپ پر اپنی عظیم کتاب قراٰنِ کریم نازل فرمائی۔ آپ نے زندگی کے آخری سال حج فرمایا جس میں تقریباً ایک لاکھ 24ہزار صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم نے شرکت کی۔ آپ نے 12ربیعُ الاوّل 11ھ مطابق 12 جون632ء کو مدینۂ منوّرہ میں وصالِ ظاہری فرمایا۔ اللہ پاک کے آپ پر بے شمار دُرُود اور سلام ہوں۔[9]

 ( 1 ) حضرت عبداللہ

حضرت عبداللہ اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے ،  [10]   والد کے لاڈلے ، حسن و جمال ، حُسنِ اَخلاق اور شرم و حیا کے پیکر تھے۔ آپ کی والدہ حضرت  فاطمہ بنتِ عَمرو بن عائذ مَخْزومی ہیں۔[11]  آپ کے والد نے منت مانی کہ اللہ پاک نے مجھے دس بیٹے عطا کئے اور سب جوان ، صحت مند اور مددگار ہوئے تو مَیں ایک کو راہِ خدا میں قربان کروں گا۔ جب حضرت عبداللہ 18 ، 20 سال کے ہوئے تو آپ نے منت پوری کرنے کا ارادہ کیا۔ قرعہ اندازی ہوئی تو حضرت عبداللہ کا نام نکلا۔ آپ انہیں قربان کرنے لگے تو سردارانِ قریش رکاوٹ بن گئے اور حِجاز کی عَرافہ سے مشاورت کا طے ہوا۔ اس نے کہا کہ دس اونٹوں اور عبداللہ کے نام سے قرعہ اندازی کرو ، اگر اونٹوں کا قرعہ نکل آئے تو انہیں ذبح کردینا اور اگر عبداللہ کا نام نکل آئے تو دس اونٹوں کو مزید بڑھا دینا۔ اس کے مطابق عمل ہوا تو جب اونٹوں کی تعداد 100 ہوگئی تو اونٹوں کا قرعہ نکل آیا۔ حضرت عبدالمطلب نے 100 اونٹ ذبح کئے یوں حضرت عبداللہ کی جان بچی ، اس پر مکۂ مکرمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔[12]  اس واقعہ کے بعد والدِ مصطفےٰ حضرت عبداللہ کا لقب ”ذبیح“ ہوا۔ حضرت امیر ِمعاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عرب کے ایک دیہاتی نے بارگاہِ رِسالت میں حاضِر ہوکر کہا : یَا اِبْنَ الذَّبِیْحَیْن اے دو ( 2 )  ذبیحوں کے بیٹے ! رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہ سُن کر مسکرائے۔[13]ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خود بھی ارشاد فرمایا : میں دو ذبیحوں کا بیٹا ہوں یعنی اسماعیل  ( علیہ السّلام )  اور عبداللہ۔[14]

حضرت عبداللہ روشن و خوبصورت چہرے والے مکہ کے سب سے حسین نوجوان تھے ، کچھ عورتوں کی جانب سے آزمائش آئی مگر آپ اپنی پارسائی و شرافت کی حفاظت میں کامیاب ہوئے۔ آپ کا نکاح مکہ شریف کے معزز گھرانے بنو زہرہ کے سردار وہب بن عبدِ مَناف کی نہایت نیک و پارسا بیٹی حضرت آمنہ  [15]  سے ہوا ، جو اس وقت قریش کی عورتوں میں حسب و نسب میں سب سے افضل تھیں۔[16] شادی کے کچھ عرصہ بعد حضرت عبدالمطلب نے آپ کو ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام بھیجا ، وہاں آپ بیمار ہوگئے ، واپس جب مدینہ شریف پہنچ کر ننھیال بنو عَدی بن نَجّار میں قیام فرمایا تو بیماری طویل ہوگئی ، قافلے والے مکہ شریف آگئے مگر آپ وہاں ایک ماہ بیمار رہ کر وفات پاگئے۔اس وقت آپ کی عمر25سال تھی۔آپ کی تدفین مدینہ شریف کے محلے بنوعدی کے دارُالنّابِغہ میں کی گئی۔ ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان کی وفات کے وقت اپنی امی جان کے شکم میں تھے۔ حضرت عبداللہ نے اپنے تَرکے میں 5اونٹ ، چند بکریاں اور ایک حبشی نسل کی کنیز حضرت اُمِّ اَیمن بَرَکہ کو چھوڑا۔[17]

 ( 2 ) حضرت عبدالمطلب

حضرت عبدالمطلب کی پیدائش اپنے نانا ، قبیلہ خزرج کے سردار عَمرو بن زید بن لبید خَزْرَجِی کے ہاں مدینہ شریف  ( اس وقت اس کا نام یثرب تھا )  میں ہوئی۔ آپ کی والدہ سلمیٰ بنت عَمرو بن زید نَجّاری خَزْرَجِی ہیں۔[18]آپ کے سر میں کچھ سفیدبال تھے اس لیے نام شَیْبَۃ الحمد  ( وہ بوڑھے جن کی بڑائی و عظمت کی تعریف کی جائے )  رکھا گیا۔ آپ کی کنیت ابوالحارث اور ابوالبطحاء ہے۔ آپ نے بچپن کے سات سال مدینہ شریف میں گزارے۔[19]جب آپ سات سال کی عمرکو پہنچے تو ان کے چچا مطلب انہیں لے کر مکۂ مکرمہ آگئے ، جب کوئی پوچھتا تو آپ کہتے کہ یہ عبدِ مطلب  ( مطلب کا غلام )  ہے ، اس کے بعد آپ عبدالمطلب کے لقب سے ہی پکارے جانے لگے۔ جب آپ جوان ہوئے تو رِفادہ  [20]   اور سِقایہ  [21]   کے منصب آپ کو سونپ دئیے گئے۔  [22] حضرت عبدالمطلب طویل قد والے ، بہت خوبصورت ، قوی و مضبوط جسم کے مالک ، سنجیدہ و بردبار ، نہایت سخی اور ان تمام برائیوں سے پاک تھے جو مَردوں کو بگاڑنے والی ہیں۔[23]

آپ اپنی بلندہمتی ، خصائل حمیدہ ، جوانمردی اور جود و عطا کی وجہ سے اہلِ مکہ کی آنکھوں کے تارے تھے ، سرداروں والے تمام اوصاف آپ میں بدرجہ اتم موجود تھے۔ آپ کے چہرے سے نور کی کرنیں پھوٹتی تھیں ، نقش و نگار سے برکت کے آثار نمایاں ہوتے ، جسم سے مشک اذفر کی خوشبو آیا کرتی اور دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ انہوں نے اپنے اوپر شراب حرام کر رکھی تھی یعنی اسے ہرگز نہ پیتے جبکہ یہ عادت اہلِ مکہ میں عام تھی۔ حضرت عبدالمطلب بہت عبادت گزار تھے ، جیسے ہی رمضان کا چاند نظر آتا ، غارِ حراء میں عبادت کے لئے چلے جاتے۔ جب قحط سالی ہوجاتی تو لوگ آپ کے وسیلے سے دعا کرتے ، آپ کی برکت سے موسلا دھار بارش برسنے لگتی۔ آپ مسکینوں کو کھانا کھلاتے اور غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ اپنی اولاد کو وعظ و نصیحت کرتے ، انہیں ظلم سے باز رہنے کی تلقین کرتے ، حسن اخلاق سیکھاتے ، گھٹیا کام کرنے سے روکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی اولاد میں بھی یہ اوصاف موجود تھے۔[24]

آپ قریش میں بڑے مرتبہ و شان والے تھے۔ قوم آپ کی اطاعت کرتی اور آپ کی عزت و احترام کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتی تھی۔[25]  آپ کی سخاوت اور غریبوں اور بے کسوں کی مدد کی وجہ سے اہلِ قریش آپ کو الفیض  ( فیاض و سخی )  کے لقب سے پکارتے تھے۔[26]برسوں پہلے آبِ زَم زَم کا کنواں بند کردیا گیا تھا۔ اللہ پاک کی مدد و نصرت سے آپ نے اپنے بڑے بیٹے حارث کی مدد سے کھدائی کرکے اسے تلاش کرلیا۔[27]اللہ پاک نے آپ کو 13بیٹے عطا فرمائے جو بہادری میں لاجواب تھے۔ آپ کے دورِسرداری میں یمن کے عیسائی حکمران اَبرہہ نے صَنْعَا میں کلیسا بنوایا ، اسے سونے سے آراستہ کیا اور لوگوں کو اس کا حج کرنے اور طواف کرنے کی دعوت دی۔ ایک عربی نے اس میں بَول و بَراز کردیا ، جس کی وجہ سے اس کے دل میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھی اور وہ اپنے لشکر کے ہمراہ مکہ شریف پر حملہ آور ہوا ، اس لشکر میں ہاتھی بھی تھے اس لئے اس لشکر والوں کو اَصحابُ الفِیل کہا جاتا ہے۔ اہلِ مکہ آس پاس کے پہاڑوں پر چلے گئے مگر حضرت عبدالمطلب حرم شریف میں ہی رہے اور کعبہ شریف کے غلاف کو پکڑ کر دعا کی کہ اے میرے مولیٰ ! تو اپنے گھر کی حفاظت فرما۔ اللہ پاک نے سمندر کی جانب سے چھوٹے چھوٹے  ( اَبابیل )  پرندوں کا لشکر بھیجا جن کے پنجوں اور چونچوں میں پتھر تھے۔ انہوں نے یہ پتھر لشکر پر پھینکے جس سے یہ ہلاک ہوگیا۔[28]  رفادہ اور سقایہ کے منصب حضرت عبدالمطلب کے پاس تھے۔ آپ کی وفات کے بعد سقایہ کا منصب ابوطالب اور پھر حضرت عباس کے پاس آیا۔[29]

حضرت عبدالمطلب کا وصال نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عمر کے آٹھویں سال  ( 579ء )  میں ہوا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر 85 یا 120 سال تھی۔[30]  تدفین خاندانی دستور کے مطابق  

حَجُون  ( جنۃ المعلیٰ )  میں کی گئی۔ آپ کے 13 بیٹے اور 6 بیٹیاں تھیں۔ بیٹوں کے نام یہ ہیں : عبداللہ ، حمزہ ، عباس ، ابوطالب عبدِمناف ، زُبیر ، حارث ، غیداق ، ضِرار ، قُثَم ، مُقَوِّم ، حَجْل ، عبدالکعبہ ، ابولہب عبدالعُزّیٰ اور بیٹیوں کے نام یہ ہیں : صفیہ ، اُمِّ حکیم بَیضاء ، عاتکہ ، اُمَیمہ ، اَرویٰ اور بَرّہ تھے۔[31]

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلس شوریٰ   دعوتِ اسلامی



[1] ترمذی ، 5 / 351 ، حدیث : 3627- 5 / 314 ، حدیث : 3543

[2] مسلم ، ص962 ، حدیث : 5938

[3] معجم اوسط ، 4 / 376 ، حدیث : 6285

[4] فیض القدیر ، 2 / 294 ، تحت الحدیث : 1735

[5] بخاری ، 1 / 10 ، حدیث : 7

[6] روح المعانی ، جز7 ، 4 / 253- البحر المحیط ، 7 / 45- تفسیرِ کبیر ، 5 / 33

[7] السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 41

[8] بخاری ، 2 / 573

[9] مدارج النبوت ، 2 / 14-الجامع لاخلاق الراوی ، ص478-آخری نبی کی پیاری سیرت ، ص143تا145

  [10]  جب یہ نذر پوری کی گئی اس وقت آپ اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ بعد میں آپ کے دوبھائی حضرت حمزہ اور حضرت عباس رضی اللہُ عنہما پیدا ہوئے تھے۔ ( مواہب لدنیہ ، 1 / 58 )

[11] طبقات ابن سعد ، 1 / 53

[12] شرح الزرقانى على المواهب ، 1 / 174تا180 ملخصاً

[13] مستدرك للحاکم ، 3 / 424 ، حدیث : 4090

[14] شرف المصطفیٰ ، 2 / 74

  [15]  حضرت آمنہ کے والد وہب بن عبدمناف بن زہرہ بن کلاب ہیں۔ آپ کا شجرہ زہرہ بن کِلاب میں حضرت عبداللہ سے مل جاتا ہے۔ جبکہ حضرت آمنہ کی والدہ بَرّہ بنتِ عبدالعزی بن عثمان بن عبدالدار بن قصی ہیں۔ ان کا شجرہ عبدالدار بن قصی میں حضرت عبداللہ سے ملتاہے۔

 ( السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ، ص48 )

[16] السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ، ص65

[17] طبقات ابن سعد ، 1 / 79 ، 80 ، مواہب لدنیہ ، 1 / 63

[18] طبقات ابن سعد ، 1 / 53

[19] سبل الہدیٰ والرشاد ، 1 / 262

  [20]  رِفادہ : اس منصب کے تحت حاجیوں کو کھانا کھلانے اور ان کی حاجات پوری کرنے کی ذمّہ داری نبھائی جاتی تھی ، قریش اپنے اموال اس منصب پر فائز سردار قریش کو جمع کرواتے تھے۔ یہ منصب عبدِ مناف پھر ہاشم پھر عبدالمطلب پھر ابوطالب اور پھر حضرت عباس اور ان کی اولاد کو حاصل رہا۔ خلفائے راشدین کے دور میں بھی بنو عباس کو یہ منصب حاصل رہا۔ ( السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 25 )

  [21]  سِقایہ : اس منصب کے تحت حاجیوں کو پانی پلایا جاتا تھا۔ یہ منصب عبدمناف پھر ہاشم پھر مطلب کے پاس رہا۔ جب حضرت عبدالمطلب جوان ہوئے تو چچا نے یہ منصب ان کے حوالے کردیا ، ان کے چچا نوفل نے ان سے یہ منصب لے لیا مگر انہوں اپنے ننھال بنوعدی بن نجار کی مدد سے واپس لے لیا۔ پھر یہ ابوطالب اور اس کے بعد حضرت عباس کے پاس چلاگیا۔ ( السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 25 ، 26ملخصاً )

[22] السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 25 ، 30

[23] طبقات ابن سعد ، 1 / 66ماخوذاً

[24] السیرۃ النبویۃ لدحلان ، 1 / 30 ، 31ماخوذاً

[25] السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ، ص60

[26] طبقات ابن سعد ، 1 / 66

[27] طبقات ابن سعد ، 1 / 68

[28] تفسیرخازن ، 4 / 407تا410ماخوذاً- المورد الروی لملا قاری ، ص70

[30] سبل الہدیٰ والرشاد ، 1 / 267

[31] شرح الزرقانی علی المواھب ، 4 / 264 ، 265 ، 488


Share