باب:کھانوں کا بیان

کھانوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت عمر ابن ابی سلمہ رضی الله عنہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پرورش میں تھا اور میرا ہاتھ پیالے میں گھومتا تھا ۲؎تو مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله کا نام لو اور اپنے داہنے ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ ۳؎(مسلم،بخاری)

عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَقَالَ: كُنْتُ غُلَامًا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ. فَقَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «سَمِّ اللّٰهَ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4159 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نےکہ شیطان کھانے کو اپنے لیے حلال بنا لیتا ہے اس بناء پر کہ اس پر بسم الله نہ پڑھی جائے(مسلم) ۱؎

وَعَنْ حُذَيْفَة قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ أَنْ لَا يُذْكَرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4160 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب کوئی شخص اپنے گھر میں گھسے تو داخلہ کے وقت اوراپنے کھانے کے وقت الله کا ذکر کرے تو شیطان کہتا ہے کہ نہ تمہارے لیے شب باشی ہے نہ کھانا ۱؎اورجب داخل ہو تو الله کا ذکر اپنے داخلہ پر نہ کرے تو شیطان کہتا ہے تم نے شب باشی پالی اور جب اپنے کھانے پر الله کا ذکر نہ کرے تو کہتا ہے تم نے شب باشی اورکھانا پالیا ۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ فِيْ بَيْتِهٖ فَذَكَرَ اللّٰهَ عِنْدَ دُخُولِهٖ وَعِنْدَ طَعَامِهٖ قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللّٰهَ عِنْدَ دُخُولِهٖ قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللّٰهَ عِنْدَ طَعَامِهٖ قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4161 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی کھائے تو داہنے ہاتھ سے کھائے اور جب پئے تو اپنے داہنے ہاتھ سے پیئے ۱؎(مسلم)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهٖ وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهٖ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4162 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے نہ اس سے پئے کیونکہ شیطان اپنے بائیں سے کھاتا پیتا ہے ۱؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهٖ وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهٖ وَيَشْرَبُ بِهَا . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4163 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تین انگلیوں سے کھاتے تھے ۱؎اور پونچھنے سے پہلے اپنا ہاتھ چاٹ لیتے تھے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ بِثَلَاثَةِ أَصَابِعَ وَيَلْعَقُ يَدَهٗ قَبْلَ أَنْ يَمْسَحَهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4164 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے انگلیوں اور پیالے کو چاٹنے کا حکم دیا ۱؎اور فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ کس میں برکت ہے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِلَعْقِ الْأَصَابِعِ وَالصَّفْحَةِ وَقَالَ: " إِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ: فِي أَيَّۃٍ اَلْبَرَكَةُ؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4165 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی الله عنھما سے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی کھائے تو اپنا ہاتھ نہ پونچھے حتی کہ اسے چاٹ لے یا چٹا دے ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَايَمْسَحْ يَدَهٗ حَتّٰى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4166 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس اس حالت میں موجود رہتا ہے ۱؎حتی کہ اس کے کھانے کے وقت بھی آموجود ہوتا ہے تو جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو جو اس میں گندگی ہو وہ دورکردے ۲؎پھر اسے کھالے اور اسے شیطان کےلیے نہ چھوڑے۳؎پھرجب فارغ ہوجائے تواپنی انگلیاں چاٹ لے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہوگی ۴؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ أَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَأْنِهٖ حَتّٰى يَحْضُرَهٗ عِنْدَ طَعَامِهٖ فَإِذَا سَقَطَتْ مِنْ أَحَدِكُمْ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ أَذًى ثُمَّ لِيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعَهَا لِلشَّيْطَانِ، فَإِذَا فَرَغَ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهٗ فَإِنَّهٗ لَا يَدْرِي: فِي أَيِّ طَعَامِهٖ يَكُونُ الْبَرَكَةُ؟ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4167 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابو جحیفہ سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ میں تکیہ لگا کر نہ کھاؤں گا ۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: « لَا آكُلُ مُتَّكِئًا » . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4168 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت قتادہ سے ۱؎وہ حضرت انس رضی الله عنہ سے راوی فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے نہ تو میز پر کھانا کھایا نہ چھوٹی پیالی میں ۲؎اور نہ آپ کے لیے چپاتی پکائی گئی ۳؎قتادہ رضی الله عنہ سے کہا گیا کہ کس چیز پر وہ حضرات کھاتے تھے تو فرمایا دستر خوانوں پر ۴؎(بخاری)

وَعَنْ قَتَادَة َعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰى خَوَانٍ وَلَا فِي سَكْرَجَّةٍ وَلَا خُبِزَ لَهٗ مُرَقَّقٌ قِيلَ لِقَتَادَةَ: عَلٰى مَا يَأْكُلُون؟ قَالَ: عَلَى السُّفُرِ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4169 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے فرماتے ہیں کہ مجھے علم نہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے روٹی چپاتی دیکھی حتی کہ الله سے مل گئے ۱؎اور نہ بھنی ہوئی بکری آنکھ سے کبھی دیکھی ۲؎(بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: مَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتّٰى لَحِقَ بِاللّٰهِ وَلَا رَأٰى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهٖ قَطُّ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4170 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے میدہ نہ دیکھا ۱؎جب سے الله نے آپ کو مبعوث فرمایا ۲؎حتی کہ الله نے آپ کو وفات دی اور فرمایا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے چھلنی نہ دیکھی جب سے الله نے آپ کو مبعوث فرمایا حتی کہ الله نے آپ کو وفات دی ۳؎کہا گیا کہ آپ حضرات جَو کیسے کھاتے تھے فرمایا ہم انہیں پیس لیتے تھے اور اسے پھونکتے تھے جو اڑتا اڑ جاتا جو باقی بچتا ہم گوندھ لیتے پھر کھالیتے ۴؎(بخاری)

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَا رَأٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللّٰهُ حَتّٰى قَبَضَهُ اللّٰهُ وَ قَالَ: مَا رَأٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخِلًا مِنْ حِينِ ابْتَعَثَهُ اللّٰهُ حَتّٰى قَبَضَهُ اللّٰهُ قِيلَ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ ؟ قَالَ: كُنَّا نَطْحَنُهٗ وَنَنْفُخُهٗ فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4171 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ حضور نے کبھی کھانے کو عیب نہیں لگایا اگر پسند فرمایا تو اسے کھالیا اگر ناپسند فرمایا تو چھوڑ دیا ۱؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: مَا عَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهٗ وَإِنْ كَرِهَهٗ تَرَكَهٗ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4172 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے ان ہی سے کہ ایک شخص بہت کھاتا تھا پھر وہ مسلمان ہوگیا تو کھانا کم کھانے لگا ۱؎یہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا گیا تو فرمایا مؤمن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے ۲؎(بخاری)

وَعَنْهُ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا فَأَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ قَلِيلًا فَذُكِرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ».رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4173 ، باب:کھانوں کا بیان

اور مسلم نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کی

وَرَوٰى مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي مُوسٰى

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4174 ، باب:کھانوں کا بیان

اور ابن عمر سے صرف مسند کی روایت کی

وَابْنِ عُمَرَ الْمُسْنَدَ مِنْهُ فَقَطْ.

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4175 ، باب:کھانوں کا بیان

اور ان کی دوسری روایت میں حضرت ابوہریرہ سے ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہاں ایک کافر مہمان ہوا ۱؎رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا حکم دیا تو دوہی گئی اس نے اس کا دودھ پیا پھر دوسری اس نے وہ بھی پی لیا پھر اور،وہ اسے بھی پی گیا حتی کہ سات بکریوں کا ۲؎دودھ پی گیا صبح کے وقت مسلمان ہوگیا ۳؎پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا حکم دیا وہ دو ہی گئی اس نے اس کا دودھ پی لیا پھر دوسری کا حکم دیا تو اسے نہ پی سکا ۴؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مؤمن ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۵؎

وَفِي أُخْرٰى لَهٗ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهٗ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرٰى فَشَرِبَهٗ ثُمَّ أُخْرٰى فَشَرِبَهٗ حَتّٰى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهٗ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرٰى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يشربُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ »

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4176 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دو کا کھانا تین کو کافی ہے اور تین کا کھانا چار کو کافی ہے ۱؎(مسلم۔بخاری)

وَعَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ، وَطَعَامُ الثَّلَاثَةِ كَافِي الأَرْبَعَةِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4177 ، باب:کھانوں کا بیان

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ایک کا کھانا دو کو کافی اور دو کا کھانا چار کو کافی ہے اور چار کا کھانا آٹھ کو کافی ہے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4178 ، باب:کھانوں کا بیان