ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay

Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay

آیا، ان کے سینے پر ہاتھ مار کر 3مرتبہ فرمایا:

اَنْفِقْ یُنْفِقُ اللہ عَلَیْکَ خرچ کر، اللہ پاک اور عطا فرمائے گا !

اَنْفِقْ یُنْفِقُ اللہ عَلَیْکَ خرچ کر، اللہ پاک اور عطا فرمائے گا!

اَنْفِقْ یُنْفِقُ اللہ عَلَیْکَ خرچ کر، اللہ پاک اور عطا فرمائے گا!

حضرت قیس  رَضِیَ اللہ عنہ  فرماتے ہیں: میں نے اپنا یہ عَمَل جاری رکھا، پِھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ میں اپنے خاندان میں سب سے زیادہ امیر کبیر تھا۔([1])

پتا چلا؛ رِزْق کہاں سے آتا ہے؟ آسمان سے۔ لہٰذا رِزْق آسمان میں تلاش کیجیے!

گِن گِن کر مت خرچو...!

ہمارے ہاں ایک یہ بھی دَسْتُور ہے نا کہ اپنے لیے، گھر والوں کے لیے، بچوں کے لیے کچھ خریدنا ہے تو  پیسوں کی فِکْر نہیں ہے، اچھی سے اچھی چیز دِکھاؤ یعنی ہم مارکیٹ میں جب خریداری کر رہے ہوتے ہیں تو پیسوں کی گنتی نہیں دیکھتے، چیزوں کی کوالٹی دیکھتے ہیں اور جب راہِ خُدا میں دینا ہو، تب گنتی کرتے ہیں۔ مَسْجِد کی جھولی آ رہی ہے، بعض تو دُور سے جھولی آتی دیکھ کر گنتی شروع کر دیتے ہوں گے: جیب میں اتنے ہیں، اتنے جھولی میں ڈال دُوں تو اتنے باقی بچ جائیں گے۔ ایک مثال دے رہا ہوں، ہو سکتا ہے ایسا ہوتا ہو۔

حدیثِ پاک سنیے!  حضرت اَسْما   رَضِیَ اللہ عنہا  حضرت صِدِّیقِ اکبر  رَضِیَ اللہ عنہ  کی شہزادی ہیں، خُود بھی صحابیہ ہیں، اَفْضَل تَرِین صحابی کی بیٹی ہیں، صحابی کی پَوتی ہیں اور صحابی کی ماں ہیں، ان کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن زبیر  رَضِیَ اللہ عنہ  بھی صحابی ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت اَسْما  رَضِیَ


 

 



[1]...معجم اوسط، جلد:6، صفحہ:210، حدیث:8536۔