Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay
دیا مگر میرا کام نہیں بَن سکا۔ یہ اَصْل میں مَعْرِفت کی کمی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ہماری محنت رائیگاں چلی جاتی ہے۔ ویسے اللہ پاک کسی کی محنت کو ضائع نہیں فرماتا مگر محنت جب غلط سمت پر ہو رہی ہو تو ظاہِر ہے اس محنت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔
ایک مثال ہے: ہمیں بُھوک لگی ہے، ہم روٹی کھائیں گے تو ہماری بُھوک مٹ جائے گی، اگر پتھر چَبانا شروع کر دیں تو کیا بُھوک مٹ جائے گی؟ نہیں مِٹ سکے گی *ایک شخص مدینے شریف جانا چاہتا ہے مگر وہ اَفْرِیقہ وغیرہ کسی اور مُلک کے جہاز میں بیٹھا ہے، کیا وہ مدینے پہنچ پائے گا ؟ نہیں پہنچ پائے گا *یونہی جلانا، پکانا آگ کا کام ہے، ہم اگر چولہے میں بَرَف رکھ دیں، کیا کھانا پک جائے گا؟ نہیں پَک سکے گا، اس کے لیے ہمیں آگ ہی جلانی پڑے گی۔
اسی طرح اللہ پاک نے اس دُنیا میں ہر چیز کے اَسْباب مقرَّر فرمائے ہیں، ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دُرُست اَسْباب کو پہچان بھی نہیں رہے ہوتے، اُن اَسْباب کی طرف محنت بھی نہیں کر رہے ہوتے۔
ہمارے ہاں عموماً لوگ امیر ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، مَعاشِی حالات بہتر ہو جائیں، اور کاروبار چمک جائے، اس کے لیے کرتے کیا ہیں؟ *دِن رات محنت ہوتی ہے *اس کے لیے نمازیں چُھوٹ رہی ہیں، چھوٹتی رہیں *سُودی لَین دَین بھی ہو رہا ہے *حرام حال کی بھی کوئی پرواہ نہیں کی جا رہی ہے، بَس دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹنے میں مَصْرُوف ہیں، وہی رَونے کا رَوْنا کہ پُوری نہیں پڑ رہی۔ مسئلہ کیا ہے؟ اللہ پاک فرماتا ہے: