باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 2

روایت ہےحضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا گیا کہ سات ہڈیوں پرسجدہ کروں پیشانی،دو ہاتھ،دو گھٹنے،قدموں کے کنارے ۱؎اور یہ کہ کپڑے اور بال جمع نہ کریں ۲؎(مسلم،بخاری)

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلیٰ سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَی الجَبْهَةِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلَا نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَلَا الشَّعْرَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 887 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ سجدے میں برابر رہو ۱؎اور تم میں سے کوئی اپنی کہنیاں نہ بچھاوے کتے کے بچھانے کی طرح ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 888 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت براء بن عازب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم سجدہ کرو تو اپنی ہتھیلیاں رکھو ۱؎اور کہنیاں اٹھاؤ ۲؎(مسلم)

وَعَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :إِذَا سَجَدْتَ فَضَعْ كَفَّيْكَ وَارْفَعْ مِرْفَقَيْكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 889 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت میمونہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان فاصلہ رکھتے حتّٰی کہ اگر بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے نیچے سےگزرنا چاہتا توگزرجاتا ۱؎یہ ابوداؤد کے لفظ ہیں جیسے شرح سنہ میں ہے مع اسناد تصریح کی گئی ہے۲؎اورمسلم میں اس کے معنی ہیں فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اگر بکری کا بچہ آپ کے ہاتھوں کے درمیان گزرنا چاہتا توگزرجاتا۔

وَعَنْ مَيْمُونَة قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافٰى بَيْنَ يَدَيْهِ حَتّٰى لَوْ أَنَّ بُهْمَةً أَرَادَتْ أَنْ تَمُرَّ تَحْتَ يَدَيْهِ مَرَّتْ. هٰذَا لَفْظُ أبي دَاوُدَ كَمَا صَرَّحَ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِإِسْنَادِهٖ وَلِمُسْلِمٍ بِمَعْنَاهُ: قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ لَوْشَاءَتْ بُهْمَةٌ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ لَمَرَّتْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 890 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت عبد الله ابن مالک ابن بجینہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کے درمیان کشادگی فرماتےحتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوجاتی ۲؎(مسلم،بخاری)

وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ بن بُجَيْنَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتّٰى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبطَيْهِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 891 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضر ت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم اپنے سجدہ میں کہتے تھے خدایا میرے سارے گناہ بخش دے چھوٹے بڑے اگلے پچھلے کھلے چھپے ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِهٖ: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَهٗ دَقَّهٗ وَجُلَّهٗ وَأَوَّلَهٗ وَآخِرَهٗ وَعَلانِيَّتَهٗ وَسِرَّهٗ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 892 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہےحضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو بستر سے گم پایا ۱؎میں نے ٹٹولا تو میرا ہاتھ آپ کےتلوؤں پر پڑاحالانکہ آپ مسجد میں تھے اورتلوےکھڑے ہوئے تھے ۲؎اور آپ کہہ رہے تھےمولا میں تیری رضا کی تیری ناراضگی سے اور تیری معافی کی تیری سزا سے پناہ لیتا ہوں۳؎میں تیری تعریف کی طاقت نہیں رکھتا تو ویسا ہی ہے جیسےتو نےخود اپنی تعریف کی۔(مسلم)

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُهٗ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلیٰ بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ وَهُوَ يَقُولُ: «اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلیٰ نَفْسِكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 893 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ بندہ اپنے رب سے زیادہ قریب سجدہ کرتے ہوئے ہوتا ہے تو اس میں دعائیں زیادہ مانگو ۱؎(مسلم)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهٖ وَهُوَ سَاجِد ٌفَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 894 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب انسان سجدے کی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا پھرتا ہے ۱؎اورکہتاہے ہائے افسوس انسان کو سجدے کا حکم دیا گیا اس نے سجدہ کرلیا اس کے لیے تو جنت ہے اور مجھے سجدے کا حکم دیا گیا میں انکاری ہوگیا میرے لیے آگ ہے ۲؎(مسلم)

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ وَيَبْكِي يَقُولُ: يَا وَيْلَتیٰ أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 895 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت ربیعہ ابن کعب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا ۲؎تو میں آپ کے پاس وضو کا پانی اورضروریات لایا۳؎مجھ سے فرمایا کچھ مانگ لو۴؎میں نےعرض کیا کہ میں آپ سے جنت میں آپ کا ساتھ مانگتا ہوں ۵؎فرمایا اس کے سوا کچھ اوربھی میں نے عرض کیا بس یہی۶؎فرمایا اپنی ذات پر زیادہ سجدوں سے میری مدد کرو ۷؎(مسلم)

وَعَنْ رَبِيْعَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهٗ بِوَضُوئِهٖ وَحَاجَتِهٖ فَقَالَ لِي: «سَلْ» فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: «أَو غَيْرَ ذٰلِكَ» . قُلْتُ هُوَ ذَاكَ. قَالَ: «فَأَعِنِّي عَلیٰ نَفسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 896 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت معدان ابن طلحہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے غلام حضرت ثوبان سے ملا میں نے کہا کہ مجھے ایسا عمل بتائیں جو میں کروں تو الله مجھے اس کی برکت سے جنت میں داخل کردے آپ خاموش رہے میں نے پھر پوچھا آپ خاموش رہے میں نے پھرتیسری بار پوچھا تو فرمایا کہ میں نے اس بارے میں حضورصلی الله علیہ وسلم سے پوچھا تھا۲؎آپ نے فرمایا کہ الله کے لیئے زیادہ سجدے اختیارکرو۳؎کیونکہ تم الله کے لیےکوئی سجدہ نہ کرو گے مگر الله اس کی برکت سے تمہارا درجہ بڑھائے گا اورتمہاری خطا معاف کرے گا۔معدان کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابو درداء سے ملا ان سے پوچھا انہوں نے مجھ سے وہی کہا جو ثوبان نے کہا تھا۴؎(مسلم)

وَعَنْ مَعْدَانَ بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلٰى رَسُولِ
اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهٗ يُدْخِلُنِي اللهُ بِهٖ الْجَنَّةَ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهٗ فَسَكَتَ ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذٰلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلّٰهِ فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلّٰهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً» . قَالَ مَعْدَانُ: ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَسَأَلْتُهٗ فَقَالَ لِي مِثْلَ مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 897 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب سجدہ کرتے تو اپنے گھٹنے ہاتھوں سے پہلے رکھتے اور جب اٹھتے تو اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ وَإِذَا نَهَضَ رَفَعَ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ. رَوَاهُ أَبُودَاوُدَ وَ التِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدَارمِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 898 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہےحضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھے ۱؎چاہیے کہ اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلےرکھے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی،دارمی) ابوسلیمان خطابی فرماتے ہیں کہ وائل ابن حجر کی حدیث اس سے زیادہ قوی ہے ۳؎اورکہا گیاہے کہ یہ منسوخ ہے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُكْ كَمَا يَبْرُكُ الْبَعِيرُوَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَالدَارمِيْ قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ: حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَثْبَتُ مِنْ هٰذَا وَقِيلَ: هٰذَا مَنْسُوْخٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 899 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان کہتےتھے الٰہی مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر مجھے ہدایت امن اور رزق دے ۱؎(ابوداؤد، ترمذی)

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَ اهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 900 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت حذیفہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان فرماتے تھے یارب مجھے بخش دے ۱؎(نسائی،دارمی)

وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «رَبِّ اغْفِرْ لي» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ والدَارمِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 901 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن شبل سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے کوے کی سی ٹھونگ مارنے اور درندے کی طرح ہاتھ بچھانے سے منع فرمایا ۲؎اور اس سے منع کیا کہ کوئی شخص مسجد میں جگہ مقرر کرلے جیسے اونٹ مقرر کرلیتا ہے۳؎(ابوداؤد،نسائی،دارمی)

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ والدَارمِيْ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 902 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ اے علی میں تمہارے لیے وہی پسندکرتا ہوں جو اپنے لیے پسندکرتا ہوں اور تمہارے لیے وہی ناپسندکرتا ہوں جو اپنے لیے ناپسندکرتا ہوں ۱؎دوسجدوں کے درمیان اکڑوں نہ بیٹھنا ۲؎(ترمذی)

وَعَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ إِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي وَأَكْرَهٗ لَكَ مَا أَكْرَهٗ لِنَفْسِي لَا تُقْعِ بَينَ السَّجْدَتَيْنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 903 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت طلق ابن علی حنفی سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالٰی اس بندے کی نماز پرنظرنہیں فرماتا جو نماز میں رکوع اور سجدے کے درمیان پیٹھ سیدھی نہیں کرتا ۱؎(احمد)

وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَليٍّ الْحَنَفِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَا يَنْظُرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلٰى صَلَاةِ عَبْدٍ لَا يُقِيمُ فِيهَا صُلْبَهٗ بَيْنَ خُشُوعِہَاوَسُجُوْدِهَا» . رَوَاهُ أَحْمدُ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 904 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ جو اپنی پیشانی زمین پر رکھے تو اپنے ہاتھ بھی وہیں رکھے جہاں پیشانی رکھتا ہے ۱؎پھر جب سر اٹھائے تو ہاتھ بھی اٹھائے کیونکہ جیسے چہرہ سجدہ کرتا ہے ویسے ہی ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۲؎(مالک)

وَعَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: مَنْ وَضَعَ جَبْهَتَهٗ بِالْأَرْضِ فَلْيَضَعْ كَفَّيْهِ عَلَی الذِي وَضَعَ عَلَيْهِ جَبْهَتَهٗ ثُمَّ إِذَا رَفَعَ فَلْيَرْفَعْهُمَا فَإِنَّ الْيَدَيْنِ تَسْجُدَانِ كَمَا يَسْجُدُ الْوَجْهُ. رَوَاهُ مَالِكٌ

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 905 ، باب:سجدہ اوراس کی بزرگی