باب : لڑائیوں کا بیان

فتنوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے نبی صلی الله علیہ و سلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب ۱∞؎نے فرمایا حبشیوں کو چھوڑے رہو جب تک وہ تمہیں چھوڑے رہیں اور چھوڑے رہو تم ترک کو جب تک چھوڑے رہیں تم کو ۲؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "دَعُوا الْحَبَشَةَ مَا وَدَعُوكُمْ، وَاتْرُكُوا التُّرْكَ مَا تَرَكُوكُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5430 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت بریدہ سے وہ نبی صلی الله علیہ و سلم سے راوی ایک حدیث میں کہ تم سے ایک چھوٹی آنکھوں والی قوم یعنی ترک جنگ کرے گی فرمایا تم انہیں تین بار ہانکو گے حتی کہ تم انہیں جزیرہ عرب میں پہنچادوگے۱∞؎لیکن پہلی ہانک میں تو ان میں بھاگ جانے والے نجات پاجائیں گے لیکن دوسری میں بعض نجات پا جائیں گی،بعض ہلاک ہوجائیں گے لیکن تیسری ہانک میں وہ فنا ہوجائیں گے۲؎یا جیسے فرمایا۔(ابوداؤد)

وَعَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي حَدِيثٍ: "يُقَاتِلُكُمْ قَوْمٌ صِغَارُ الأَعْيُنِ" يَعْنِي التُّرْكَ، قَالَ: "تَسُوقُونَهُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَتَّى تُلْحِقُوهُمْ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، فَأَمَّا فِي السِّيَاقَةِ الأُولَى فَيَنْجُو مَنْ هَرَبَ مِنْهُمْ، وَأَمَّا الثَّانِيَةِ فَيَنْجُو بَعْضٌ وَيَهْلِكُ بَعْضٌ، وَأَمَّا الثَّالِثَةِ فَيُصْطَلَمُونَ"، أَوْ كَمَا قَالَ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5431 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت کے لوگ ایک پست زمین میں اتریں گے ۱∞؎جسے بصرہ کہیں گے۲؎ایک نہر کے کنارے کے پاس جسے دجلہ کہا جاتا ہے۳؎اس پر ایک پل ہوگا اس کے باشندے بہت ہوں گے۴؎اور وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہوگا اور جب آخری زمانہ ہوگا تو قبیلہ بنو قنطورا ۵؎چوڑے منہ والے چھوٹی آنکھوں والے آئیں گے ۶؎حتی کہ نہرکے کنارہ اتریں گے تو وہاں کے باشندے تین حصے ہوجاویں گے ایک فرقہ تو گایوں کی دم اور جنگل اختیار کرلیں گے۷؎وہ ہلاک ہوجائیں گے اور ایک فرقہ اپنے لیے امان لے لے گا اور ہلاک ہوجائیں گے۸؎اور ایک فرقہ اپنے بال بچوں کو اپنی پیٹھ کے پیچھے چھوڑے گا اور ان سے جنگ کرے گا یہ لوگ شہداء ہیں ۹؎(ابوداؤد)

وَعَن أبي بَكْرَة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَنْزِلُ أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي بِغَائِطٍ يُسَمُّونَهُ الْبَصْرَةَ عِنْدَ نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: دِجْلَةُ، يَكُونُ عَلَيْهِ جِسْرٌ يَكْثُرُ أَهْلُهَا، وَيَكُونُ مِنْ أَمْصَارِ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا كَانَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ جَاءَ بَنُو قَنْطُورَاءَ عِرَاضُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الأَعْيُنِ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى شَطِّ النَّهْرِ، فَيَتَفَرَّقُ أَهْلُهَا ثَلَاثَ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ فِي أَذْنابِ الْبَقَرِ وَالْبَرِّيَّةِ وَهَلَكُوا،وَفِرْقَةٌ يَأْخُذُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَهَلَكُوا، وَفِرْقَةٌ يَجْعَلُونَ ذَرَارِيَّهُمْ خَلْفَ ظُهُورِهِمْ وَيُقَاتِلُونَهُمْ، وَهُمُ الشُّهَدَاءُ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5432 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا اے انس لوگ مختلف شہر آباد کریں گے ان میں ایک شہر ہے جسے بصرہ کہا جاوے گا ۱∞؎تو اگر تم وہاں سے گزرو اس میں جاؤ وہاں کی کھاری زمین سے اور وہاں کے مقام کلاء سے۲؎اور وہاں کے باغات بازار اور وہاں کے امیروں کے دروازوں سے بچنا ۳؎اور مقام ضراخی کو اختیار کرنا۴؎کیونکہ وہاں زمین دھنسنا پتھر برسنا زلزلے ہوں گے ۵؎اور ایسی قوم ہوگی جو رات گزاریں گے اور سویرا پائیں گے بندر سؤر ہو کر۔(رواہ)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَا أَنَسُ إِنَّ النَّاسَ يُمَصِّرِونَ أَمْصَارًا، فَإِنَّ مِصْرًا مِنْهَا يُقَالُ لَهُ: الْبَصْرَةُ،فَإِنْ أَنْتَ مَرَرْتَ بِهَا أَوْ دَخَلْتَهَا فَإِيَّاكَ وَسِبَاخَهَا وَكَلَّاءَهَا وَنَخِيلَهَا وَسُوقَهَا وَبَابَ أُمَرَائِهَا، وَعَلَيْكَ بِضَوَاحِيهَا، فَإِنَّهُ يَكُونُ بهَا خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَرَجْفٌ وَقَوْمٌ يَبِيتُونَ وَيُصْبِحُونَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ". رَوَاهُ .

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5433 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے صالح ابن درہم سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم حج کرنے جارہے تھے کہ ایک شخص ملا پس اس نے کہا کیا تم سے قریب کوئی بستی ہے جسے ابلہ کہا جاتا ہے۲؎ہم بولے ہاں اس نے کہا تم سے کون اس کا ضامن بنتا ہے کہ مسجد عشار میں میرے لیے دو چار رکعتیں پڑھ دے اور کہہ دے کہ یہ نماز ابوہریرہ کی ہے۳؎میں نے اپنے محبوب ابو القاسم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ الله تعالٰی قیامت کے دن مسجد عشار سے ایسے شہید اٹھائے گا کہ ان کے سواء شہداء بدر کے ساتھ کوئی نہ کھڑا ہوگا ۴؎(ابوداؤد)اور فرمایا کہ یہ مسجد نہر کے قریب ہے اور ہم ابوالدرداء کی حدیثان فسطاط المسلمینیمن و شام کے ذکر والے باب میں بیان کریں گےان شاءالله !

وَعَنْ صَالِحٍ بْنِ دِرْهَمٍ يَقُولُ: انْطَلَقْنَا حَاجَّينَ فَإِذَا رَجُلٌ، فَقَالَ لَنَا: إِلَى جَنْبِكُمْ قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا: الأُبُلَّةُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: مَنْ يَضْمَنُ لِي مِنْكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ لِي فِي مَسْجدِ الْعَشَّارِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا وَيَقُولُ: هَذِهِ لِأَبِي هُرَيْرَةَ؟ سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُ مِنْ مَسْجِدِ الْعَشَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُهَدَاءَ لَا يَقُومُ مَعَ شُهَدَاءِ بَدْرٍ غَيْرُهُمْ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ. وَقَالَ: هَذَا الْمَسْجِدُ مِمَّا يَلِي النَّهْرَ.
وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي الدَّرْدَاءَ: "إِنَّ فُسْطَاطَ الْمُسْلِمِينَ" فِي (بَابِ ذِكْرِ الْيَمَنِ وَالشَّامِ) إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5434 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت شقیق سے ۱∞؎وہ جناب حذیفہ سے راوی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر کے پاس تھے کہ آپ نے فرمایا تم سے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کی فتنہ کے متعلق حدیث کا حافظ کون ہے۲؎میں نے عرض کیا میں حافظ ہوں جیسے حضور نے فرمایا ہے،فرمایا لاؤ تم بڑے بہادر ہو ۳؎حضور نے کیسے فرمایا،میں نے کہا میں نے رسول الله صلی الله علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ مرد کا فتنہ اس کے گھر میں اس کے مال میں اور اس کی ذات میں اور اس کی اولاد میں اور اس کے پڑوسی میں ہے جسے روزے نماز،خیرات اچھائیوں کا حکم برائیوں سے روکنا مٹاتے رہتے ہیں۴؎تو حضرت عمر نے فرمایا میں یہ ارادہ نہیں کر رہا ہوں میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح اٹھے گا ۵؎فرمایا میں نے کہا آپ کو اس سے کیا تعلق اے امیر المؤمنین آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے ۶؎فرمایا تو دروازہ توڑا جاوے گا یا کھولا جاوے گا فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جاوے گا۷؎فرمایا یہ اس لائق ہے کہ پھر بند نہ کیا جاسکے ۸؎راوی کہتے ہیں کہ ہم نے جناب حذیفہ سے کہا کیا حضرت عمر جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے فرمایا ہاں جیسے یہ جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات ہے ۹؎میں نے انہیں وہ حدیث سنائی جو معمہ نہیں ہے ۱۰؎فرماتے ہیں کہ ہم کو اس سے ڈر لگا کہ حذیفہ سے پوچھیں کہ دروازہ کون ہے تو ہم نے مسروق سے کہا ان سے پوچھو انہوں نے پوچھا تو فرمایا عمر ہیں۔(مسلم،بخاری)

عَنْ شَقِيقٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ فَقَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فِي الْفِتْنَةِ؟ فَقُلْتُ: أَنَا أَحْفَظُ كَمَا قَالَ، قَالَ: هَاتِ إِنَّكَ لِجَرِيءٌ وَكَيْفَ؟ قَالَ: قُلْتُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ"،فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هَذَا أُرِيدُ، إِنَّمَا أُرِيدُ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْر، قَالَ: قُلْتُ: مَا لَكَ وَلَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ: فَيُكْسَرُ الْبَابُ أَوْ يُفْتَحُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، بَلْ يُكْسَرُ، قَالَ: ذَاكَ أَحْرَى أَنْ لَا يُغْلَقَ أَبَدًا، قَالَ: فَقُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: هَلْ كَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ مَنِ البابُ؟ قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةٌ، إِنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالأَغَالِيطِ،قَالَ: فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَ حُذَيْفَةَ مَنِ الْبَابُ؟ فَقُلْنَا لِمَسْرُوقٍ: سَلْهُ، فَسَأَلَهُ فَقَالَ: عُمَرُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5435 ، باب : لڑائیوں کا بیان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ قسطنطنیہ کی فتح قیامت قائم ہونے کے ساتھ ہے ۱∞؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

وَعَن أَنَسٍ قَالَ: فَتْحُ القُسْطُنْطِينِيَّةِ مَعَ قِيَامِ السَّاعَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5436 ، باب : لڑائیوں کا بیان