- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 7
- دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ تعالٰی تمہاری صرف صورتیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا ۱؎لیکن وہ تمہارے دلوں تمہارے عملوں کو بھی دیکھتا ہے ۲؎(مسلم)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا أَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5314 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتےہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ میں تمام شریکوں سے شرک سے بے نیاز ہوں ۱؎جو کوئی کوئی عمل کرے جس میں میرے ساتھ میرے غیر کو شریک کرے تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ چھوڑوں گا ۲؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ میں اس سے بری ہوں وہ اس کے لیے ہے جس کے لیے عمل کرے ۳؎(مسلم)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ هُوَ لِلَّذِي عَمِلَهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5315 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو سنانا چاہے گا اﷲاسے سنا دے گا اور جو دکھانا چاہے گا اللہ اسے دکھا دے گا ۱؎(مسلم)
وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-:"مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5316 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا گیا کہ فرمایئے تو ایک شخص اچھا کام کرتا ہے اور لوگ اس پر اس کی تعریف کرتے ہیں ۱؎اور ایک روایت میں ہے کہ اس عمل پر لوگ اس سے محبت کرتے ہیں فرمایا یہ مؤمن کی فوری بشارت ہے ۲؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَعْمَلُ الْخَيْرَ وَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَفِي رِوَايَةٍ: يُحِبُّهُ النَّاسُ عَلَيْهِ، قَالَ: "تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5317 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوسعید ابن ابی فضالہ سے ۱؎وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی حضور نے فرمایا کہ جب قیامت کے دن اللہ لوگوں کو جمع فرمائے گا اس دن جس میں کوئی شک نہیں توپکارنے والا پکارے گا ۲؎کہ جس نے ایسے کام میں جو اللہ کے لیے کئے کسی کو شریک ٹھہرایا ۳؎تو وہ اس کا ثواب بھی غیر خدا سے مانگے۴؎کیونکہ اﷲشریکوں میں شرک سے بے نیاز ہے ۵؎(احمد)
عَنْ أَبِي سَعِیدِ بْنِ أَبِي فَضَالَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِيَوْمٍ لَا ريبَ فِيهِ نَادَى مُنَادٍ: مَنْ كَانَ أشركَ فِي عَمَلٍ عَمِلَهُ لِلَّهِ أَحَدًا فَلْيَطْلُبْ ثَوَابَهُ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ؛ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى الشُّرَكاءِ عَنِ الشِّرْكِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5318 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت عبداﷲابن عمرو سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو اپنے عمل لوگوں کو سنائے تو اﷲاپنی مخلوق کی کانوں کو سنادے گا اور اسے حقیر ذلیل اور جھوٹا کردے گا ۱؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ أَسَامِعَ خَلْقِهِ، وَحَقَّرَهُ وَصَغَّرَهُ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5319 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس کی نیت آخرت کمانا ہو تو اللہ اس کی غنا اس کے دل میں ڈال دے گا اور اس کی متفرقات کو جمع کردے گا ۱؎اور اس کے پاس دنیا ذلیل ہوکر آوے گی ۲؎اور جس کی نیت دنیا طلبی ہو تو اللہ فقیری اس کے آنکھوں کے سامنے کردے گا ۳؎اور اس پر اس کے کام پر اگندہ کردے گا ۴؎اور اس کے پاس آئے گی اتنی جتنی اس کے لیے لکھی گئی ۵؎(ترمذی)
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "مَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الآخِرَةِ جَعَلَ اللَّهُ غِنَاهُ فِي قَلْبِهِ، وَجَمَعَ لَهُ شَمْلَهُ، وَأَتَتْهُ الدُّنْيَا وَهِيَ رَاغِمَةٌ، وَمَنْ كَانَتْ نِيَّتُهُ طَلَبَ الدُّنْيَا جَعَلَ اللَّهُ الْفَقْرَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَشَتَّتَ عَلَيْهِ أَمْرَهُ، وَلَا يَأْتِيهِ مِنْهَا إِلَّا مَا كُتِبَ لَهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيِّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5320 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
احمد اور دارمی نے حضرت ابان سے انہوں نے زید ابن ثابت سے۔
وَرَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ أَبَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5321 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ جب کہ میں اپنے گھر میں اپنے مصلے پر تھا ۱؎کہ میرے پاس ایک شخص آگیا ۲؎تو مجھے اپنی حالت پسند آئی جس پر مجھے اس نے دیکھا ۳؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے ابوہریرہ تم پر اللہ رحمت کرے تم کو دو ثواب ہیں علانیہ کا ثواب اور خفیہ کا ثواب ۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! بَيْنَا أَنَا فِي بَيْتِي فِي مُصَلَّايَ إِذْ دَخَلَ عَلَيَّ رَجُلٌ، فَأَعْجَبَنِي الْحَالُ الَّتِي رَآنِي عَلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "رَحِمَكَ اللَّهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، لَكَ أَجْرَانِ: أَجْرُ السِّرِّ وَأَجْرُ الْعَلَانِيَةِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5322 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ ظاہر ہوں گے جو دین کے بہانہ سے دنیا کمائیں گے ۱؎لوگوں کے سامنے بھیڑیوں کی کھال پہنیں گے ۲؎ان کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کے سے ہوں گے۳؎اﷲتعالٰی فرماتا ہے کہ کیا مجھ سے دھوکا کھاتے ہیں یا مجھ پر جرأت کرتے ہیں۴؎میں اپنی قسم فرماتا ہوں کہ ان لوگوں پر انہیں سے ایسا فتنہ بھیجوں گا جو بردبارکو حیران کر چھوڑے گا ۵؎(ترمذی)
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ رِجَالٌ يَخْتِلُونَ الدُّنْيَا بِالدِّينِ، يَلْبَسُونَ لِلنَّاسِ جُلُودَ الضَّأْنِ مِنَ اللِّينِ، أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ وَقُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الذِّئَابِ، يَقُولُ اللَّهُ: أَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عليَّ يَجْتَرِئُونَ؟فَبِي حَلَفْتُ لأَبْعَثَنَّ عَلَى أُولَئِكَ مِنْهُمْ فِتْنَةً تَدَعُ الْحَلِيمَ فِيهِمْ حَيْرَانَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5323 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ میں نے ایسی مخلوق بھی پیدا کی ہے جن کی زبانیں شکر سے زیادہ میٹھی ہوں گی اور ان کے دل ایلوے سے زیادہ کڑوے ۱؎تو اپنی ہی قسم فرماتا ہوں کہ ایسا فتنہ مسلط کروں گا جو بردبار کو حیران کردے گا ۲؎میری وجہ سے دھوکہ کھاتے ہیں یا جرأت کرتے ہیں۔(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: لَقَدْ خَلَقْتُ خَلْقًا أَلْسِنَتُهُمْ أَحْلَى مِنَ السُّكَّرِ، وَقُلُوبُهُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبِرِ، فَبِي حَلَفْتُ لأُتِيحَنَّهُمْ فِتْنَةً تَدَع الْحَلِيمَ فِيهِمْ حَيْرَانَ، فَبِي يَغْتَرُّونَ أَمْ عَلَيَّ يَجْتَرِئُونَ؟ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حديثٌ غَرِيبٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5324 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر چیز کی ایک خوشی ہے اور ہر خوشی کی ایک کمزوری ہے ۱؎تو اگر خوشی والا درست رہے اور قریب رہے تو میں اس کی کامیابی کی امید کرو ۲؎اور اگر اس کی طرف انگلیوں سے اشارے کیے جاویں تو اسے کچھ گنتی میں نہ لاؤ۳؎(ترمذی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ شِرَّةٌ، وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ، فَإِنْ صَاحِبُهَا سَدَّدَ وَقَارَبَ فَارْجُوهُ، وَإِنْ أُشِيرَ إِلَيْهِ بِالأَصَابعِ فَلَا تَعُدُّوهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5325 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ انسان کی شر کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کی طرف دین یا دنیا میں انگلیوں سے اشارہ کیا جاوے ۱؎سواء اس کے جسے اﷲمحفوظ رکھے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالأَصَابِعِ فِي دِينٍ أَوْ دُنْيَا إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللَّهُ". رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5326 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت ابو تمیمہ سے فرماتے ہیں کہ میں حضرت صفوان اور انکے ساتھیوں کے پاس گیا ۱؎جب کہ حضرت جندب انہیں وصیت کررہے تھے ۲؎لوگوں نے کہا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے کچھ سناہے ۳؎فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو اپنی شہرت چاہے گا اللہ قیامت کے دن اس کی شہرت کردے گا ۴؎جو مشقت میں ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس پر مشقت ڈالے گا ۵؎لوگوں نے کہا ہم کو وصیت کیجئے فرمایا انسان کی پہلی چیز جو بگڑتی ہے وہ اس کا پیٹ ہے تو جو طاقت رکھے کہ طیب کے سوا کچھ نہ کھائے وہ ضرور ایسا کرے ۶؎اور جو طاقت رکھے کہ اس کے اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون آڑ نہ بنے جسے وہ بہائے تو وہ ایسا ضرور کرے ۷؎(بخاری)
عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ قَالَ:شَهِدْتُ صَفْوَانَ وَأَصْحَابَهُ وَجُنْدُبٌ يُوصِيهِمْ، فَقَالُوا: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- شَيْئًا؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالُوا: أَوْصِنَا، فَقَالَ: "إِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الإِنْسَانِ بَطْنُهُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَأَكُلَ إِلَّا طَيِّبًا فَلْيَفْعَلْ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ أَهَرَاقَهُ فَلْيفْعَل". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5327 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے کہ وہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مسجد کی طرف گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی قبر انور کے پاس معاذ ابن جبل کو بیٹھا ہوا پایا جو رو رہے تھے ۱؎تو فرمایا کہ آپ کو کون سی چیز رلاتی ہے ۲؎بولے مجھے وہ چیز رلاتی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنی تھی ۳؎میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تھوڑی سی ریاکاری بھی شرک ہے ۴؎اور جو اﷲکے ولی سے دشمنی کرے وہ اﷲکے سامنے جنگ کے لیے آگیا ۵؎اﷲتعالٰی پسند کرتا ہے ان نیکوں پرہیزگاروں چھپے ہوؤں کو کہ جب وہ غائب ہوجاویں تو ڈھونڈھے نہ جائیں اور اگر حاضر ہوں تو نہ بلائے جاویں نہ قریب کیے جاویں ۶؎ان کے دل ہدایت کے چراغ ہوں ۷؎ہر تاریک گرد آلود سے نکلیں ۸؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ، وَمَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الأَبْرَارَ الأَتْقِيَاءَ الأَخْفِيَاءَ الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَّدُوا، وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُقَرَّبُوا، قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى، يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5328 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب بندہ علانیہ نماز پڑھے تو بھی اچھی اور خفیہ نماز پڑھے تو بھی اچھی تو اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ یہ میرا سچا بندہ ہے ۱؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إنَّ الْعَبْدَ إِذَا صَلَّى فِي الْعَلَانِيَةِ فَأَحْسَنَ وَصَلَّى فِي السِّرِّ فَأَحْسَنَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: هَذَا عَبْدِي حَقًّا". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5329 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں ایسی قومیں ہوں گی جو ظاہریت کی دوست ہوں گی اورپوشیدہ کی دشمن ۱؎تو عرض کیا گیا یا رسول اللہ یہ کیوں کر ہوگا فرمایا یہ انکے بعض کے بعض سے رغبت اور بعض کے بعض سے ڈرنے کی وجہ سے ہوگا ۲؎
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أَقْوَامٌ إِخْوَانُ الْعَلَانِيَةِ أَعْدَاءُ السَّرِيرَةِ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "ذَلِكَ بِرَغْبَةِ بَعْضِهِمْ إِلَى بَعْضٍ وَرَهْبَةِ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5330 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو دکھلاوے کے لیے نماز پڑھے اس نے شرک کیا اور جو دکھلاوے کے لیے روزہ رکھے اس نے شرک کیا اور جو دکھلاوے کے لیے صدقہ دے اس نے شرک کیا ۱؎یہ دونوں حدیثیں احمد نے روایت کیں۔
وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُول: "مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ". رَوَاهُمَا أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5331 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے انہیں سے کہ وہ روئے ان سے کہا گیا کہ آپ کو کیا چیز رلاتی ہے فرمایا وہ بات جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنی وہ مجھے یاد آگئی اس نے مجھے رلادیا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں اپنی امت پر شرک اور خفیہ شہوت کا خوف کرتا ہوں ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ کے بعد آپ کی امت شرک کرے گی فرمایا ہاں ۲؎خیال رہے کہ وہ لوگ نہ سورج کو پوچیں گی نہ چاند کو نہ پتھر کو نہ بت کو ۳؎لیکن ریاکاری کریں گے ۴؎خفیہ شہوت یہ ہے کہ ان میں سے ایک روزہ رکھے گا ۵؎پھر اس کے سامنے اس کی خواہشات میں سے کوئی خواہش آجاوے تو وہ اپنا روزہ چھوڑ دے ۶؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)
وَعَنْهُ أَنَّهُ بَكَى، فَقِيلَ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ:شَيءٌ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ فَذَكَرْتُهُ فَأَبْكَانِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُول: "أَتَخوَّفُ على أمتِي الشِّرْكَ وَالشَّهْوَةَ الْخَفِيَّةَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتُشْرِكُ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ؟ قَالَ: "نَعَمْ، أَمَا إِنَّهُمْ لَا يَعْبُدُونَ شَمْسًا وَلَا قَمَرًا وَلَا حَجَرًا وَلَا وَثَنًا، وَلَكِنْ يُرَاؤُونَ بِأَعْمَالِهِمْ، وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ أَنْ يُصْبِحَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا، فَتَعْرِضُ لَهُ شَهْوَة مِنْ شَهَوَاتِهِ فَيَتْرُكُ صَوْمَهُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5332 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے ۱؎جب کہ ہم مسیح دجال کا تذکرہ کررہے تھے تو فرمایا کہ کیا میں تم کو اس چیز کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے زیادہ خطرناک ہے ۲؎ہم نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ فرمایا وہ خفیہ شرک ہے یعنی یہ کہ کوئی شخص نماز پڑھنے کھڑا ہو تو اپنی نماز اس لیے زیادہ کرے کہ کسی شخص کو دیکھے کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۳؎(ابن ماجہ)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ الْمَسِيح الدَّجَّالِ؟ لا فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "الشِّرْك الْخَفِيُّ: أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ فَيُصَلِّيَ فَيَزِيدَ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى مِنْ نَظَرِ رجلٍ". رَوَاهُ ابْن مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5333 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- 1
- 2