باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 8

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیوں میں کچھ باریکی تھی ۱؎اور نہ ہنستے تھے مگر مسکراہٹ سے۲؎اور میں جب حضور کو دیکھتا تو کہتا تھا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں حالانکہ آپ سرمہ لگائے نہ ہوتے تھے۳؎(ترمذی)

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ: أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5796 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ دانتوں میں کھڑکی والے تھے ۱؎جب کلام فرماتے تو آپ کے ثنیہ دانتوں کے درمیان سے نور سا نکلتا تھا ۲؎(دارمی)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْلَجَ الثَّنِيَّتَيْنِ إِذَا تَكَلَّمَ رُئِيَ كَالنُّورِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ ثَنَايَاهُ. رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5797 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت کعب بن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ انور دمک جاتا تھا گویا آپ کا چہرہ چاند کا ٹکڑا ہے ہم یہ جان لیتے تھے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهٗ حَتّٰى كَأَنَّ وَجْهَهٗ قِطْعَةُ قَمَرٍ وَكُنَّا نَعْرِفُ ذٰلِكَ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5798 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ ایک یہودی لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ۱؎وہ بیمار ہوگیا تو اس کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی کو تشریف لائے ۲؎اور اس کے باپ کو اس کے سرہانے توریت پڑھتے پایا ۳؎تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے یہودی میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر توریت اتاری۴؎کیا تو میرے اوصاف میری نعت، میری ہجرت توریت میں پاتا ہے ۵؎کہا نہیں تو جوان بولا ہاں ۶؎یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم ہم آپ کی نعت آپ کی صفات آپ کی ہجرت توریت میں پاتے ہیں ۷؎اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواءکوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے رسول ہیں ۸؎تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اس یہودی کو اس جوان کے پاس سے اٹھا دو اور تم اپنے بھائی کا انتظام کرو ۹؎(بیہقی دلائل النبوۃ)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهٗ فَوَجَدَ أَبَاهُ عِنْدَ رَأْسِهٖ يَقْرَأُ التَّوْرَاةَ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا يَهُودِيٌّ أَنْشُدُكَ بِاللّٰهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلٰى مُوسٰى هَلْ تَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ نَعْتِي وَصِفَتِي وَمَخْرَجِي؟» . قَالَ: لَا. قَالَ الْفَتٰى: بَلٰى وَاللّٰهِ يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا نَجِدُ لَكَ فِي التَّوْرَاةِ نَعْتَكَ وَصِفَتَكَ وَمَخْرَجَكَ وَإِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللّٰهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهٖ: «أَقِيمُوا هٰذَامِنْ عِنْدِ رَأْسِهٖ وَلُّوا أَخَاكُمْ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «دَلَائِل النُّبُوَّة»

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5799 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضور انور نے فرمایا کہ میں رحمت ہوں،رب کا ہدیہ ہوں ۱؎(بیہقی شعب الایمان)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهٗ قَالَ: إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُهْدَاةٌ رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5800 ، باب : اسماء النّبی صلی اللہ علیہ وسلم و صفاتہ