ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay

Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay

جائِز کام کیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! کامیابی قدم چُومے گے۔

پانی دِیواروں کی طرح کھڑا ہو گیا

دیکھیے!یقین کیسی کیسی برکتیں دِکھاتا ہے، حضرت موسیٰ  علیہ السَّلام   نے بنی اسرائیل کو فرعَوْن سے آزاد کروایا اور راتوں رات انہیں لے کر روانہ ہو گئے۔ فِرْعون بھی لشکر لے کر پیچھے ہو لیا، اب چلتے چلتے سامنے دریائے نِیْل آ گیا، پیچھے فرعون اور اس کا لشکر۔ بنی اِسرائیل بولے:

اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ(۶۱) (پارہ:19، سورۂ شعراء:61)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:بیشک ہمیں پالیا گیا۔

حضرت موسیٰ  علیہ السَّلام  نے فرمایا:

كَلَّاۚ-اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ(۶۲) (پارہ:19، سورۂ شعراء:62)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:ہر گزنہیں، بیشک میرے ساتھ میرا ربّ ہے وہ ابھی مجھے راستہ دِکھا دے گا۔

سُبْحٰنَ اللہ! آپ یقین کی پختگی دیکھیے! سامنے دَرْیا کی موجیں جوش مار رہی ہیں، پیچھے فرعون کا لشکر کھڑا ہے، اب راہ نکلے  بھی تو کہاں سے....؟ اس کے باوُجُود حضرت موسیٰ  علیہ السَّلام  کو پختہ یقین ہے کہ میرا رَبّ اس حالت میں بھی راہ نکال دے گا۔ پِھر ایسا ہی ہوا، حکم ہوا: اے موسیٰ! دریا پر عصا مارئیے! آپ نے عصا مارا تو دریا کا پانی چِرا، دِیواروں کی طرح کھڑا ہو گیا اور دریا کے اندر 11 رستے بن گئے۔

سُن! اے تہذیب حاضر کے گرفتار                                 غُلامی        سے       بتر      ہے         بےیقینی([1])


 

 



[1]...کلیات اقبال، بالِ جبریل، صفحہ:406۔