باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 7

روایت ہے محمود ابن لبید سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جن چیزوں سے میں تم پر ۲؎خوف کرتا ہوں ان سب میں زیادہ خوفناک چیز چھوٹا شرک ہے لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ چھوٹا شرک کیا ہے فرمایا ریا کاری ۳؎(احمد)بیہقی نے شعب الایمان میں یہ زیادتی کی کہ اللہ تعالٰی ان سے فرمائے گا اس دن جس دن بندوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا ۴؎کہ ان کے پاس جاؤ جنہیں تم دنیا میں اعمال دکھاتے رہے کہ کیا انکے پاس تم جزا یا بھلائی پاتے ہو ۵؎

وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الأَصْغَرُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الشِّرْكُ الأَصْغَرُ؟ قَالَ: "الرِّيَاءُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.وَزَادَ الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ": "يَقُولُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ يُجَازِي الْعِبَادَ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فِي الدُّنْيَا فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً أوْخَيْرًا؟ ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5334 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان

روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اگر کوئی شخص پتھر کی چٹان میں بیٹھ کر عمل کرے جس کا کوئی نہ دروازہ ہو نہ روزن ۱؎تو بھی اس کا عمل لوگوں تک نکل آوے گا جو عمل بھی ہوگا ۲؎

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لَوْ أَنَّ رَجُلًا عَمِلَ عَمَلًا فِي صَخْرَةٍ لَا بَابَ لَهَا وَلَا كَوَّةَ خَرَجَ عَمَلُهُ إِلى النَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5335 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان

روایت ہے حضرت عثمان ابن عفان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جس کی جو سیرت ہوگی اچھی یا بری اتعالٰی اس کی علامت ظاہر فرمائے گا جس سے وہ پہچانا جاوے گا ۱؎

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ كَانَتْ لَهُ سَرِيرَةٌ صَالِحَةً أَوْ سَيِّئَةً أَظْهَرَ اللَّهُ مِنْهَا رِدَاءً يُعْرَفُ بِهِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5336 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا میں اس امت پر ہر اس منافق سے ڈرتا ہوں جو باتیں حکمت کی کرے گا اور عمل ظلم کے ۱؎ان تینوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت فرمایا۔

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الأُمَّةِ كُلَّ مُنَافِقٍ يَتَكَلَّمُ بِالْحِكْمَةِ وَيَعْمَلُ بِالْجَوْرِ". رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5337 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان

روایت ہے حضرت مہاجر ابن حبیب سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اتعالٰی فرماتا ہے کہ میں حکمت والے کا ہر کلام قبول نہیں کرتا لیکن میں اس کا ارادہ اس کی خواہش قبول کرتا ہوں ۲؎تو اگر اس کا ارادہ اور اس کی خواہش میری فرمانبرداری میں ہو تو اس کی خاموشی کو بھی اپنی حمد اور وقار بنا دیتا ہوں اگرچہ کچھ نہ بولے ۳؎(دارمی)

وَعَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:إِنِّي لَسْتُ كُلَّ كَلَامِ الْحَكِيمِ أَتَقبَّلُ، وَلَكِنِّي أَتَقَبَّلُ هَمَّهُ وَهَوَاهُ، فَإِنْ كَانَ هَمُّهُ وَهَوَاهُ فِي طَاعَتِي جَعَلْتُ صَمْتَهُ حَمْدًا لِي وَوَقَارًا وإِنْ لمْ يَتَكَلَّمْ". رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 5338 ، باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان