- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
فضائل کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھر میں لیٹے تھے اپنی رانیں یا اپنی پنڈلیاں کھولے ۱؎تو جناب ابوبکر نے اجازت مانگی انہیں اجازت دی اسی حالت پر انہوں نے کچھ بات چیت کی،پھر حضرت عمر نے اجازت مانگی انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی ۲؎پھر انہوں نے بھی بات چیت کی،پھر جناب عثمان نے اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلیے ۳؎جب وہ چلے گئے تو جناب عائشہ نے کہا کہ جناب ابوبکر آئے آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر عمر آگئے تو آپ نے ان کے لیے نہ تو جنبش کی اور نہ ان کی پرواہ کی پھر جناب عثمان آئے پھر تو آپ بیٹھ گئے ۴؎اور اپنے کپڑے درست کرلیے تو فرمایا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ۵؎اور ایک روایت میں ہے کہ جناب عثمان شرمیلے آدمی ہیں مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے انہیں اسی حالت پر اجازت دے دی تو وہ مجھ تک اپنی حاجت نہ پہنچاسکیں گے۶؎(مسلم)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهٖ كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ - أَوْ سَاقَيْهِ - فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهٗ وَهُوَ عَلٰى تِلْكَ الْحَالِ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهٗ وَهُوَ كَذٰلِكَ فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوّٰى ثِيَابَهٗ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهٗ وَلَمْ تُبَالِهٖ ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهٗ وَلَمْ تُبَالِهٖ ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَان فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ فَقَالَ: «أَلَا أَسْتَحَيِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْيِيمِنْهُ الْمَلَائِكَةُ؟»وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهٗ عَلٰى تِلْكَ الْحَالَةِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهٖ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6069 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے حضرت طلحہ ابن عبید اللہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کا کوئی ساتھی ہوتاہے میرے ساتھی یعنی جنت میں عثمان ہیں ۱؎(ترمذی)
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللّٰهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ وَرَفِيقِي يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ عُثْمَانُ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6070 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
اور ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے اس کی اسناد قوی نہیں ۱؎اور یہ منقطع ہے ۲؎
وَرَاه ابْنُ مَاجَهْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَاحَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6071 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن خباب سے فرماتے ہیں ۱؎کہ میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ عسرت کے لشکر پر رغبت دے رہے تھے۲؎تو جناب عثمان کھڑے ہوکر بولے یا رسول الله میرے ذمہ الله کی راہ میں سو اونٹ ان کے کمبل اور پلان کے ساتھ۳؎حضور نے اس لشکر کے متعلق پھر رغبت دی پھر جناب عثمان کھڑے ہوگئے عرض کیا میرے ذمہ دو سو اونٹ ہیں مع ان کے کمبل کے اور پلان کے حضور نے پھر رغبت دلائی تو عثمان کھڑے ہوگئے بولے میرے ذمہ الله کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ان کے کمبل و پالان کے۴؎تو میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ حضور انور منبر سے اتر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اب اس کے بعد عثمان پر کوئی گناہ نہیں وہ جو بھی کریں اس کے بعد عثمان پر کوئی گناہ نہیں وہ جو بھی کر یں۵؎(ترمذی)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ خَبَّابٍ قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلٰى جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: يَا رَسُول الله عَلَيَّ مِائَۃُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ حَضَّ عَلَى الجَيْشِ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ ثُمَّ حَضَّ فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: عَلَيَّ ثَلَاثُمِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: «مَا عَلٰى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهٖ مَا عَلٰى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هٰذِهٖ». رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6072 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے عبدالرحمان ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ عثمان نے جب لشکر عسرت کو سامان دیا تو اپنی آستین میں ہزار اشرفیاں لائے انہیں حضور کی گود میں ڈال دیا ۱؎میں نے نبی صلی الله علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ اپنی گود میں الٹ پلٹ رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی عمل جو وہ کریں نقصان نہ دے گا۲؎(احمد)
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ فِي كُمِّهٖ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَنَثَرَهَا فِي حِجْرِهٖ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهٖ وَيَقُولُ: «مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ» مرَّتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمدُ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6073 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ جب رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے بیعت الرضوان کا حکم دیا تو عثمان رسول الله صلی الله علیہ و سلم کے قاصد تھے ۱؎مکہ کی طرف حضور نے لوگوں سے بیعت لی۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ عثمان الله کے اور اس کے رسول کے کام میں گئے ہیں۳؎پھر حضور نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک ہاتھ دوسرے پر رکھا تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم کا ہاتھ عثمان کے لیے ان کے ہاتھ سے بہتر ہوگیا جو ان کے اپنے لیے تھا۴؎(ترمذی)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ رَسُولَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى مَكَّةَ فَبَايَعَ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللّٰهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ» فَضَرَبَ بِإِحْدٰى يَدَيْهِ عَلَى الأُخْرٰى فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيْهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6074 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے حضرت ثمامہ ابن حزن قشیری سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں دار کے دن حاضر تھا۲؎جب کہ ان پر حضرت عثمان نے جھانکا فرمایا میں تم کو الله اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مدینہ میں تشریف لائے یہاں سوا رومہ کنویں کے میٹھا پانی نہ تھا ۳؎تو فرمایا کہ کون رومہ کنواں خریدے اوراپنا ڈول مسلمانوں کے ڈولوں کے ساتھ کردے بعوض جنت کی اس نعمت کے جو اس سے اچھی ہے ۴؎تو اسے میں نے اپنے ذاتی مال سے خرید لیا ۵؎اور تم آج مجھے اس کا پانی پینے سے روکتے ہو حتی کہ میں سمندر کا پانی پی رہا ہوں ۶؎لوگ بولے ہاں ضرور پھر فرمایا کہ میں تم کو الله اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ مسجد نمازیوں پر تنگ ہوگئی تھی تو رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ آل فلاں کا علاقہ کون خریدے گا کہ اسے مسجد میں بڑھا دے جنت کی اس نعمت کی عوض جو اس سے بہتر ہے میں نے اسے اپنے ذاتی مال سے خرید لیا ۷؎مگر تم آج مجھے اس میں دو رکعت پڑھنے سے روکتے ہو ۸؎لوگ بولے ہاں ضرور انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو الله تعالٰی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے مال سے تنگی والے لشکر کو سامان دیا ۹؎لوگ بولے ہاں ضرور فرمایا میں تم کو الله تعالٰی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم مکہ معظمہ کے ثبیر پہاڑ پر تھے۱۰؎اور حضور کے ساتھ ابوبکر اور عمر اور میں تھا تو پہاڑ ہلا ۱۱؎حتی کہ اس کے پتھر نیچے گر گئے ۱۲؎تو اسے حضور نے اپنے پاؤں سے ایڑی ماری فرمایا اے ثبیر ٹھہر جا ۱۳؎کہ تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۱۴؎لوگ بولے ہاں ضرور ۱۵؎آپ نے فرمایا الله اکبر قسم رب کعبہ کی انہوں نے گواہی دے دی میں شہید ہوں یہ تین بار کہا ۱۶؎(ترمذی،نسائی، دار قطنی)
وَعَن ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرُ بِئْرِ رُومَةَ؟ فَقَالَ: «مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ يَجْعَلُ دَلْوَهٗ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهٗ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتّٰى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ قَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهٖ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِد بِخَير مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ؟» . فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونَنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللهَ وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي؟ قَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: أَنْشُدُكُمُ بِاللَّه وَالْإِسْلَامَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلٰى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهٗ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتّٰى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهٗ بِالْحَضِيضِ فَرَكَضَهٗ بِرِجْلِهٖ قَالَ: « اُسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ».قَالُوا: اللّٰهُمَّ نَعَمْ. قَالَ: اللّٰهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ ثَلَاثًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارَقُطْنِيّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6075 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے حضرت مرہ ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو سنا جب کہ آپ نے فتنوں کا ذکر کیا اور انہیں بہت قریب بتایا ۱؎تو ایک شخص چادر پوش گزرا تو فرمایا کہ اس دن یہ ہدایت پر ہوگا۲؎میں اس شخص کی طرف اٹھا تو وہ عثمان ابن عفان تھے،فرماتے ہیں کہ میں نے ان کا چہرہ حضور کے سامنے کیا اور کہا کہ کیا یہ فرمایا ہاں (ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی۔
وَعَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ الْفِتَنَ فَقَرَّبَهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: «هٰذَايَوْمئِذٍ عَلَى الْهُدٰى» فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.قَالَ:فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ. فَقُلْتُ: هٰذَا ؟ قَالَ: « نَعَمْ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6076 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اے عثمان ممکن ہے ۱؎کہ الله تعالٰی تم کو ایک قمیض پہنائے تو اگر لوگ تم سے اس کا اتار دینا چاہیں تو تم ان کی وجہ سے اسے مت اتارنا۲؎(ترمذی، ابن ماجہ)ترمذی نے فرمایا کہ اس حدیث میں بڑا قصہ ہے۳؎
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا عُثْمَانُ إِنَّهٗ لَعَلَّ اللّٰهَ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا فَإِنْ أَرَادُوكَ عَلٰى خَلْعِهٖ فَلَا تَخْلَعْهُ لَهُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ فِي الحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6077 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک فتنہ کا ذکر کیا ۱؎تو جناب عثمان کے لیے فرمایا کہ یہ اس میں مظلوم قتل کیے جائیں گے۲؎(ترمذی(اور کہا کہ یہ حدیث اسناد میں حسن بھی ہے غریب بھی۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَقَالَ: «يُقْتَلُ هٰذَافِيهَا مَظْلُومًا» لِعُثْمَانَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6078 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے ابوسہلہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ مجھے دار کے دن جناب عثمان نے فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے مجھ سے ایک عہد کیا ہے میں اس پر صابر ہوں۲؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی۔
وَعَنْ أَبِي سَهْلَةَ قَالَ: قَالَ لِي عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6079 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے حضرت عثمان ابن عبدالله ابن موہب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک مصری آدمی بیت الله کے ارادے سے آیا تو اس نے ایک قوم کو بیٹھا ہوا دیکھا بولا یہ قوم کون ہے لوگوں نے کہا یہ قریش ہیں بولا ان میں سردار کون ہے لوگ بولے کہ حضرت عبدالله ابن عمر ہیں ۲؎وہ بولا اے ابن عمر میں آپ سے ایک چیز کے متعلق پوچھتا ہوں آپ مجھے خبر دیں۳؎کیا آپ جانتے ہیں کہ عثمان احد کے دن فرار ہوگئے تھے۴؎آپ نے فرمایا ہاں،بولا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ بدر سے غائب رہے تھے وہاں حاضر نہیں ہوئے تھے فرمایا ہاں،بولا کیا آپ جانتے ہیں کہ بیعت الرضوان سے بھی غائب رہے ۵؎اس میں حاضر نہ ہوئے فرمایا ہاں وہ بولا الله اکبر ۶؎حضرت ابن عمر نے فرمایا آ میں تجھے بتاؤں ۷؎احد کے دن آپ کے قدم اکھڑ جانا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ الله نے انہیں معاف فرمادیا ۸؎رہا ان کا بدر سے غائب رہنا تو ان کے نکاح میں رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی دختر رقیہ تھیں اور وہ تھیں بیمار ان سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم کو اس غازی کا ثواب اور حصہ ملے گا جو بدر میں حاضر ہوا ۹؎رہا ان کا بیعت الرضوان سے غائب رہنا تو اگر کوئی اور شہر مکہ میں عثمان سے زیادہ باا ثر ہوتا تو اسے رسول الله صلی الله علیہ و سلم بھیجتے ۱۰؎حضور نے جناب عثمان کو وہاں بھیجا اور بیعت الرضوان ان کے جانے کے بعد ہوئی رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے اپنے داہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے۱۱؎پھر اسے آپ نے دوسرے ہاتھ پر رکھا اور فرمایا کہ یہ بیعت عثمان کی ہے ۱۲؎پھر حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ اب اسے تو اپنے ساتھ لیتا جا ۱۳؎(بخاری)
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ يُرِيدُ حَجَّ الْبَيْتِ فَرَأٰى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: هَؤُلَاءِ قُرَيْشٌ. قَالَ فَمَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ؟ قَالُوا: عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عُمَرَ. قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهٗ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ وَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَنَّهٗ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ؟ قَالَ: اللّٰهُ أَكْبَرُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ أَمَّا فِرَارُهٗ يَوْمَ أُحُدٍ فَأَشْهَدُ أَنَّ اللّٰهَ عَفَا عَنْهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهٗ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهٗ كَانَتْ تَحْتَهٗ رُقَيَّةُ بِنْتُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ» . وَأَمَّا تَغَيُّبُهٗ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهٗ فَبَعَثَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلٰى مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنٰى: «هَذِهٖ يَدُ عُثْمَانَ» فَضَرَبَ بِهَا عَلٰى يَدِهٖ وَقَالَ: «هَذِهٖ لِعُثْمَانَ». فَقَالَ لَهٗ ابْنُ عُمَرَ: اذْهَبْ بِهَا الْآنَ مَعَكَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6080 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے حضرت عثمان کے مولٰی ابو سہلہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ و سلم حضرت عثمان سے کچھ چپکے سے کہنے لگے اور حضرت عثمان کا رنگ بدلنے لگا۲؎پھر جب دار والا دن آیا تو ہم نے کہا کہ کیا ہم جنگ نہ کریں فرمایا نہیں مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے ایک عہد لیا ہے میں اس پر اپنے کو قائم رکھے ہوئے ہوں۳؎
وَعَنْ أَبِي سَهْلَةَ مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ: جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ إِلٰى عُثْمَانَ وَلَوْنُ عُثْمَانَ يَتَغَيَّرُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ قُلْنَا: أَلَا نُقَاتِلُ؟ قَالَ:لَا أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ أَمْرًا فَأَنَا صَابِرٌ نَفسِيْ عَلَيْهِ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6081 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
روایت ہے حضرت ابوحبیبہ سے ۱؎کہ وہ حضرت عثمان کے گھر گئے جب عثمان اس میں محصور تھے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ کو سنا کہ وہ حضرت عثمان سے گفتگو کرنے کی اجازت مانگ رہے تھے ۲؎آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ کھڑے ہوئے ۳؎الله کی حمد و ثنا کی پھر کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم میرے بعد فتنہ اور اختلاف دیکھو گے یا فرمایا کہ اختلاف اور فتنہ۴؎تو لوگوں میں سے ہی کسی کہنے والے نے کہا کہ اس وقت ہمارا کون ہوگا یا اس وقت آپ ہم کو کیا حکم دیتے ہیں فرمایا تم اس اسیر کو اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا اور آپ حضرت عثمان کی طرف اشارہ کرتے تھے۵؎(بیہقی دلائل النبوۃ)
وَعَنْ أَبِيْ حَبِيْبَةَ أَنَّهٗ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا وَأَنَّهٗ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ فَأَذِنَ لَهٗ فَقَامَ فَحَمِدَ اللّٰهَ وَأَثْنٰى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً فَقَالَ لَهٗ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ أَوْ مَا تَأْمُرُنَا بِهِ؟ قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَمِيرِ وَأَصْحَابِهِ»وَهُوَ يُشِيرُ إِلٰى عُثْمَانَ بِذٰلِكَ. رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيّ فِي «دَلَائِل ِالنُّبُوَّةِ»
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 6082 ، باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ