ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay

Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay

دوسری طرف کفّارِ مکہ تھے،([1])   یہ دِینِ خُدا کو مَعَاذَ اللہ! مِٹا ڈالنے کا ناپاک اِرَادہ رکھتے تھے، پِھر ہوا کیا...؟ اللہ پاک نے اَہْلِ اِیْمان کی خصوصی مدد فرمائی اور انہیں ایسی باکمال فتح عطا فرمائی، جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

غزوۂ بدر اور عنایاتِ اِلٰہیہ

پیارے اسلامی بھائیو! غزوۂ بدر میں صحابۂ کرام  علیہمُ الرّضوان  پر بہت ساری خصوصی عنایات ہوئیں، مثلاً ؛ *اللہ پاک نے مدد کے لیے فرشتے نازِل فرمائے *غزوۂ بدر سے پہلے بارِش برسی، جس سے کنویں بھی بھر گئے، پینے اور وُضُو وغیرہ کے لیے پانی کی کثرت ہو گئی، میدانِ بدر کی گرد جَم گئی، جس سے وہاں چلنا پِھرنا آسان ہو گیا، یُوں صحابۂ کرام  علیہمُ الرّضوان   کے قدم مضبوط ہو گئے۔([2]) *ایک اَہَم عِنَایت جس کا ذِکْر آیتِ کریمہ میں ہے، فرمایا:

یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِؕ- (پارہ:3، سورۂ آل عمران:13)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:جو کھلی آنکھوں سے مسلمانوں کو خود سے دُگنا دیکھ رہے تھے۔

یعنی اَصْل میں مسلمان 313 کی تعداد میں تھے، کفّارِ مکہ 1000 کی تعداد میں تھے، مگر اللہ پاک نے کفّار کے دِلوں میں رُعْب یُوں ڈالا کہ جب اُن غیر مسلموں نے مسلمانوں کی صفوں کی طرف دیکھا تو انہیں یُوں لگا جیسے مسلمان اُن سے دُگنی یعنی 2 ہزار کی تعداد میں ہیں، یُوں ان کے دِل ڈَر گئے کہ اپنے سے 2گُنَا تعداد کے ساتھ ہم لڑائی کیسے کریں گے؟([3])


 

 



[1]...تفسیر طبری، پارہ:3، سورۂ آل عمران، زیرِ آیت:13، جلد:3، صفحہ:196، رقم:6683۔

[2]...شرح الزرقانی، باب غزوۃ بدر الکبریٰ، جلد:2، صفحہ:271۔

[3]... تفسیر کبیر، پارہ:3، سورۂ آل عمران، زیرِ آیت:13، جلد:3، صفحہ:156 ملتقطاً۔