- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 5
- نکاح کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
باب:حرام عورتوں کابیان
نکاح کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 5
اور شرح سنہ میں روایت کی گئی کہ عورتوں کی ایک جماعت ہے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نکاح کی بنا پر ان کے خاوندوں پر واپس فرمایا، دونوں اسلاموں کے جمع ہونے کے وقت ۱؎دین اور ملک علیحدہ ہونے کے باوجود۲؎ان ہی سے ولید ابن مغیرہ کی بیٹی بھی ہے جو صفوان ابن امیہ کی زوجہ تھیں وہ فتح کے دن اسلام لائیں اور ان کے خاوند اسلام سے بھاگ گئے تو ان کے چچا زاد بھائی وہب ابن عمیر نے ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر بطور امان صفوان کے لیے بھیجی ۳؎پھر جب وہ آئے تو انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار ماہ کا دیس نکالا دیا ۴؎تاآنکہ وہ مسلمان ہوئے ۵؎پھر ان کی بیوی ان کے پاس رہیں ۶؎اور ام حکیم بنت حارثہ ابن ہشام یعنی عکرمہ ابن ابوجہل کی بیوی فتح مکہ کے دن ایمان لے آئیں اور ان کے خاوند اسلام سے بھاگ گئے ۷؎حتی کہ یمن پہنچ گئے ۸؎ام حکیم چلیں تاآنکہ ان کے پاس یمن میں پہنچ گئیں پھر انہیں دعوت اسلام دی چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے اور یہ دونوں اپنے نکاح پر قائم رہے ۹؎(مالک عن ابن شہاب مرسلًا)۱۰؎
وَرُوِيَ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ": أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ النِّسَاءِ رَدَّهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنِّكَاحِ الأَوَّلِ عَلَى أَزوَاجِهِنَّ عِنْد اجْتِمَاعِ الإِسْلَامَيْنِ بَعْدَ اخْتِلَافِ الدِّينِ وَالدَّارِ، مِنْهُنَّ: بِنْتُ الْوَليدِ بْنِ مُغِيرَةَ كَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَةَ، فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ،وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الإِسلَامِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْن عُمَيرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ،فَلَمَّا قَدِمَ جَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْيِيرَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ حَتَّى أَسْلَمَ، فَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ، وَأَسْلَمَتْ أَمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ امْرَأَةُ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْل يَوْمَ الْفَتْح بِمَكَّةَ، وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ، فَارْتَحَلَتْ أَمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ الْيَمَنَ، فَدَعَتْهُ إِلَى الإِسْلَامِ، فَأَسْلَمَ، فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شهَاب مُرْسَلًا.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3180 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نسب سے سات عورتیں حرام ہیں ۱؎اور سسرالی رشتہ سے سات پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی حرام کی گئیں تم پر تمہاری مائیں ۲؎الایہ(بخاری)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: حُرِّمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ، ثُمَّ قَرَأَ: حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ الآية .رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3181 ، باب:حرام عورتوں کابیان
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس سے صحبت کرے تو اس کی بیٹی کا نکاح حلال نہیں ۱؎اور اگر اس سے صحبت نہیں کی تو اس کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے ۲؎اور جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے تو اسے اس عورت کی ماں سے نکاح حلال نہیں اس سے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو
۳؎(ترمذی)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث اسناد کی طرف سے صحیح نہیں هے ۴؎اسے ابن لہیعہ اور مثنی ابن صباح نے عمرو ابن شعیب سے روایت کیا اور وہ دونوں حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں،۵؎
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَدَخَلَ بهَا فَلَا يَحِلُّ لَهُ نِكَاحُ ابْنَتِهَا، وَإِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَلْيَنْكِحِ ابْنَتَهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً فَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْكِحَ أُمَّهَا دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ لَا يَصِحُّ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ لَهِيعَةَ وَالْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شعَيْبٍ، وَهُمَا يُضَعَّفَانِ فِي الْحَدِيثِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 3182 ، باب:حرام عورتوں کابیان
- 1
- 2