باب : لڑائیوں کا بیان

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ دو بڑی جماتیں آپس میں جنگ کریں ان کے درمیان بڑی ہی خونریزی ہوگی ان دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا ۱∞؎اوریہاں تک کہ قریبًا تیس جھوٹے دجال اٹھیں وہ سب دعویٰ کریں کہ وہ اکے رسول ہیں۲؎اور یہاں تک کہ علم سمیٹ لیا جاوے اور زلزلے بہت ہوجاویں۳؎اور زمانہ سکڑ جاوے۴؎اور فتنے ظاہر ہوجاویں اور ہرج یعنی قتل زیادہ ہوجاوے یہاں تک کہ تم میں مال زیادہ ہوجاوے ۵؎حتی کہ مال والا فکر کرے کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے ۶؎اور یہاں تک کہ وہ مال پیش کرے تو جس پر پیش کرے وہ کہے کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ۷؎اور یہاں تک کہ لوگ عالیشان عمارتوں میں فخر کریں گے ۸؎اور یہاں تک کہ کوئی شخص کسی شخص کی قبر پر گزرے تو کہے ہائے کاش اس کی جگہ میں ہوتا ۹؎اور یہاں تک کہ سورج پچھم سے نکلے جب ادھر سے نکلے گا اور لوگ دیکھیں گے تو سارے ہی ایمان لے آویں گے ۱۰؎مگر یہ وقت ہوگا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں بھلائی نہ کمائی ۱۱∞؎اور قیامت قائم ہوجاوے گی اسی حالت میں کہ دو شخصوں نے اپنا کپڑا اپنے درمیان میں پھیلایا ہوا ہوگا تو نہ بچ سکیں گے اور نہ لپیٹ سکیں گے اور قیامت قائم ہوجاوے گی حالانکہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ لے کر چلے گا تو اسے کھا نہ سکے گا۱۲؎اور قیامت قائم ہوجاوے گی حالانکہ کوئی اپنے حوض پر ہوگا تو اس میں پانی پلا نہ سکے گا اور قیامت قائم ہوگی حالانکہ اس نے اپنا لقمہ اپنے منہ تک اٹھایا ہوگا تو کھا نہ سکے گا۱۳؎(مسلم،بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قال: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ، تَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ، دَعَوَاهُمَا وَاحِدَةٌ، وَحَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ،كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَحَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ، وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ، وَیَظْهَرَ الْفِتَنُ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ، وَهُوَ الْقَتْلُ، وَحَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ، وَحَتَّى يَعْرِضَهُ فَيَقُولُ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ: لَا أَرَبَ لِي بِهِ، وَحَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبُنْيَانِ، وَحَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ، وَحَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا، فَإِذَا طَلَعَت وَرَآهَا النَّاسُ آمَنُوا أَجْمَعُونَ، فَذلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا،وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ وَلَا يَطْوِيَانِهِ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يُلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أَكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5410 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ تم ایسی قوم سے جہاد کروگے جن کی جوتیاں بال کی ہونگی ۱∞؎اور حتی کہ تم ترکوں سے جنگ کروگے۲؎چھوٹی آنکھوں والے سرخ چہرے والے چپٹی ناک والے ان کے چہرے گویا کٹی ہوئی ڈھال ہیں ۳؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ، وَحَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ صِغَارَ الأَعْيُنِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ، ذُلْفَ الأُنُوفِ،كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ المَجَانُّ المُطْرَقَةُ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5411 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ تم عجمیوں یعنی خوز اور کرمان سے جہادکرو گے ۱∞؎سرخ چہروں والے، چپٹی ناک والے، چھوٹی آنکھ والے،ان کے چہرے گویا کٹی ہوئی ڈھالیں ہیں،ان کے جوتے بال والے ہیں۲؎(بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا خُوزًا وَكِرْمَانَ مِنَ الأَعَاجِمِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ،فُطْسَ الأُنُوفِ، صِغَارَ الأَعْيُنِ، وُجُوهُهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5412 ، باب : لڑائیوں کا بیان

اور اس کی ایک روایت بروایت عمرو ابن تغلب ہے کہ چوڑے چہرے والے۱؎

وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَغْلِبَ: "عراض الْوُجُوه".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5413 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ نہیں قائم ہوگی قیامت حتی کہ جنگ کریں گے مسلمان اور یہودی تو یہود کو مسلمان قتل کریں گے ۱∞؎حتی کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا تو پتھر اور درخت کہے گا کہ اے مسلم اے الله کے بندے یہ یہودی میرے پیچھے ہے آ اسے قتل کر ۲؎سوا غرقد کے کہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۳؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ وَالشَّجَرُ: يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5414 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ قحطان سے ایک آدمی نکلے گا جو لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانکے گا ۱∞؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5415 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ رات و دن ختم نہ ہوں گے حتی کہ ایک شخص بادشاہ بنے گا جسے جہجاہ کہا جاوے گا ۱∞؎اور ایک روایت میں ہے کہ حتی کہ غلاموں میں سے ایک شخص بادشاہ بنے گا جسے جہجاہ کہا جاوے گا ۲؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَذْهَبُ الأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: الْجَهْجَاهُ". وَفِي رِوَايَةٍ: "حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي يُقَالُ لَهُ: الجَهْجَاهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5416 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ مسلمانوں کی ایک جماعت کسریٰ کا ۱∞؎خزانہ کھولے گی جو کہ مقام ابیض میں ہے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: لتُفْتَحَنَّ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَنْزَ آلِ كِسْرَى الَّذِي فِي الأَبْيَض". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5417 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ کسریٰ ہلاک ہوگیا تو اس کے بعد کسریٰ نہ ہوگا ۱∞؎اور قیصر ہلاک ہوگا تو پھر اس کے بعد قیصر نہ ہوگا۲؎اور ان کے خزانے الله کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے۳؎حضور نے جنگ کا نام دھوکا رکھا ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَلَكَ كِسْرَى فَلَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ، وَقَيْصَرُ لِيَهْلِكَنَّ ثُمَّ لَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ، وَلَتُقْسَمَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، وَسَمَّى الْحَرْبَ خَدْعَةً. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5418 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت نافع ابن عتبہ سے فرماتے ہیں ۱∞؎فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تم لوگ جزیرہ عرب پر جہادکرو گے تو الله اسے فتح فرمادے گا ۲؎تو پھرفارس پر تو الله وہ بھی فتح کردے گا پھر تم روم پر غزوہ کرو گے تو الله وہ بھی فتح کردے گا۳؎پھر تم دجال پر جہاد کرو گے تو الله وہ بھی فتح کردے گا ۴؎(مسلم)

وَعَنْ نَافِعِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "تَغْزُونَ جَزِيرَةَ الْعَرَبِ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ فَارِسَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ،ثُمَّ تَغْزُونَ الرُّومَ فَيَفْتَحُهَا اللَّهُ، ثُمَّ تَغْزُونَ الدَّجَّالَ فَيَفْتَحَهُ اللَّه". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5419 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں نبی صلی الله علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب حضور چمڑے کے خیمہ میں تھے ۲؎تو فرمایا کہ قیامت سے پہلے چھ چیزیں گن لو: میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح،پھر عام موت جو تم میں بکریوں کی وبا کی طرح پھیلے گی۳؎پھر مال کا بہہ جانا حتی کہ ایک شخص کو سو دینار دیئے جائیں گے پھر بھی وہ ناراض رہے ۴؎پھر وہ فتنہ کہ عرب کا کوئی گھر نہ رہے مگر وہ اس میں داخل ہوجائے گا پھر وہ صلح جو تمہارے اور رومیوں کے درمیان ہوگی پھر وہ عہد شکنی کریں گے ۵؎تو تمہارے مقابل اسی جھنڈوں تلے آئیں گے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار ہوں گے ۶؎(بخاری)

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: "اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَي السَّاعَةِ: مَوْتِي، ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ،ثُمَّ مُوتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِئَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا، ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتٌ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ، ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ، فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5420 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتی کہ روم اعماق یا دابق میں اتریں گے ۱∞؎تو مدینہ سے ایک لشکر ان کی طرف نکلے گا جو اس دن تمام زمین والوں سے بہترین ہوگا۲؎تو جب یہ لوگ صف آراء ہوں گے تو روم کہیں گے کہ ہمارے درمیان اور ان کے درمیان جو ہم میں سے قیدکرلیے گئے ہٹ جاؤ ہم ان سے جنگ کریں گے۳؎تو مسلمان کہیں گے الله کی قسم ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان علیحدگی نہ کریں گے چنانچہ مسلمان ان سے جنگ کریں گے تہائی بھاگ جائیں گے الله ان کی توبہ کبھی قبول نہ کرے گا اور تہائی قتل ہوجائیں گے وہ الله کے نزدیک افضل ترین شہید ہیں اور تہائی فتح کریں گے یہ کبھی فتنہ میں مبتلا نہ ہوں گے۴؎پھر یہ قسطنطنیہ فتح کریں گے۵؎جب کہ یہ غنیمتیں آپس میں تقسیم کرتے ہوں گے اپنی تلواریں زیتون کے درختوں سے لٹکا چکے ہوں گے۶؎ان میں شیطان چیخے گا کہ مسیح دجال تمہارے گھروں میں تمہارے پیچھے پہنچ گیا یہ لوگ نکل کھڑے ہوں گے یہ خبر غلط ہوگی۷؎پھر جب یہ لوگ شام میں آئیں گے تو دجال ظاہر ہوگا جبکہ یہ جنگ کی تیاری کررہے ہوں گے ۸؎صفیں سیدھی کرتے ہوں گے کہ نماز قائم ہوگی تو عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ۹؎وہ ان کی امامت کریں گے۱۰؎پھر جب اکا دشمن انہیں دیکھے گا تو گلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گلتا ہے ۱۱∞؎اگر آپ اسے چھوڑ دیتے تو وہ گل جاتا حتی کہ ہلاک ہوجاتا لیکن الله اسے آپ کے ہاتھ سے ہلاک کرے گا تو آپ لوگوں کو اس کا خون اپنے نیز ے میں دکھائیں گے۔(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَنْزِلَ الرُّومُ بِالأَعْمَاقِ أَوْ بِدَابِقَ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنَ الْمَدِينَةِ مِنْ خِيَارِ أَهْلِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ، فَإِذَا تَصَافُّوا قَالَتِ الرُّومُ: خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ،فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: لَا وَاللَّهِ لَا نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا، فَيُقَاتِلُونَهُمْ، فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لَا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا، وَيُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ، وَيَفْتَتِحُ الثُّلُثُ لَا يُفْتَنُونَ أَبَدًا، فَيَفْتَتِحُونَ قُسْطُنْطِينيَّةَ،فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْغَنَائِمَ قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ إِذْ صَاحَ فِيهِمُ الشَّيْطَانُ: إِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْلِيكُمْ، فَيَخْرُجُونَ، وَذَلِكَ بَاطِلٌ، فَإِذَا جَاؤُوا الشَّأْمَ خَرَجَ، فَبَيْنَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ يُسَوُّونَ الصُّفُوفَ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَيَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ فَأَمَّهُمْ، فَإِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ ذَابَ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ، فَلَوْ تَرَكَهُ لَانْذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ، وَلَكِنْ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، فَيُرِيهُمْ دَمَهُ فِي حَرْبَتِهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5421 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضر ت عبداابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ میراث بانٹی نہ جائے ۱∞؎اور غنیمت سے خوشی نہ منائی جائے ۲؎پھر فرمایا کہ قوی دشمن جمع ہوں گے شام والوں کے مقابل اور انکے مقابلہ میں مسلمان جمع ہوں گے یعنی رومیوں کے مقابل۳؎تو مسلمان ایک دستہ منتخب کریں گے موت کے لیے نہ غالب ہوئے نہ لوٹیں گے۴؎پس سخت جنگ کریں گے حتی کہ ان کے درمیان رات آڑ ہوجائے گی تو یہ بھی لوٹ جائیں گے اور وہ بھی کوئی غالب نہ ہوگا۵؎اور یہ دستہ فنا ہو جاوے گا ۶؎پھرمسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ بغیر غالب ہوئے نہ لوٹیں گے۷؎تو عظیم جنگ کریں گے حتی کہ ان کے درمیان رات آڑے آجاوے گی تو یہ اور راہ لوٹ جائیں گے کوئی غالب نہ ہوگا اور دستہ فنا ہوجاوے گا مگر پھر مسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ بغیر غالب ہوئے نہ لوٹیں گے تو عظیم جنگ کریں گے حتی کہ شام ہوجاوے گی تو یہ اور وہ لوٹ جائیں گے کوئی غالب نہ ہوگا ۸؎اور شرط فنا ہوچکے گی پھر جب چوتھا دن ہوگا تو کفار کی طرف بچے کھچے مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے ۹؎تو الله ان کفار پر شکست ڈال دے گا۱۰؎تو مسلمان اس طرح قتل کریں گے کہ اس جیسا نہ دیکھا گیا ہوگا ۱۱∞؎حتی کہ پرندہ ان کے اردگرد گزرے گا تو انہیں پیچھے نہ چھوڑ سکے گا۱۲؎حتی کہ گر کر مرجاوے گا۱۳؎تو ایک دادا کی اولاد جو سو تھی گنی جاوے گی تو ان میں سے ایک کے سوا کسی کو باقی نہ پائیں گے ۱۴؎تو کون سی غنیمت سے خوشی منائی جاوے اور کون سی میراث بانٹی جاوے ۱۵؎جب وہ اس حالت میں ہوں گے کہ اچانک اس سے بڑی جنگ سنیں گے کہ ان تک ایک چیخ آوے گی کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بچوں میں پہنچ گیا ۱۶؎تو وہ لوگ چھوڑ دیں گے جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے اور ادھر متوجہ ہوجا ئیں ۱۷؎تو وہ دس سوار جاسوس بھیجیں گے ۱۸؎رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ان کے نام انکے باپ دادوں کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ پہچانتا ہوں۱۹؎وہ لوگ اس دن روئے زمین پر بہترین سوار ہوں گے۲۰؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: "إِنَّ الساعةَ لَا تقومُ حَتَّى لَا يُقْسَمَ ميراثٌ وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ"، ثُمَّ قَالَ: "عَدُوٌّ يَجْمَعُونَ لِأَهْلِ الشَّامِ وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الإِسْلَامِ -يَعْنِي الرُّومَ-، فَيَتَشَرَّطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْحِزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ يَتَشَرَّطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يَحْجِزَ بَيْنَهُمُ اللَّيْلُ، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، ثُمَّ يَتَشَرَّطُ الْمُسْلِمُونَ شُرْطَةً لِلْمَوْتِ لَا تَرْجِعُ إِلَّا غَالِبَةً، فَيَقْتَتِلُونَ حَتَّى يُمْسُوا، فَيَفِيءُ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ كُلٌّ غَيْرُ غَالِبٍ، وَتَفْنَى الشُّرْطَةُ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الرَّابعِ نَهَدَ إِلَيْهِمْ بَقِيَّةُ أَهْلِ الإِسْلَامِ، فَيَجْعَلُ اللَّهُ الدَبَرَةَ عَلَيْهِمْ، فَيَقْتَتِلُونَ مَقْتَلَةً لَمْ يُرَ مِثْلُهَا، حَتَّى إِنَّ الطَّائِرَ لَيَمُرُّ بِجَنْبَاتِهِمْ فَمَا يُخَلِّفُهُمْ حَتَّى يَخِرَّ مَيِّتًا،فَيُتَعَادُّ بَنُو الأَبِ كَانُوا مِئَةً فَلَا يَجدُونَهُ بَقِيَ مِنْهُمْ إِلَّا الرَّجُلُ الْوَاحِدُ، فَبِأَيِّ غَنِيمَةٍ يُفْرَحُ، أَوْ أَيُّ مِيرَاثٍ يُقْسَمُ؟ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعُوا بِبَأْسٍ هُوَ أَكْبَرُ مِنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمُ الصَّرِيخُ أَنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَلَفَهُمْ فِي ذَرَارِيِّهِمْ، فَيَرْفُضُونَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ وَيُقْبِلُونَ، فَيَبْعَثُونَ عَشْرَ فَوَارِسَ طَلِيعَةً"، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنِّي لأَعْرِفُ أَسْمَاءَهُمْ وَأَسْمَاءَ آبَائِهِمْ، وَأَلْوَانَ خُيُولِهِمْ، هُمْ خَيْرُ فَوَارِسَ -أَوْ مِنْ خَيْرِ فَوَارِسَ- عَلَى ظَهْرِ الأَرْض يَوْمئِذٍ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5422 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا تم نے وہ شہر سنا ہے جس کا ایک کنارہ خشکی میں ہے اور اس کا دوسرا کنارا دریار میں ۱∞؎لوگوں نے عرض کیا ہاں یا رسول الله فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ اس پر اولاد اسحاق کے ستر ہزار غازی غزوہ کریں گے۲؎تو جب وہاں پہنچیں گے تو اتریں گے تو نہ تو ہتھیاروں سے جنگ کریں گے نہ کوئی تیر پھینکیں گے،کہیں گےلا الہ الا الله و الله اکبرتو اس کا ایک کنارہ گر جاوے گا۳؎ثور ابن یزید راوی کہتے ہیں۴؎کہ میں نہیں جانتا اس کے سوا کہ فرمایا وہ کنارہ جو دریا میں ہے ۵؎پھر وہ دوبارہ کہیں گےلا الہ الا الله و الله اکبرتو ان کے لیے کھول دیا جاوے گا ۶؎چنانچہ یہ لوگ غنیمت لیں گے جب وہ غنیمتیں تقسیم کررہے ہوں گے ۷؎تو اچانک ان تک ایک چیخ آئے گی کوئی کہے گا کہ دجال نکل آیا تو وہ ہر چیز چھوڑ دیں گے اور لوٹ جائیں گے ۸؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "هَلْ سَمِعْتُمْ بِمَدِينَةٍ جَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَرِّ وَجَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَحْرِ؟ " قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْزُوَهَا سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ بَنِي إِسْحَاقَ، فَإِذَا جَاؤُوهَا نَزَلُوا فَلَمْ يُقَاتِلُوا بِسِلَاحٍ وَلَمْ يَرْمُوا بِسَهْمٍ قَالُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَيَسْقُطُ أحدُ جانبيها" -قَالَ ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ الرَّاوِي: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: الَّذِي فِي الْبَحْر- "ثُمَّ يَقُولُونَ الثَّانِيَةَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَيَسْقُطُ جَانِبُهَا الآخَرُ، ثُمَّ يَقُولُونَ الثَّالِثَةَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، فَيُفَرَّجُ لَهُمْ، فَيَدْخُلُونَهَا فَيَغْنَمُونَ، فَبَيْنَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْمَغَانِمَ إِذْ جَاءَهُمُ الصَّرِيخُ فَقَالَ: إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ، فَيَتْرُكُونَ كُلَّ شَيْءٍ وَيَرْجِعُونَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5423 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ بیت المقدس کی آبادی ۱∞؎مدینہ طیبہ کی ویرانی ہے۲؎اور مدینہ کی ویرانی بڑی جنگ کا ظہور ہے۳؎اور بڑی جنگ کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا نکلنا ہے ۴؎(ابوداؤد)

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ،وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ، وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ، وَفَتْحُ قُسْطَنْطِينِيَّةَ خُرُوجُ الدَّجَّال". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5424 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ بڑی جنگ ۱∞؎اور قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا نکلنا سات مہینوں میں ہوگا۲؎(ترمذی،ابوداؤد)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الملحمة الْعُظْمَى وَفَتْحُ الْقُسْطُنْطِينيَّةِ وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5425 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن بسر سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ بڑی جنگ اور شہر کی فتح کے درمیان چھ سال کا فاصلہ ہے اور ساتویں سال دجال نکلے گا ۱∞؎(ابوداؤد)اور فرمایا یہ صحیح ترین ہیں۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "بَيْنَ الْمَلْحَمَةِ وَفَتْح الْمَدِينَةِ سِتُّ سِنِينَ، وَيَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي السَّابِعَةِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: هَذَا أَصَحُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5426 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ قریب ہے مسلمان مدینہ منورہ کی طرف محصور کردیئے جاویں ۱∞؎حتی کہ ان کی آخری سرحد مقام سلاح ہو اور سلاح خبیر سے قریب ہے ۲؎(ابوداؤد)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: يُوشِكُ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يُحَاصَرُوا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يَكُونَ أَبْعَدَ مَسَالِحِهِمْ سَلَاحٌ، وَسَلَاحٌ: قَرِيبٌ مِنْ خَيْبَرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5427 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے ذی مخبر سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم روم سے امن و امان والی صلح کرو گے تو تم اور وہ اپنے سامنے والے دشمن سے جنگ کرو گے۲؎تو تم کو فتح دی جاوے گی اور تم غنیمت حاصل کرو گے اور سلامت رہو گے۳؎پھر تم لوٹو گے حتی کہ ٹیلوں والی چراگاہ میں اترو گے۴؎تو عیسائیوں میں ایک شخص صلیب اٹھاکر کہے گا کہ صلیب غالب آگئی ۵؎تو مسلمانوں میں سے ایک شخص غضب ناک ہوکر اسے توڑ دے گا۶؎اس وقت روم عہد شکنی کریں گے اور جنگ کے لیے جمع ہوجائیں گے،بعض راویوں نے یہ زیادہ فرمایا کہ پھر مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف جوش سے بڑھیں گے ۷؎پھر جنگ کریں گے تو الله اس جماعت کو شہادت سے عزت دے گا ۸؎(ابوداؤد)

وَعَنْ ذِي مِخْبَرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ:"سَتُصَالِحُونَ الرُّومَ صُلْحًا آمِنًا، فَتَغْزُونَ أَنْتُمْ وَهُمْ عَدُوًّا مِنْ وَرَائِكُمْ، فَتُنْصَرُونَ وَتَغْنَمُونَ وَتَسْلَمُونَ، ثُمَّ تَرْجِعُونَ حَتَّى تَنْزِلُوا بِمَرْجٍ ذِي تُلُولٍ، فَيَرْفَعُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّصْرَانِيَّةِ الصَّلِيبَ، فَيَقُولُ: غَلَبَ الصَّلِيبُ، فَيَغْضَبُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَدُقُّهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ تَغْدِرُ الرُّومُ وَتَجْمَعُ لِلْمَلْحَمَةِ". وَزَادَ بَعْضُهُمْ: "فَيَثُورُ الْمُسْلِمُونَ إِلَى أَسْلِحَتِهِمْ فَيَقْتَتِلُونَ، فَيُكْرِمُ اللَّهُ تِلْكَ الْعِصَابَةَ بِالشَّهَادَةِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5428 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی فرمایا حبشہ کو چھوڑے رہو جب تک وہ یمن چھوڑے رہیں ۱∞؎کیونکہ کعبہ کا خزانہ نہ نکالے گا مگر حبشہ کا ایک چھوٹی پنڈلیوں والا ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "اتْرُكُوا الْحَبَشَةَ مَا تَرَكُوكُمْ، فَإِنَّهُ لَا يَسْتَخْرِجُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ إِلَّا ذُو السُّويقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5429 ، باب : لڑائیوں کا بیان