- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
باب:حرام عورتوں کابیان
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ عورت اور نہ اس کی پھوپھی کو جمع کیا جائے ۱؎اور نہ عورت اور اس کی خالہ کو ۲؎(مسلم،بخاری)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا". مُتفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3160 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دودھ کے رشتہ سے وہ ہی عورتیں حرام ہوتی ہیں جو ولادت کے رشتہ سے حرام ہوتی ہیں ۱؎(بخاری)۲؎
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَة". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3161 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میرے دودھ کے چچا آئے اور میرے پاس آنے کی اجازت مانگی۱؎میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کیا تاآنکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے حضور سے پوچھا فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں،اجازت دے دو ۲؎فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا۳؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے چچا ہیں تمہارے پاس آسکتے ہیں ۴؎یہ واقعہ ہم پر پردہ فرض ہونے کے بعد کا ہے ۵؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: "إِنَّهُ عَمُّكِ فَأْذَنِي لَهُ" قالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَة وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّه عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ" وَذَلِكَ بَعْدَمَا ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3162 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت علی سے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آپ کو اپنے چچا حمزہ کی بیٹی میں رغبت ہے وہ قریش میں حسین ترین لڑکی ہے ۱؎تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تمہیں علم نہیں کہ حمزہ میرے دودھ کے بھائی ہیں ۲؎اور یہ کہ اللہ نے دودھ کے رشتہ سے وہ عورتیں حرام کیں جو نسب سے حرام فرمائیں ۳؎(مسلم)
وَعَن عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! هَلْ لَكَ فِي بِنْتِ عَمِّكَ حَمْزَةَ؟ فَإِنَّهَا أَجْمَلُ فَتَاةٍ فِي قُرَيْشٍ فَقَالَ لَهُ: "أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ حَمْزَةَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ؟ وَأَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3163 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت ام الفضل سے ۱؎فرماتی ہیں کہ نبی ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا كه ایک بار یا دو بار دودھ پینا حرام نہیں کرتا ۲؎
وَعَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: إِنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ أَوِ الرَّضْعَتَانِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3164 ، باب:حرام عورتوں کابیان
اور حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا ایک دو چوسنیاں حرام نہیں کرتیں۔
وَفِي رِوَايَةِ عَائِشَةَ قَالَ: "لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ"
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3165 ، باب:حرام عورتوں کابیان
اور ام الفضل کی دوسری روایت میں ہے کہ فرمایا کہ ایک دوبار منہ میں پستان دینا حرام نہیں کرتا ۳؎یہ مسلم کی روایتیں ہیں۔
وَفِي أُخْرَى لأُمِّ الْفَضْلِ قَالَ: "لَا تُحَرِّمُ الإِمْلَاجَةُ أَوِ الإِمْلَاجَتَانِ". هَذِه رِوَايَاتُ الْمُسْلِمِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3166 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نازل شدہ قرآنی آیات میں یہ آیت بھی تھی کہ دس معلوم چسکیاں حرام کرتی ہیں پھر پانچ معلوم چسکیوں سے منسوخ کی گئیں ۱؎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی حالانکہ وہ قرآن سے پڑھی جاتی تھیں ۲؎(مسلم)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3167 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے حالانکہ ان کے پاس ایک شخص تھا شاید آپ کو یہ ناپسند آیا ۱؎تو حضرت عائشہ نے عرض کیا کہ یہ میرے بھائی ہیں فرمایا غور کرلو کہ تمہارے بھائی کون ہیں۔شیر خوارگی بھوک کے زمانہ سے ہوتی ہے ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ، فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ فَقَالَت: إِنَّه أَخي فَقَالَ: "انْظُرْنَ مَنْ إِخْوَانُكُنَّ؟ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3168 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت عقبہ سے ۱؎کہ انہوں نے ابو اھاب ابن عزیز کی بیٹی سے نکاح کیا تو ایک عورت آئی بولی کہ میں نے عقبہ کو اور جس سے انہوں نے نکاح کیا ہے اسے دودھ پلایا ہے ۲؎تو اس سے عقبہ نے کہا کہ مجھے پتہ نہیں کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے ۳؎اور نہ تم نے مجھے اس کی خبر دی انہوں نے ابواہاب کے گھر والوں کے پاس بھیجا ان سے پوچھا وہ لوگ بولے ہم کو خبر نہیں کہ ہماری لڑکی کو اس نے دودھ پلایا ہے ۴؎تو یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مدینہ سوار ہو کر پہنچے اور آپ سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نکاح کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ یہ کہا گیا ۵؎چنانچہ عقبہ نے اسے چھوڑ دیا اس نے دوسرے خاوند سے نکاح کرلیا۶؎(بخاری)
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ: أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ، فَأَتَتِ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ بِهَا، فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ: مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ قَدْ أَرْضَعْتِنِي وَلَا أَخْبَرْتِنِي، فَأَرْسَلَ إِلَى آلِ أَبِي إِهَابٍ فَسَأَلهُم فَقَالُوا: مَا عَلِمْنَا أَرْضَعَتْ صَاحِبَتَنَا، فَرَكِبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ؟ " فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ، وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3169 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے دن ایک لشکر اوطاس کی طرف روانہ فرمایا ۱؎یہ لوگ دشمن کے مقابل ہوئے ان پر جہاد کیا پھر غالب آگئے ان کی کچھ عورتیں قید کرلیں ۲؎نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ نے ان کی صحبت میں حرج سمجھا ان کے مشرک خاوندو ں کی وجہ سے ۳؎تب اس بارے میں یہ آیت اللہ تعالٰی نے اتاری کہ تم پر خاوند والیاں عورتیں حرام سوا ان کے جن کے تم مالک ہوجاؤ ۴؎یعنی وہ ان پر حلال ہیں جب کہ ان کی عدت گزر جائے ۵؎(مسلم)
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعَثَ جَيْشًا إِلَى أَوْطَاسٍ، فَلَقُوا عَدُوًّا فَقَاتَلُوهُمْ، فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سبَايَا، فَكَأَنَّ نَاسًا مِنْ أَصحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكينَ، فَأَنزَلَ اللّٰهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ: وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ أَيْ:فَهُنَّ لَهُم حَلَالٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3170 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے اس کی پھوپھی پر یا پوپھی سے اس کی بھتیجی پر ۱؎یا عورت سے اس کی خالہ پر یا خالہ سے اس کی بھیتجی پر۱؎نہ چھوٹی سے بڑی پر نکاح کیا جائے نہ بڑی سے چھوٹی پر ۲؎(ترمذی، ابوداؤد، دارمی،نسائی)اور نسائی کی روایت میں بھانجی تک ہے ۳؎
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوِ الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، أَوِ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، أَوِ الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، لَا تُنْكَحُ الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى وَلَا الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَالنَّسَائِيُّ، وَرِوَايَتُهُ إِلَى قَوْلِهِ: "بِنْتِ أُخْتِهَا".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3171 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں مجھ پر میرے ماموں ابوبردہ ابن نیار گزرے ۱؎اور ان کے ساتھ جھنڈا تھا ۲؎میں نے کہا آپ کہاں جاتے ہیں فرمایا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے کہ اس کا سر آپ کے پاس لاؤں ۳؎(ترمذی، ابو داؤد،نسائی،اور ابن ماجہ)
دارمی کی روایت میں ہے کہ مجھے حضور نے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں ۴؎اور اس روایت میں بجائے ماموں کے چچا فرمایا ۵؎
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَمَعَهُ لِوَاءٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ آتِيهِ بِرَأْسِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد.وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ وَلِلنَّسَائِيِّ وَابْنِ مَاجَهْ وَالدَّارمِي:فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ، وَآخُذُ مَالَهُ، وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ قَالَ: "عَمِّي" بَدَلَ "خَالِي".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3172 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں حرام کرتا شیر خوارگی سے مگر پستان میں کا وہ دودھ جو آنتیں چیرے ۱؎اور دودھ چھوڑانے سے پہلے ہو ۲؎(ترمذی)
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَت: قَالَ رَسُول اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا مَا فَتَقَ الأَمعَاءَ فِي الثَّدي، وَكَانَ قبلَ الفِطَام". رَوَاهُ التَرِّمِذِي.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3173 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت حجاج ابن حجاج اسلمی سے وہ اپنے باپ سےراوی ۱؎انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲکون چیز مجھ کو شیر خوارگی کا حق ادا کراسکتی ہے ۲؎فرمایا غلام یا لونڈی کی پیشانی ۳؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی،دارمی)
وَعَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَاجٍ الأَسلَمِيِّ عنْ أَبيِهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسولَ اللّٰهِ! مَا يُذهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعِ؟ فَقَالَ: "غُرَّةُعَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3174 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت ابو طفیل غنوی سے ۱؎فرماتے ہیں میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بی بی صاحبہ آئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھادی حتی کہ وہ اس پر بیٹھ گئیں ۲؎توپھر جب وہ چلی گئیں تو کہا گیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا ہے ۳؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْغَنَوِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ، فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ: هَذِهِ أَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3175 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ غیلان ابن سلمہ ثقفی اسلام لائے ۱؎ان کے زمانہ جاہلیت میں دس بیویاں تھیں وہ بھی انکے ساتھ اسلام لائیں ۲؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار کو رکھ لو باقی کو علیحدہ کردو ۳؎(احمد،ترمذی، ابن ماجہ)
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ، وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَمْسِكْ أَرْبَعًا، وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3176 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت نوفل ابن معاویہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں اسلام لایا حالانکہ میرے قبضہ میں پانچ بیویاں تھیں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو فرمایا ایک کو جدا کردو اور چار کو رکھ لو ۲؎چنانچہ میں نے ان میں سے اپنی پرانی صحبت والی جو ساٹھ سالہ بانجھ تھی ۳؎ادھر توجہ کی اور اسے جدا کردیا(شرح سنہ)
وَعَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي خَمْسُ نِسْوَةٍ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "فَارِقْ وَاحِدَةً، وَأَمْسِكْ أَرْبَعًا" فَعَمَدْتُ إِلَى أَقْدَمِهِنَّ صُحْبَةً عِنْدِي: عَاقِرٍ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً فَفَارَقتُهَا. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُنَّةِ".
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3177 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت ضحاک ابن فیروز دیلمی سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسولﷲ(صلی اللہ علیہ وسلم) میں مسلمان ہوگیا ہوں اور میری زوجیت میں دو بہنیں ہیں فرمایا ان دونوں میں سے جس کو چاہو اختیار کرلو ۲؎(ترمذی،ابو داؤد، ابن ماجہ)
وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ قَالَ: "اخْتَر أَيَّتَهُمَا شِئْتَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابنُ مَاجَهْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3178 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں ایک عورت مسلمان ہوئی اس نے نکاح کرلیا ۱؎پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا خاوند حاضر ہوا عرض کیا یارسول اﷲمیں مسلمان ہوچکا ہوں اور اس عورت کو میرے اسلام کا علم ہے ۲؎چنانچہ رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوسرے خاوند سے علیحدہ کردیا۔ اور پہلے خاوند کی طرف لوٹا دیا ۳؎اور ایک روایت میں ہے وہ بولا کہ یہ میرے ساتھ مسلمان ہوئی تھی تب حضور نے اسے واپس کردیا ۴؎(ابوادؤد)
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَعَلِمَتْ بإِسْلَامِي، فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا الآخَرِ، وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ، وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّهُ قَالَ: إِنَّهَا أَسْلَمَتْ مَعِي فَرَدَّهَا عَلَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3179 ، باب:حرام عورتوں کابیان
- 1
- 2