Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay
وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ (پارہ:26، سورۂ ذاریات:22)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور آسمان میں تمہارا رِزْق ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ! ہمارا رِزْق آسمانوں میں ہے، یعنی رِزْق کا تَعلُّق اللہ پاک کی تَقْدِیر کے ساتھ ہے،([1]) رَبِّ کریم پر بھروسا کرو! اللہ پاک کے ساتھ اپنا تَعلُّق مضبوط کرو! اللہ پاک رِزْق عطا فرما دے گا، بظاہِر مال میں کَثْرت نہ بھی ہوئی تو کم مال ہی میں بَرَکت آجائے گی۔
پتا چلا؛ یہ جو لوگ معاشِی حالات کے رونے رَوئے جا رہے ہوتے ہیں؟ مہنگائی مہنگائی کی رَٹ لگائی جا رہی ہوتی ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ ہم رِزْق ڈھونڈ غلط جگہ رہےہوتے ہیں۔
خرچ کر...!! اللہ پاک اَور دے گا
حضرت قیس رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، ان کی عادَت تھی، جو کچھ کماتے، اس میں سے اپنی ضرورت کا رَکھ لیتے، باقی راہِ خُدا میں خرچ کر دیتے تھے۔ ان کے بھائی انہیں سمجھاتے کہ بھائی...!! کچھ بچا بھی لیا کرو...!! کل کَلاں ضَرورت پڑتی ہے۔ حضرت قیس رَضِیَ اللہ عنہ نے اپنے بھائیوں کی بات نہ مانی، راہِ خُدا میں خرچ کرنا جاری رکھا۔ آخر ان کے بھائیوں نے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمت میں عرض کیا: اَنَّہٗ یُبَذِّرُ مَالَہٗ یعنی یارسولَ اللہ صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! قیس بہت شاہ خرچ ہیں (بچا کر نہیں رکھتے)۔ محبوبِ ذیشان صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے اِن سے پوچھا: ہاں بھائی! تمہارے بھائی کیا کہتے ہیں؟ عرض کیا: یارسولَ اللہ صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! میں تو جو کچھ کماتا ہوں، اپنا حصّہ رکھ کر باقی راہِ خُدا میں بانٹ دیتا ہوں۔ پیارے مَحْبوب صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کو ان کا عمل بہت پسند