- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- نماز کا بیان
- باب : سترڈھانپنے کا باب
باب : سترڈھانپنے کا باب
نماز کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1
روایت ہے حضرت عمرو ابن ابی سلمہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ام سلمہ کے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھاکہ اپنے کندھوں پر اس کے کنارے ڈالے ہوئے تھے ۲؎(بخاری و مسلم)
عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِيْ سَلَمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّيْ فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهٖ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلٰى عَاتِقَيْهِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 754 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پرکپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو ۱؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلٰى عَاتِقَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 755 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جوکوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے کنارے ادھر ادھر ڈالے ۱؎(بخاری)
وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: "مَنْ صَلّٰى فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ فَلْيُخَالِفْ بَيْنَ طَرفَيْهِ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 756 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیل بوٹوں والی چادر میں نماز پڑھی ۱؎اس کے بیل بوٹے ایک نظر دیکھے جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم کے پاس لے جاؤ اور ابوجہم سے انبجانیہ چادر لے آؤ ۲؎اس چادر نے مجھے ابھی نماز سے بازرکھا۔(مسلم،بخاری) بخاری کی روایت میں یوں ہے کہ فرمایا میں اس کے بیل بوٹوں کونماز میں دیکھتا تھا مجھے خوف ہے کہ میری نماز خراب کردے۳؎
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَلّٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فِي خَمِيْصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَنَظَرَ إِلٰى أَعْلَامِهَا نَظْرَةً، فَلَمَّا اِنْصَرَفَ قَالَ: "اِذْهَبُوْا بِخَمِيْصَتِيْ هٰذِهٖ إِلٰى أَبِيْ جَهْمٍ وَأْتُوْنِيْ بِإِنْبِجَانِيَّةِ أَبِيْ جَهْمٍ، فَإِنَّهَا أَلْهَتْنِيْ آنِفًا عَنْ صَلَاتِيْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ فَأَخَافُ أَنْ يَفْتِنَنِيْ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 757 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کا پردہ تھا جس سے گھر کا ایک گوشہ ڈھانک رکھا تھا ان سے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا یہ پردہ ہم سے ہٹالو کیونکہ اس کی تصویریں نماز میں میرے سامنے آجاتی ہیں ۱؎(بخاری)
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ قِرَامٌ لِعَائِشَةَ سَتَرَتْ بِهٖ جَانِبَ بَيْتِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "أَمِيطِيْ عَنَّا قِرَامَكِ هٰذَا، فَإِنَّهٗ لَا يَزَالُ تَصَاوِيرُهٗ تَعْرِضُ لِيْ فِيْ صَلَاتِيْ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 758 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمیں قبا ہدیۃً پیش کی گئی آپ نے وہ پہنی ۱؎پھراس میں نماز پڑھی پھر فارغ ہوئے تو سختی سے اتار دی اس کو ناپسند کرتے ہوئے پھر فرمایا کہ یہ پرہیز گاروں کو زیبا نہیں ۲؎(مسلم،بخاری)
وَعَنْ عُقْبَةَ ابْنِ عَامِرٍ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَرُّوْجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهٗ ثُمَّ صَلّٰى فِيهِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَزَعَهٗ نَزْعًا شَدِيْدًا كَالْكَارِهِ لَهٗ، ثمَّ قَالَ: "لَا يَنْبَغِيْ هٰذَا لِلْمُتَّقِيْنَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 759 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله میں شکاری آدمی ہوں۲؎تو کیا ایک قمیض میں نماز پڑھ سکتا ہوں فرمایا ہاں بٹن لگادینا اگرچہ کانٹے ہی سے ہوں۳؎(ابوداؤد) نسائی نے اسی کی مثل روایت کی۔
عَنْ سَلمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، إِنِّيْ رَجُلٌ أَصِيْدُ أَفَأُصَلِّيْ فِي الْقَمِيْصِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ: "نَعَمْ، وَازْرُرْهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهٗ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 760 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا ۱؎اس سے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ وضو کرو وہ گیا وضو کیا پھر آیا ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ آپ نے اسے وضو کرنے کا کیوں حکم دیا فرمایا کہ وہ تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا اللہ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جو تہبند لٹکائے ہوئے ہو ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّيْ مُسْبِلٌ إِزَارَهٗ قَالَ لَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "اِذْهَبْ فَتَوَضَّأْ" فَذَهَبَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ، مَا لَكَ أَمَرْتَهٗ أَنْ يَتَوَضَّأَ؟ قَالَ: "إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّيْ وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهٗ،وَإِنَّ اللّٰهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهٗ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 761 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بالغہ عورت کی نماز دوپٹے کے بغیر قبول نہیں ہوتی ۱؎(ابوداؤدوترمذی)
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 762 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا عورت قمیض اور دوپٹے میں نماز پڑھ سکتی ہےبغیر تہبند کے فرمایا اگر کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے پاؤں کی پشت کو ڈھانپ لے ۱؎(ابوداؤد)اور ایک جماعت نے اسے ام سلمہ پرموقوف کیا۲؎
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِيْ دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ؟ قَالَ: "إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُوْرَ قَدَمَيْهَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَذَكَرَ جمَاعَةً وَقَفُوْهُ عَلٰى أُمِّ سَلَمَةَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 763 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا لٹکانے ۱؎اورمرد کے منہ ڈھکنے سے منع کیا۲؎(ابوداؤد،ترمذی)
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- نَهٰى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ،وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 764 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی مخالفت کرو وہ نہ جوتوں میں نمازپڑھتے ہیں نہ موزوں میں ۲؎(ابوداؤد)
وَعَنْ شَدَّادِ ابْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّوْنَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 765 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہےحضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ نے جوتے اتار دیئے اور اپنے بائیں طرف رکھ لئے ۱؎جب قوم نے یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے ۲؎جب حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کی تو فرمایا کہ تمہیں جوتے اتار ڈالنے پرکس نے آمادہ کیا عرض کیا کہ ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت جبریل میرے پاس آئے مجھے بتایا کہ ان میں گندگی ہے ۳؎جب تم میں سے کوئی مسجد میں آیا کرے تو دیکھ لیا کرے اگر جوتوں میں گندگی دیکھے تو انہیں پونچھ دے اور ان میں نماز پڑھ لے۴؎(ابوداؤد،دارمی)
وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيْ بِأَصْحَابِهٖ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهٖ، فَلَمَّا رَأٰى ذٰلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضٰى رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- صَلَاتَهٗ قَالَ:"مَا حَمَلَكُمْ عَلٰى إِلْقَائِكُمْ نِعَالَكُمْ؟ " قَالُوا: رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ جِبْرِيْلَ أتانِيْ فَأَخْبَرَنِيْ أَنَّ فِيْهِمَا قَذَرًا، إِذا جَاءَ أَحَدَكُم الْمَسْجِدَ فَلْيَنْظُرْ، فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا فَلْيَمْسَحْهُ وَلِيُصَلِّ فِيْهِمَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 766 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضر ت ابو ہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتے نہ اپنی دائیں طرف رکھے نہ بائیں طرف ورنہ دوسرے کے دائیں طرف ہوجائیں گے مگر یہ کہ اس کے بائیں طرف کوئی نہ ہو ۱؎انہیں دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھے اور ایک روایت میں ہے کہ یا ان میں ہی نماز پڑھ لے۲؎(ابوداؤد)ابن ماجہ نے اس کے معنی روایت کئے۔
وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا صَلّٰى أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ نَعْلَيهِ عَنْ يَمِينِهٖ، وَلَا عَنْ يَسَارِهٖ، فَتَكُوْنَ عَنْ يَمِيْنِ غَيْرِهٖ، إِلَّا أَنْ لَا يَكُوْنَ عَلٰى يسَارِهٖ أَحَدٌ، وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ". وَفِيْ رِوَايَةٍ: "أَوْ لِيُصَلِّ فِيْهِمَا". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ مَعْنَاهُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 767 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا تو آپ کو چٹائی پرنماز پڑھتے دیکھا کہ اسی پر سجدہ کرتے تھے ۱؎فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا۲؎(مسلم)
عَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰى النَّبِيِّ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّيْ عَلٰى حَصِيْرٍ يَسْجُدُ عَلَيْهِ. قَالَ: وَرَأَيْتُهٗ يُصَلِّيْ فِيْ ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَوَشِّحًا بِهٖ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 768 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ننگے پاؤں اور نعلین پہنے نماز پڑھتے دیکھا ۱؎(ابوداؤد)
وَعَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيْ حَافِيًا وَمُتَنَعِّلًا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 769 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت محمدابن منکدرسے فرماتے ہیں کہ حضرت جابر نے صرف تہبند(چادر)میں نماز پڑھی جسے گدی کی طرف باندھا تھا ۱؎حالانکہ انکے کپڑے کھونٹی پر رکھے تھے کسی نے ان سے عرض کیا کہ کیا آپ ایک ہی چادر میں نماز پڑھتے ہیں ۲؎تو فرمایا میں نے اس لئے کیا تاکہ مجھے تم جیسے بیوقوف دیکھیں ۳؎نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سے کس کے پاس دو کپڑے تھے۴؎(بخاری)
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ: صَلّٰى جَابِرٌ فِي إِزَارٍ قَدْ عَقَدَهٗ مِنْ قِبَلِ قَفَاهُ، وَثِيَابُهٗ مَوْضُوْعَةٌ عَلَى الْمِشْجَبِ، فَقَالَ لَهٗ قَائِلٌ: تُصَلِّيْ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا صَنَعْتُ ذٰلِكَ لِيَرَانِيَ أَحْمَقُ مِثْلُكَ، وَأَيُّنَا كَانَ لَهٗ ثَوْبَانِ عَلٰى عَهْدِ رَسُولِ اللّٰهِ - صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 770 ، باب : سترڈھانپنے کا باب
روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں ایک کپڑے میں نمازسنت ہے ۱؎ہم یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرتے تھے اور ہم پر عیب نہ لگایا جاتا تھا تب حضرت ابن مسعود نے فرمایا کہ یہ جب ہی تھا جب کپڑوں میں کمی تھی لیکن جب الله نے گنجائش بخشی تو دوکپڑوں میں نمازبہتر ہے ۲؎(احمد)
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّةٌ، كُنَّا نَفْعَلُهٗ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- وَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا. فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ إِذَا كَانَ فِي الثِّيَابِ، قِلَّةٌ، فَأَمَّا إِذَا وَسَّعَ اللّٰهُ فَالصَّلَاةُ فِي الثَّوْبَيْنِ أَزْكٰى. رَوَاهُ أَحْمَدُ.
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، حدیث نمبر: 771 ، باب : سترڈھانپنے کا باب