باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میرے بہت نام ہیں میں محمد ہوں ۱؎میں احمد ہوں۲؎محو کرنے والا ہوں کہ اللہ میرے ذریعہ کفر کو محو فرمائے گا۳؎اور میں جامع ہوں کہ لوگ میرے قدموں پر جمع کیے جائیں گے۴؎اور میں عاقب ہوں،عاقب وہ ہے جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ۵؎(مسلم،بخاری)

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إنَّ لِي أَسْمَاءً: أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَنَا أَحْمَدُ وَأَنَا الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللّٰهُ بِي الْكُفْرَ وَأَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلٰى قَدَمِي وَأَنَا الْعَاقِبُ ". وَالْعَاقِبُ: الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهٗ شَيْءٌ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5776 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اپنے نام پاک بتاتے تھے فرماتے تھے کہ میں محمد ہوں میں احمد ہوں ۱؎مقفی ہوں۲؎میں حاشر ہوں میں توبہ کا نبی ہوں۳؎میں رحمت کا نبی ہوں۴؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّي لَنَا نَفْسَهٗ أَسْمَاءً فَقَالَ: «أَنَا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ وَالْمُقَفِّي وَالْحَاشِرُ وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5777 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم تعجب نہیں کرتے کہ اللہ نے کس طرح مجھ سے قریش کی گالیوں،ان کے لعن کو پھیر دیا وہ تو مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور مذمم پر لعن طعن کرتے ہیں ہم تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۱؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللّٰهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ؟ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5778 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پاک اور ڈاڑھی شریف کا اگلا حصہ کھچڑی تھا ۱؎اور جب آپ تیل لگاتے تو ظاہر نہ ہوتا تھا اور بال بکھرےہوتے تو ظاہر ہوتا ۲؎ڈاڑھی شریف میں بہت بال تھے ۳؎تو ایک آدمی بولا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور تلوار کی طرح تھا۴؎فرمایا نہیں بلکہ سورج اور چاند جیسا تھا ۵؎اور قدرے گول ۶؎اور میں نے مہر نبوت کو آپ کے کندھے شریف کے پاس دیکھا کبوتری کے انڈے کی طرح تھی جسم اطہر کے ہم رنگ تھے۷؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهٖ وَلِحْيَتِهٖ وَكَانَ إِذَا ادَّهَنَ لَمْ يَتَبَيَّنْ وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهٗ تَبَيَّنَ وَكَانَ كَثِيرَ شَعْرِ اللِّحْيَةِ فَقَالَ رَجُلٌ: وَجْهُهٗ مِثْلُ السَّيْفِ؟ قَالَ: لَا بَلْ كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَكَانَ مُسْتَدِيرًا وَرَأَيْتُ الْخَاتَمَ عِنْدَ كَتِفِهٖ مِثْلَ بَيْضَة الْحَمَامَةِ يُشْبِهُ جَسَدَهٗ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5779 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن سرجس سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی یا فرمایا ثرید کھایا ۱؎پھر میں آپ کے پیچھے مڑ گیا تو میں نے حضور کی مہر نبوت دیکھی جو آپ کے دو کندھوں کے بیچ بائیں کندھے کی گھنڈی کے پاس تھی۲؎اکٹھی تھی جس پر کھرنڈ کی طرح تل تھے۳؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْتُ مَعَهٗ خُبْزًا وَلَحْمًا أَوْ قَالَ: ثَرِيدًا ثُمَّ دُرْتُ خَلْفَهٗ فَنَظَرْتُ إِلٰى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ عِنْدَ نَاغِضِ كَتِفِهِ الْيُسْرٰى جُمْعًا عَلَيْهِ خِيْلَانٌ كَأَمْثَالِ الثَّآلِيلِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5780 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے جناب ام خالد بنت خالد ابن سعید سے ۱؎فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے لائے گئے جن میں کالی چھوٹی سی کملی بھی تھی ۲؎تو فرمایا ام خالد کو لاؤ چنانچہ انہیں لایا گیا گود میں اٹھا کر۳؎تو حضور نے وہ کملی اپنے ہاتھ میں لی انہیں پہنائی فرمایا پرانی کرو اور پھاڑو پھر پرانی کرو اور پھاڑو ۴؎اس میں ہرے یا پیلے بیل بوٹے تھے تو فرمایا اے ام خالد یہ بہت اچھے ہیں،سناہ حبشی زبان میں اچھے کو کہتے ہیں ۵؎فرماتی ہیں میں حضور کی مہر نبوت سے کھیلنے لگی۶؎تو مجھے میرے والد نے ڈانٹا ۷؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو ۸؎(بخاری)

وَعَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثِيَابٍ فِيهَا خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ صَغِيرَةٌ فَقَالَ: «ائْتُونِي بِأُمِّ خَالِدٍ» فَأُتِيَ بِهَا تُحْمَلُ فَأَخَذَ الْخَمِيصَةَ بِيَدِهٖ فَأَلْبَسَهَا. قَالَ: «أَبْلِي وَأَخْلِقِي ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِقِي» وَكَانَ فِيهَا عَلَمٌ أَخْضَرُ أَوْ أَصْفَرُ. فَقَالَ: «يَا أُمَّ خَالِدٍ هٰذَاسِنَاهْ» وَهِيَ بِالْحَبَشِيَّةِ: حَسَنَةٌ. قَالَتْ: فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَزَبَرَنِي أَبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "دَعْهَا" رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5781 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے ۱؎اور نہ بالکل پست قد۲؎اور نہ خالص سفید رنگ تھے ۳؎اور نہ گندمی رنگ نہ تو چھلے دار بالوں والے تھے اور نہ بالکل سیدھے بال والے۴؎اللہ نے انہیں نبی بھیجا سرے پر چالیس سال کی عمر شریف کے ۵؎مکہ میں دس سال رہے اور مدینہ میں دس سال ۶؎اللہ نے آپ کو وفات دی ساٹھ سال کے کنارے پر۷؎اس وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہ تھے ۸؎اور ایک روایت میں انس رضی اللہ عنہ حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ شریف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ قوم میں درمیانہ قد تھے نہ بہت دراز اور نہ پست قد ۹؎چمکدار رنگت ۱۰؎اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال شریف آپ کے آدھے کانوں تک تھے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان تھے ۱۱؎(مسلم،بخاری)اور بخاری کی روایت میں ہے کہ انس نے کہا کہ حضور بھاری سر۱۲؎اور بھاری قدم والے تھے۱۳؎میں نے آپ جیسا حسین نہ آپ کے بعد دیکھا نہ آپ سے پہلے۱۴؎آپ کشادہ ہتھیلی تھے۱۵؎بخاری کی دوسری روایت میں ہے کہ حضور بھاری قدم بھاری ہاتھوں والے تھے ۱۶؎

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ وَلَا بِالْقَصِيرِ وَلَيْسَ بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ وَلَا بِالْآدَمِ وَلَيْسَ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ بَعَثَهُ اللّٰهُ عَلٰى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ وَبِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللّٰهُ عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً وَلَيْسَ فِي رَأْسِهٖ وَلِحْيَتِهٖ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ وَفِي رِوَايَةٍ يَصِفُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ أَزْهَرَ اللَّوْنِ. وَقَالَ: كَانَ شَعْرُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلٰى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَفِي رِوَايَةٍ: بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: كَانَ ضَخْمَ الرَّأْسِ وَالْقَدَمَيْنِ لَمْ أَرَ بَعْدَهٗ وَلَا قَبْلَهٗ مِثْلَهٗ وَكَانَ سَبْطَ الكفَّينِ.وَفِي أُخْرٰى لَهٗ قَالَ:كَانَ شَثْنَ الْقَدَمَيْنِ وَالْكَفَّيْنِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5782 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد تھے ۱؎دو کندھوں کے درمیان فاصلے والے۲؎آپ کے بال آپ کے کانوں کی گدیوں تک تھے۳؎میں نے آپ کو سرخ جوڑے میں دیکھا آپ سے اچھا میں نے کبھی کوئی نہ دیکھا ۴؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا میں نے زلفوں ۵؎والا سرخ جوڑا پہنے کوئی ایسا حسین نہ دیکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین ہو آپ کے بال آپ کے کندھوں کو چھوتے تھے ۶؎دوکندھوں کے درمیان فاصلہ والے نہ تو دراز قد تھے نہ پستہ قد ۷؎

وَعَنِ الْبَرَّاءِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْبُوعًا بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَهٗ شَعْرٌ بَلَغَ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ رَأَيْتُهٗ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرُهٗ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بُعَيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5783 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت سماک ابن حرب سے ۱؎وہ حضرت جابر ابن سمرہ سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کشادہ منہ والے۲؎سرخ و سفید آنکھ والے پتلی ایڑیوں والے تھے۳؎سماک سے پوچھا گیا کہضلیع الفمکیا چیزہے فرمایا کشادہ منہ۴؎کہا گیا کہاشکل العینکیا ہے فرمایا آنکھ کی لمبائی دراز ۵؎کہا گیا کہمنھوش العقبینکیا ہیں فرمایا ایڑی شریف پر گوشت تھوڑا ۶؎(مسلم)

وَعَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبَيْنِ قِيلَ لَسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ؟ قَالَ: عَظِيمُ الْفَمِ. قِيلَ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ. قِيلَ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبَيْنِ؟ قَالَ: قَلِيْلُ لَحْم الْعَقِبِ.رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5784 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے حضور گورے نمکین حسن والے میانہ قد تھے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقَصَّدًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5785 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت ثابت سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت انس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا ۲؎تو فرمایا کہ اس حد کو نہ پہنچے کہ خضاب لگاتے ۳؎میں اگر چاہتا تو آپ کے سفید بال جو داڑھی شریف میں تھے گن لیتا ۴؎اور ایک روایت میں ہے کہ اگر میں ان سفید بالوں کو گننا چاہتا جو آپ کے سر شریف میں تھے تو ایسا کرلیتا ۵؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے فرمایا کہ کچھ سفیدی آپ کی ریش بچی اور کنپٹیوں میں تھی اور سر شریف میں کچھ معمولی سا حصہ ۶؎

وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ رَسُول الله صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّهٗ لَمْ يَبْلُغْ مَا يُخْضَبُ لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتِهٖ فِي لِحْيَتِهٖ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَفِي رِوَايَةٍ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأْسِهٖ فَعَلْتُ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5786 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چمکدار رنگت والے تھے آپ کا پسینہ گویا موتی تھا ۱؎جب چلتے تو طاقت سےچلتے تھے ۲؎اور میں نے موٹا باریک ریشم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ شریف سے زیادہ نرم نہ چھوا ۳؎اور نہ مشک و عنبر سونگھا جو حضور انور کی مہک سے زیادہ خوشبودار ہو ۴؎(بخاری مسلم)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ كَانَ عَرَقُهُ اللُّؤْلُؤُ إِذَا مَشٰى تَكَفَّأَ وَمَا مَسَسْتُ دِيبَاجَةً وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شمَمتُ مِسْكًا وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5787 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت ام سلیم سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لاتے تھے تو ان کے پاس قیلولہ کرتے تھے۲؎وہ حضور کے لیے چمڑے کا بستر بچھادیتی تھیں ۳؎حضور اس پر آرام کرتے تھے حضور کو پسینہ بہت آتا تھا۴؎تو وہ حضور کا پسینہ جمع کرلیتی تھیں ۵؎اسے خوشبو میں ڈال لیتی تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ام سلیم یہ کیا ہے بولیں حضور آپ کا پسینہ ہے جسے ہم اپنی خوشبو میں ڈال لیتے ہیں یہ بہترین خوشبو ہے ۶؎اور ایک روایت میں ہے کہ بولیں یارسول اللہ ہم اس کی برکت کی اپنے بچوں کے لیے امیدکرتے ہیں ۷؎فرمایا تم ٹھیک کرتی ہو ۸؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا فَتَبْسُطُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهٗ فَتَجْعَلُهٗ فِي الطِّيبِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هٰذَا ؟» قَالَتْ: عَرَقُكَ نَجْعَلُهٗ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ نَرْجُو بَرَكَتَهٗ لِصِبْيَانِنَا قَالَ: «أَصَبْتِ» . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5788 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پہلی نماز پڑھی۲؎پھر اپنے گھر کی طرف چلے میں حضور کے ساتھ چلا آپ کے سامنے بچے آئے تو آپ ان میں سے ہر ایک کے رخساروں پر ہاتھ پھیرنے لگے ایک ایک کے۳؎رہا میں تو حضور نے میرے رخساروں پر ہاتھ پھیرا تو میں نے آپ کے ہاتھ کی ٹھنڈک پائی اور خوشبو۴؎گویا عطار کے ڈبہ سے نکالا ہے ۵؎(مسلم)اور حضرت جابر کی حدیثسموا باسمیناموں کے باب میں ذکر کی گئی اور سائب ابن یزید کی حدیث کہ میں نے مہر نبوت دیکھی پانیوں کے احکام کے باب میں بیان کی گئی ۶؎

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولٰى ثُمَّ خَرَجَ إِلٰى أَهْلِهٖ وَخَرَجْتُ مَعَهٗ فَاسْتَقْبَلَهٗ وِلْدَانٌ فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي فَوَجَدْتُ لِيَدِهٖ بَرْدًا أَو رِيحًا كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَذَكَرَ حَدِيثَ جَابِرٍ: «سَمُّوا بِاسْمِي» فِي «بَابِ الْأَسَامِي»وَ حَدِيثُ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: نَظَرْتُ إِلٰى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ فِي "بَابِ أَحْكَامِ الْمِيَاهِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5789 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت علی ابن ابی طالب سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو بہت دراز قد تھے ۱؎اور نہ پستہ قد بڑے سر اور داڑھی والے۲؎موٹی ہتھیلیاں اور موٹے قدم ۳؎سرخی پلائے ہوئے ۴؎موٹے جوڑوں والے۵؎دراز بالوں کی ڈوری ۶؎جب چلتے تو قوت سے چلتے گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں ۷؎میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مثل نہ تو آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد ۸؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث حسن بھی ہے صحیح بھی۔

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ، ضَخْمَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيِةِ شَثْنَ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ مُشْرَبًا حُمْرَةً ضَخْمَ الْكَرَادِيسِ طَوِيلَ المَسْرُبَةِ إِذا مَشٰى تَكَفَّأ تَكَفُّؤًا كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ مِنْ صَبَبٍ لَمْ أَرَ قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ مِثْلَهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5790 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے انہیں سے کہ آپ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ شریف بیان کرتے تو فرماتے تھے ۱؎کہ نہ تو آپ بہت ہی دراز قد تھے اور نہ بہت ہی پستہ قد ۲؎قوم میں درمیانہ قد تھے اور نہ تو آپ چھلے والے گھونگر بال تھے اور نہ بالکل سیدھے بال والے آپ کے بال خمدار تھے۳؎اور نہ آپ بہت موٹے تھے۴؎نہ بالکل گول چہرے والے آپ کے چہرے میں قدرے گولائی تھی سفید رنگ تھے سرخی پلائی ہوئی خوب کالی آنکھیں دراز پلک ۵؎موٹی ہڈیوں والے موٹے کندھوں والے ۶؎جسم شریف صاف ۷؎بالوں کی باریک ڈوری موٹی ہتھیلیاں موٹے موٹے قدم جب چلتے تو پوری طاقت سے چلتے گویا آپ گہرائی میں اُتر رہے ہیں ۸؎اور جب اِدھر اُدھر توجہ کرتے تو پوری توجہ کرتے ۹؎آپ کے کندھوں کے بیچ مہر نبوت تھی اور آپ خاتم النبیین ہیں ۱۰؎لوگوں میں سخی دل لوگوں میں بہت سچی بات والے ان میں نہایت نرم طبیعت والے اور ان میں بہت اچھے برتاؤ والے تھے۱۱؎جو آپ کو اچانک دیکھتا تو آپ سے ہیبت کرتا اور جو آپ سے خلا ملا کرتا جان کر تو آپ سے محبت کرتا۱۲؎آپ کا نعت گو کہتا تھا کہ میں نے آپ کی مثل نہ آپ کے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد صلی اللہ علی وسلم۱۳؎(ترمذی)

وَعَنْهُ كَانَ إِذَا وَصَفَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَمْ يَكُنْ بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَلَا بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبْعَةً مِنَ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلًا وَلَمْ يَكُنْ بِالْمُطَهَّمِ وَلَا بِالْمُكَلْثَمِ وَكَانَ فِي الْوَجْهِ تَدْوِيرٌ أَبْيَضُ مُشْرَبٌ أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ أَهْدَبُ الْأَشْفَارِ جَلِيلُ الْمَشَاشِ وَالْكَتَدِ أَجْرَدُ ذُو مَسْرُبةٍ شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ إِذَا مَشٰى يَتَقَلَّعُ كَأَنَّمَا يَمْشِي فِي صَبَبٍ وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ مَعًا بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ أَجْوَدُ النَّاسِ صَدْرًا وَأَصْدَقُ النَّاسِ لَهْجَةً وَأَلْيَنُهُمْ عَرِيكَةً وَأَكْرَمُهُمْ عَشِيرَةً مَنْ رَآهُ بَدِيهَةً هَابَهٗ وَمَنْ خَالَطَهٗ مَعْرِفَةً أَحَبَّهٗ يَقُولُ نَاعِتُهُ: لَمْ أَرَ قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ مِثْلَهٗ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5791 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چلتے تھے کوئی راستہ پھر پیچھے آتا کوئی ۱؎مگر وہ پہچان جاتا تھا کہ یہاں سے حضور گزر رہے ہیں آپ کی اعلٰی مہک کی وجہ سے یا کہا آپ کے پسینہ کی خوشبو سے ۲؎(دارمی)

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْلُكْ طَرِيقًا فَيَتْبَعُهٗ أَحَدٌ إِلَّا عَرَفَ أَنَّهٗ قَدْ سَلَكَهٗ مِنْ طِيبِ عَرْفِهٖ أَوْ قَالَ: مِنْ رِيحِ عَرَقِهٖ رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5792 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت عبیدہ ابن محمد ابن عمار ابن یاسر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے جناب ربیع بنت معوذ ابن عفراء سے کہا کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ شریف سنائیے ۲؎وہ بولیں اے میرے بچے اگر تم حضور کو دیکھتے تو چمکتا ہوا سورج دیکھتے ۳؎(دارمی)

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قُلْتُ لِلرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ: صِفِي لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ لَوْ لَوْ رَأَيتَهٗ رَأَيْتَ الشَّمْسَ طَالِعَةً. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5793 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چاندنی رات میں دیکھا۲؎تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور چاند کو دیکھنے لگا۳؎آپ پر سرخ جوڑا تھا۴؎میری نظر میں حضور چاند سے زیادہ حسین تھے ۵؎(ترمذی،دارمی)

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ إِضْحِيَانٍ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى القَمَرِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ فَإِذَا هُوَ أَحْسَنُ عِنْدِي مِنَ الْقَمَرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5794 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی چیز ۱؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین نہ دیکھی۲؎گویا سورج آپ کے چہرے میں گردش کررہاہے ۳؎اور میں نے کوئی شخص نہ دیکھا جو اپنی رفتار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تیز ہو۴؎گویا آپ کے لئے زمین لپٹی جاتی تھی ۵؎ہم تو اپنی جانوں کو مشقت میں ڈال دیتے تھے اور آپ پر واہ نہ فرماتے تھے ۶؎(ترمذی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهٖ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهٖ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوٰى لَهٗ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإنَّهٗ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5795 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ