Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay
اللہ عنہا نے بارگاہِ رسالت میں راہِ خُدا میں خرچ کرنے کے مُتَعلِّق سُوال کیا، ارشاد فرمایا:
لاَ تُوكِّي فَيُوَكّٰى عَلَيْكِ
یعنی گِن گِن کر مت خرچ کرو! ورنہ اللہ پاک بھی تمہیں گنتی کے ساتھ عطا فرمائے گا۔([1]) (مطلب یہ کہ راہِ خُدا میں بِلاحساب دیا کرو! اللہ پاک بھی بِلاحساب رِزْق عطا فرمائے گا)۔
غرض؛ میں اَسْباب کی بات کر رہا ہوں، ہر چیز کے اَسْباب ہوتے ہیں، ہمیں ہر کام کے لیے اس کے اَصْل سبب تک پہنچنا چاہیے، جب تَک ڈَور کا سِرا نہیں پکڑیں گے، ڈور سلجھ نہیں سکے گی۔
ہمیں مشکلات بھی آتی ہیں، پریشانیاں بعض دفعہ یُوں گھیر لیتی ہیں کہ لگتا ہے؛ ساری پریشانیاں میرے لیے ہی بنی ہیں، کہتے ہیں نا؛ سونے کو ہاتھ لگائیں تو مِٹی بن جاتا ہے۔ یعنی کوئی راستہ نظر ہی نہیں آ رہا ہوتا ہے، پریشانیوں سے کیسے نکلیں؟ اَصْل دَرْوازہ تلاش کریں۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) (پارہ:28، سورۂ طلاق:2)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دے گا۔
پتا چلا؛ تقویٰ پریشانیوں سے نَجات کی راہ ہے۔ تقویٰ اپنائیں، راہیں کھلنا شروع ہو جائیں گے، بند دروازے خُود بخود کھلتے ہوئے نظر آنے لگ جائیں گے۔
کہتے ہیں: کسی گاؤں میں کوئی نیک بزرگ رہا کرتے تھے، سب لوگ اُن کی بہت