Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay
آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی شہزادی صاحبہ ہیں، غزوۂ بدر کے موقع پر آپ بیمار تھیں، جب پیارے آقا صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم میدانِ بدر میں تھے، ادھر حضرت رُقیہ کا انتقال ہو گیا، 19 رمضان کو جب پیغام لانے والا فتحِ بدر کی خوشخبری لے کر مدینہ پہنچا، اس وقت لوگ حضرت رُقیہ رَضِیَ اللہ عنہا کی تَدْفِیْن میں مَصْرُوف تھے۔([1])
*21 رمضان کریم یومِ حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ ہے۔([2]) آپ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ ہیں، پیارے آقا صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کے چچازاد ہیں، حسنینِ کریمین کے اَبُّو جان ہیں،بہت ہی اُونچی شان والے صحابئ رسول ہیں، پیارے مَحْبوب صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کا یہ مقدَّس فرمان اَلحمدُ لِلّٰہ! اَہْلِ سنّت کے بچے بچے کو یاد ہوتا ہے، فرمایا: مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ جس کا میں مولیٰ ہوں، اُس کے علی بھی مولیٰ ہیں۔([3])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ سب نیک ہستیاں ہیں، جن کے اَیّام قریب آ رہے ہیں، جہاں تک ہو سکے، اِن کا ذِکْرِ خیر کیجیے! اِن کی سیرت پڑھیے، گھر میں بچوں کو پڑھ کر سُنائیے! اِن کے لیے اِیْصالِ ثواب کا خُوب اہتمام فرمائیے! اللہ پاک ہم سب کو عَمَل کی توفیق نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا؛ 17 رمضان کریم یومِ غزوۂ بدر بھی ہے، اِس مُنَاسبت سے میں نے ابتدا میں پارہ: 3، سورۂ آلِ عمران، آیت: 13 تِلاوت کرنے کی سعادت حاصِل