باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

اچھی باتوں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 6

روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس سے کہا کیا رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ میں مصافحہ مروج تھا فرمایا ہاں ۱∞؎(بخاری)

عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: أَكَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4677 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حسن ابن علی کو چوما ۱∞؎اور آپ کے پاس اقرع ابن حابس تھے ۲؎وہ بولے کہ میرے دس بچے ہیں میں نے ان میں سے کسی کو نہ چوما۳؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں دیکھا پھر فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا وہ رحم نہیں کیا جاتا ۴؎(مسلم بخاری) ہم جناب ابوہریرہ کی حدیثاثم لکعمناقب اہل بیت نبی صلی الله علیہ وسلم کے باب میں ذکر کریں گےان شاءاللهاور ام ہانی کی حدیثباب الامانمیں ذکر کردی گئی ۵؎

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَبَّلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَعِنْدَهُ الأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ. فَقَالَ الْأَقْرَعُ: إِنَّ لِيْ عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَثَمَّ لُكَعُ فِي بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ إِنْ شَاءَ تَعَالٰى وَذَكَرَ حَدِيثَ أُمِّ هَانِئٍ فِي بَابِ الْأَمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4678 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کوئی دو مسلمان نہیں جو آپس میں ملیں پھر مصافحہ کریں مگر ان کے جدا ہونے سے پہلے دونوں بخش دیئے جاتے ہیں ۱∞؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا جب دو مسلمان ملیں تو مصافحہ کریں الله تعالیٰ کی حمد کریں اور اس سے معافی چاہیں تو ان کی بخشش کردی جاتی ہے ۲؎

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: إِذَا الْتَقَى المُسْلِمَانِ فَتَصَافَحَا وَحَمِدَا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَاهُ غُفِرَ لَهُمَا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4679 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یارسول الله ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے تو کیا اس کے آگے جھکے فرمایا نہیں ۱∞؎کہا کیا اس سے لپٹ جاوے اور اسے چومے فرمایا نہیں ۲؎عرض کیا کہ کیا اس کا ہاتھ پکڑ ے اور اس سے مصافحہ کرے فرمایا ہاں۳؎(ترمذی)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ الرَّجُلُ مِنَّا يَلْقٰى أَخَاهُ أَوْ صَدِيقَهٗ أَيَنْحَنِي لَهُ؟ قَالَ: لَا . قَالَ: أَفَيَلْتَزِمُهٗ وَيُقَبِّلُهُ؟ قَالَ: لَا . قَالَ: أَفَيَأْخُذُ بِيَدِهٖ وَ يُصَافِحُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4680 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیمار کی پوری مزاج پرسی یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک اپنا ہاتھ اس کی پیشانی پر یا اس کے ہاتھ پر رکھے پھر اس سے پوچھے کہ وہ کیسا ہے ۱∞؎اور تمہاری آپس کی پوری تحیت مصافحہ ہے ۲؎(احمد،ترمذی)اور ترمذی نے اسے ضعیف کہا۔

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: " تَمَامُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَن يَّضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهٗ عَلٰى جَبْهَتِهٖ أَوْ عَلٰى يَدِهٖ فَيَسْأَلَهُ:كَيْفَ هُوَ؟ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمُ الْمُصَافَحَةُ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهٗ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4681 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ زید ابن حارثہ مدینہ آئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم میرے گھر میں تھے ۱ ∞؎وہ حضور کے پاس آئے تو دروازہ کھٹکھٹایا تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان کی طرف برہنہ چلے اپنا کپڑا کھینچتے ہوئے ۲؎بخدا میں نے آپ کو برہنہ دیکھا نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۳؎تو حضور نے انہیں گلے لگالیا انہیں چوما۴؎(ترمذی)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْمَدِينَةَ وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَأَتَاهُ فَقَرَعَ الْبَابَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرْيَانًا يَجُرُّ ثَوْبَهٗ وَاللّٰهِ مَا رَأَيْتُهٗ عُرْيَانًا قَبْلَهٗ وَلَا بَعْدَهٗ فَاعْتَنَقَهٗ وَقَبَّلَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4682 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے ایوب ابن بشیر سے وہ عنزہ کے ایک شخص سے راوی ۱∞؎فرماتے ہیں کہ میں نے ابوذر سے کہا کیا نبی صلی الله علیہ وسلم جب تم ان سے ملتے تو تم سے مصافحہ کرتے تھے ۲؎فرمایا کبھی ایسا نہ ہوا کہ میں آپ سے ملا ہوں اور مجھ سے مصافحہ نہ کیا ۳؎حضور نے مجھے ایک دن بلایا میں اپنے گھر میں نہ تھا پھر جب میں آیا تو مجھے خبر دی گئی تو میں حضور کے پاس آیا آپ ایک تخت پر تھے مجھے لپٹا لیا تو یہ بہت اچھا بہت اچھا ہوا ۴؎(ابواداؤد)

وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ أنَّهٗ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟قَالَ: مَا لَقِيتُهٗ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي وَبَعَثَ إِلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ فَأَتَيْتُهٗ وَهُوَ عَلٰى سَرِيرٍ فَالْتَزَمَنِي فَكَانَتْ تِلْكَ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4683 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت عکرمہ ابن ابوجہل سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جس دن میں آپ کے پاس آیا ۲؎خوش آمدید مہاجر سوار۔ (ترمذی)

وَعَنْ عِكْرَمَةَ بْنِ أَبِيْ جَهْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جِئْتُهُ: مَرْحَبًا بِالرَّاكِبِ الْمُهَاجِرِ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4684 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت اسید ابن حضیر سے جو انصاری آدمی ہیں ۱∞؎فرمایا جب کہ وہ قوم سے بات چیت کر رہے تھے ان کی طبیعت میں مذاق تھا ۲؎جب کہ وہ لوگوں کو ہنسا رہے تھے تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں چھڑی چبھودی ۳؎وہ بولے مجھے قصاص دیجئے حضور نے فرمایا قصاص لے لو عرض کیا کہ آپ پر قمیض ہے اور مجھ پر نہیں تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے اپنی قمیض اٹھا دی۴؎وہ حضور کو لپٹ گئے اور آپ کی کوکھ شریف چومنے لگے پھر بولے یارسول الله صلی الله علیہ وسلم میں نے یہ چاہا تھا ۵؎(ابوداؤد)

وَعَنْ أُسَيدِ بْنِ حُضَيرٍ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِقَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَكَانَ فِيهِ مُزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهٖ بِعُودٍ فَقَالَ : أَصْبِرْنِي.قَالَ:«اِصْطَبِرْ». قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهٖ فَاحْتَضَنَهٗ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهٗ قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هٰذَا يَا رَسُوْلَ اللهِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4685 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت شعبی سے ۱∞؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جناب جعفر ابن ابی طالب سے ملے تو حضور نے انہیں لپٹا لیا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ۲؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان ارسالًا)اور مصابیح کے بعض نسخوں اور شرح سنہ میں بیاضی سے بطور اتصال روایت ہے ۳؎

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَالْتَزَمَهٗ وقبَّلَ مَابَيْنَ عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ مُرْسَلًاوَفِي بَعْضِ نُسَخِ الْمَصَابِيحِ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنِ الْبَيَاضِيْ مُتَّصِلاً

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4686 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت جعفر ابن ابی طالب سے کہ زمین حبشہ سے لوٹنے کے قصہ میں فرماتے ہیں کہ ہم چلے حتی کہ ہم مدینہ پہنچے تو مجھ سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم ملے حضور نے مجھے گلے لگالیا پھر فرمایا میں نہیں جانتا کہ میں خیبر کی فتح سے زیادہ خوش ہوا یا جعفر کے آنے سے اور اتفاقًا یہ آمد فتح خیبر کے دن ہوئی تھی ۱∞؎(شرح السنہ)

وَعَنْ جَعْفَرَ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فِي قِصَّةِ رُجُوعِهٖ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ قَالَ: فَخَرَجْنَا حَتّٰى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَتَلَقَّانِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَنَقَنِي ثُمَّ قَالَ: " مَا أَدْرِي: أَنَا بِفَتْحِ خَيْبَرَ أَفْرَحُ أَمْ بِقُدُومِ جَعْفَرٍ؟ . وَوَافَقَ ذٰلِكَ فَتْحَ خَيْبَرَ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ "

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4687 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت زارع سے ۱∞؎اور وہ عبدالقیس کے وفد میں تھے فرماتے ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے تو ہم اپنی سواریوں سے جلد ی آنے لگے ۲؎تو ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں چومتے تھے ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ زَارِعٍ وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهٗ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4688 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہیئت عادت صورت میں ۱∞؎ایک روایت میں ہے اور بات و گفتگو میں پورا پورا مشابہہ ہو بمقابلہ جناب فاطمہ کے آپ جب حضور کی خدمت میں آتیں تو حضور ان کے لیے کھڑے ہوجاتے ان کا ہاتھ پکڑتے انہیں چومتے انہیں اپنی مجلس میں بٹھاتے ۲؎اور جب حضور انور ان کے پاس تشریف لاتے تو ان کے لیے کھڑی ہوجاتیں حضور کا ہاتھ پکڑتیں اسے بوسہ دیتیں اور آپ کو اپنی جگہ بیٹھالیتیں ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ سَمْتًا وَهَدْيًا وَدَلًّا. وَفِي رِوَايَةٍ حَدِيثًا وَكَلَامًا بِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ كَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَقَبَّلَهَا وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهٖ وَكَانَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِلَيْهِ فَأَخَذَتْ بِيَدِهٖ فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مجلسِها. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4689 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں اولین آمد کے موقعہ پر حضرت ابوبکر کے ساتھ گیا ۱∞؎تو آپ کی دختر جناب عائشہ لیٹی ہوئی تھیں انہیں بخار آگیا تھا۲؎تو ان کے پاس ابوبکر آئے بولے اے بچی تو کیسی ہے اور انکا رخسا چوما ۳؎(ابوداؤد)

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِيْنَةَ فَإِذاً عَائِشَةُ اِبْنَتَہٗ مُضْطَجِعَةٌ قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى فَأَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ؟ وَقَبَّلَ خَدَّهَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4690 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس ایک بچہ لایا گیا ۱∞؎تو آپ نے اسے چوما پھر فرمایا کہ یقینًا یہ بخیل اور بزدل بنانے والے ہیں ۲؎اور یہ الله کے اعلیٰ رزق سے ہیں ۳؎(شرح السنہ)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِصَبِيٍّ فَقَبَّلَهٗ فَقَالَ: أَمَا أَنَّهُمْ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ وَإِنَّهُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللهِ . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4691 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے یعلیٰ سے ۱∞؎کہ حسن اور حسین رسولالله صلی الله علیہ وسلمکے پاس دوڑتے ہوئے آئے تو حضور نے انہیں اپنے سے چمٹا لیا اور فرمایا کہ اولاد بخیل اور بزدل بنا دینے والی ہے۲؎(احمد)

عَنْ يَعْلٰى قَالَ: إِنَّ حَسَنًا وحُسَيْناً اِسْتَبَقَا إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ وَقَالَ: إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4692 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے عطاء خراسانی ہے ۱∞؎کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں مصافحہ کرو کینہ جاتا رہے گا اور آپس میں ہدیے تحفے دو محبت کرنے لگو گے اور دشمنی جاتی رہے گی ۲؎(مالک ارسالًا)

وَعَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَصَافَحُوا يَذْهَبُ الْغِلُّ وَتَهَادَوْا تَحَابُّوا وَتَذْهَبِ الشَّحْنَاءُ رَوَاهُ مَالِكٌ مُرْسَلًا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4693 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو دوپہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھ لے ۱∞؎تو گویا اس نے وہ شبِ قدر میں پڑھیں ۲؎اور دو مسلمان جب آپس میں مصافحہ کریں تو ان کے درمیان کوئی گناہ باقی نہیں رہتا مگر جھڑ جاتا ہے ۳؎(بیہقی)

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلّٰى أَرْبَعًا قَبْلَ الْهَاجِرَةِ فَكَأَنَّمَا صَلَّاهُنَّ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَالْمُسْلِمِیْنَ إِذَا تَصَافَحَا لَمْ يَبْقَ بَيْنَهُمَا ذَنْبٌ إِلَّا سَقَطَ . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 4694 ، باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب