ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay

Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب عنایات کیوں ہوئیں؟ اللہ پاک نے فرمایا:

وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ- (پارہ:3، سورۂ آل عمران:13)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کو چاہتا ہے تائید فرماتا ہے۔

یعنی یہ سب عنایات اللہ پاک کی طرف سے خاص مدد اور نُصْرت تھی، جو مسلمانوں کی، کی گئی، یہ اسی لیے تھا کیونکہ اللہ پاک اپنے پسندیدہ بندوں کی خاص مدد فرمایا کرتا ہے۔ بَس اسی مدد و نُصْرت کی بَرَکت سے مسلمان کم تعداد میں ہوتے ہوئے بھی عظیمُ الشّان فتح سے سرفراز ہو گئے۔

آیتِ کریمہ سے ملنے والے 2 اَہَم سبق

پیارے اسلامی بھائیو! اِس آیتِ کریمہ کے ضمن میں 2باتیں آپ کے سامنے عرض کرنی ہیں:

نِشَانی کی وَضاحت

اللہ پاک نے فرمایا:

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ (پارہ:3، سورۂ آل عمران:13)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:بیشک تمہارے لیے بڑی نشانی ہے۔

یعنی  غزوۂ بدر میں جو 2لشکر آمنے سامنے آئے تھے، اس میں تمہارے لیے نشانی ہے۔

پہلی بات یہ غور کرنے کی ہے کہ یہ نِشَانی کیا ہے؟ جس کی طرف یہاں تَوَجُّہ دِلائی جا رہی ہے۔ اِس کے لیے آیتِ کریمہ کے پسِ منظر پر ذرا غور کیجیے! غیر مُسْلِم بالخصوص یہود و نَصَارٰی ؛ اِن کا دعویٰ یہ تھا کہ ہم مسلمانوں کو اپنے سامنے ٹکنے نہیں دَیں گے، ہمارے پاس