باب: تعویذوں کے بارے میں

دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 4

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے اللّٰہ کی پناہ مانگو آفت کی مشقتوں سے ۱؎اور بدبختی کے پہنچنے سے اور برے فیصلے سے ۲؎اور دشمنوں کے طعنوں سے ۳؎(مسلم، بخاری)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَعَوَّذُوا بِاللّٰهِ مِنْ جَهْدِ الْبَلَاءِ وَدَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ، وَشَمَاتَةِ الأَعْدَاءِ »(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2457 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ مانگتاہوں،رنج و غم سے عاجزی و سستی سے اور بزدلی و کنجوسی سے،قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے ۱؎(مسلم،بخاری)۲؎

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسْلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلْعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ»
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2458 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم کہتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں سستی سے ، بڑھاپے سے ،قرض سے اور گناہ سے ۱؎الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں آگ کے عذاب سے،آگ کے فتنہ سے ۲؎اور قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے ۳؎اور مالداری اور فقیری کے فتنہ سے ۴؎اور مسیح دجال کے فتنوں سے،اللّٰه میری خطائیں دھو دے برف کے اولے کے پانی سے ۵؎اور میرا دل ایسا صاف کردے جیسے سفید کپڑا میل سے صاف کیا جاتا ہے ۶؎اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسا فاصلہ کردے جیسے پورب و پچھم کے درمیان ہے ۷؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْغِنٰى وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ اَللّٰهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّ قَلْبِي كَمَا يُنَقّٰى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمغْرِبِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2459 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں عاجز رہ جانے،سستی، بزدلی، کنجوسی، بڑھاپے ۱؎اور عذابِ قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں ۲؎الٰہی تو میرے نفس کو اس کی پرہیزگاری دے اسے پاک کردے تو بہترین پاک کرنے والا ہے ۳؎تو ہی نفس کا والی وارث ہے ۴؎الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے۵؎اور اس دل سے جو عاجزی نہ کرے اور اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جس کی قبولیت نہ ہو ۶؎(مسلم)

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسْلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اَللّٰهُمَّ آتِ نَفْسِيْ تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2460 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت عبداللّٰہ ابن عمر سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم کی دعاؤں سے یہ تھی الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں تیری نعمت کے زائل ہوجانے سے اور تیری عافیت کے منقلب ہوجانے سے ۱؎اور تیرے اچانک عتاب سے اور تیری تمام ناراضگیوں سے ۲؎(مسلم)

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نَقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخْطِكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2461 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں کیئے کی برائی سے اور نہ کیئے کی برائی سے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أعمَلْ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2462 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے ابن عباس سے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم کہتے تھے الٰہی میں تیرا مطیع ہوا تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسہ کیا ۱؎اور تیری طر ف رجوع کیا اور تیرے بھروسہ پر کفار سے جھگڑتا ہوں ۲؎الٰہی میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اس سے کہ تو مجھے گمراہ کرے ۳؎تو وہ زندہ ہے جسے موت نہیں اور تمام جن و انسان مرجائیں گے ۴؎(مسلم،بخاری)

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ» (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2463 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے تھے الٰہی میں چار چیزوں سے تیری پناہ لیتا ہوں ۱؎اس علم سے جو نفع نہ دے ۲؎اس دل سے جس میں عجز نہ ہو ۳؎اس نفس سے جو سیر نہ ہو ۴؎اس دعا سے جو سنی نہ جائے ۵؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ: مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ ". رَوَاهُ أحمدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ وابنُ مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2464 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

اور ترمذی نے اسے حضرت عبداللّٰه ابن عمرو سے روایت کیا اور نسائی نے ان دونوں صاحبوں سے۔

وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو. وَالنَّسَائِيّ عَنْهُمَا

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2465 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم پانچ چیزوں سے پناہ مانگتے تھے،بزدلی سے،بخل سے،بری عمر سے ۱؎سینوں کے فتنوں اور قبر کے عذاب سے ۲؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَسُوءِ الْعُمُرِ وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ وَعَذَابِ القَبرِ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2466 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کہا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں فقیر ی اور کمی اور ذلت سے ۱؎اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ ستاؤں یا ستایا جاؤں ۲؎(ابوداؤد، نسائی)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ وَأَعُوذُ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ» رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2467 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے ان ہی سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم کہا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں عداوت و منافقت اور بدخلقی سے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوءِ الْأَخْلَاقِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2468 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے انہی سے کہ رسولاللّٰهصلی اللّٰہ علیہ و سلم عرض کرتے تھے الٰہی میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بری بستر کی ساتھی ہے ۱؎اور خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ یہ بدترین مشیر کار ہے ۲؎(ابو داؤد،نسائی،ابن ماجہ)

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُوعِ فَإِنَّهٗ بِئْسَ الضَّجِيعُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخِيَانَةِ فَإِنَّهَا بِئْسَتِ الْبِطَانَةُ».رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَابْن مَاجَه

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2469 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں برص سے کوڑھ سے دیوانگی سے ۱؎اور بری بیماریوں سے ۲؎(ابوداؤد،نسائی)

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبَرَصِ وَالْجُذَامِ وَالْجُنُونِ وَمِنْ سَيِّئِ الأَسْقَامِ » . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2470 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت قطبہ ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ نبی کر یم صلی اللّٰہ علیہ و سلم فرماتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں بری عادتوں سے برے کاموں سے اور بری خواہشوں سے ۱؎(ترمذی)

وَعَن قُطْبةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ مُنْكَرَاتِ الأَخْلَاقِ وَالأَعْمَالِ وَالأَهْوَاءِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2471 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے شتیر ابن شکل ابن حمید سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم مجھے کوئی تعویذ سکھایئےجس سے میں تعویذ کیا کروں ۱؎فرمایا کہو الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں اپنے کان اپنی آنکھ زبان دل اور منی کی شر سے ۲؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی)

وَعَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ عَلِّمْنِي تَعْوِيذًا أَتَعَوَّذُ بِهٖ قَالَ: «قُل اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّسَمْعِي وَمن شَرّ بَصَرِي وَشَرِّ لِسَانِي وَشَرِّ قَلْبِي وَشَرِّ مَنِيِّي» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2472 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت ابوالیسر سے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم یہ دعا مانگا کرتے تھے الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں عمارت گرنے سے اور تیری پناہ لیتا ہوں اوپر سے گرجانے اور ڈوب جانے جل جانے ۱؎اور بڑھاپے سے اور تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ شیطان مجھے وسوسے دے موت کے وقت ۲؎اور تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ تیری راہ میں پیٹھ پھیرتا مروں اور تیری پناہ لیتا ہوں اس سے کہ سانپ سے ڈسا ہوا مروں۳؎(ابوداؤد،نسائی )اور دوسری روایت میں یہ زیادتی ہے کہ غم سے ۴؎

وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ التَّرَدِّي وَمِنَ الْغَرَقِ وَالْحَرْقِ وَالْهَرَمِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًارَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرٰى وَالْغَمِّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2473 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت معاذ سے وہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا اللّٰه کی پناہ مانگو اس طمع سے جو مہر لگ جانے تک پہنچادے ۱؎(احمد،بیہقی دعوات الکبیر)

وَعَنْ مُعَاذٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اسْتَعِيذُوا بِاللّٰهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلٰى طَبْعٍ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2474 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے چاند دیکھا ۱؎تو فرمایا اے عائشہ اس کی شر سے اللّٰه کی پناہ مانگو ۲؎یہ ہی وہ غائب ہوجانے والا ہے گرہن لگتے وقت ۳؎(ترمذی)

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللّٰهِ مِنْ شَرِّ هٰذَا فَإِنَّ هٰذَا هُوَ الْغَاسِقُ إِذا وَقَبَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2475 ، باب: تعویذوں کے بارے میں

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے میر ے والد سے اے حصین تم آج کل کتنے معبودوں کو پوجتے ہو میرے والد بولے سات چھ زمین کے ۲؎اور ایک آسمان کا تو فرمایا کہ ان میں سے خوف و امید کس سے رکھتے ہو بولے اس آسمان والے سے ۳؎فرمایا اے حصین اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو میں تمہیں دو دعائیں ایسی سکھاؤں جو تمہیں بہت فائدہ دیں ۴؎فرماتے ہیں جب حصین مسلمان ہوگئے تو عرض کیا یارسول اللّٰه صلی اللّٰہ علیہ و سلم مجھے وہ دعائیں سکھائیے جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ۵؎فرمایا یہ پڑھا کرو الٰہی مجھے میری ہدایت کا الہام کر اور مجھے میرے نفس کی شرارت سے پناہ دے ۶؎(ترمذی)

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي: "يَا حُصَيْنُ! كَمْ تَعْبُدُ الْيَوْمَ إِلٰهًا ؟» قَالَ أَبِي: سَبْعَةً: سِتًّا فِي الْأَرْضِ وَوَاحِدًا فِي السَّماءِ قَالَ: «فَأَيُّهُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِكَ وَرَهْبَتِكَ؟» قَالَ: الَّذِي فِي السَّمَاءِ قَالَ: «يَا حُصَيْنُ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُكَ كَلِمَتَيْنِ تَنْفَعَانِكَ» قَالَ: فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَيْنٌقَالَ: يَا رسولَ اللهِ عَلِّمْنِي الْكَلِمَتَيْنِ اللَّتَيْنِ وَعَدْتَنِي فَقَالَ: «قُلْ اَللّٰهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي وَ أَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 2476 ، باب: تعویذوں کے بارے میں