ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay

Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay

ہے۔ دیکھیے! یہ بڑا اَہَم پوائنٹ(Point) ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

اِنْ  یَّنْصُرْكُمُ  اللّٰهُ  فَلَا  غَالِبَ  لَكُمْۚ-وَ  اِنْ  یَّخْذُلْكُمْ  فَمَنْ  ذَا  الَّذِیْ  یَنْصُرُكُمْ  مِّنْۢ  بَعْدِهٖؕ-

(پارہ:4، سورۂ آل عمران:160)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر اس کے بعد کون تمہاری مدد کر سکتا ہے؟

پتا چلا؛ اللہ پاک کی مدد اگر مِل گئی تو ہر میدان میں کامیابی اپنی ہے، اگر اللہ پاک کی طرف سے ہی مدد نصیب نہ ہوئی، پِھر چاہے جتنی کوشش کرتے پِھرو! دُنیا کی کوئی طاقت ہمیں کامیابی نہیں دِلا سکے گی۔

لہٰذا اُن اسباب کو سمجھیے، جن کے ذریعے اللہ پاک کی مدد ہمیں نصیب ہو سکتی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں چند اَسْباب عرض کرتا ہوں:

(1): اِیْمان اور پختہ یقین

سُورۂ رُوم میں اِرْشاد ہوتا ہے:

وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۴۷) (پارہ:21، سورۂ رُوْم:47)

تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:اور مسلمانوں کی مدد کرنا ہمارے ذمۂ کرم پر ہے۔

اِیْمان اِعْتِقاد کو کہتے ہیں یعنی دِل کا پختہ تَرِین یقین۔ اللہ پاک فرماتا ہے: جو اِیْمان اور پکّے یقین والے ہیں، اُن کی مدد کرنا ہمارے ذِمَّۂ کرم پر ہے۔

پتا چلا؛ اللہ پاک کی مدد و نُصْرت حاصِل کرنے کے لیے اپنے دِل میں یقین پختہ رکھنا چاہیے، اللہ پاک کی رحمت پر نگاہیں جمائے، اس کی عنایات پر آس لگائے ہوئے کوئی بھی