Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01
کے ساتھ تشریف لائے، انہوں نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی *.تورات شریف اُتری، کوہِ طور ان کے سروں پر بلند کیا گیا، انہوں نے وعدہ کیا کہ تورات پر عمل کریں گے مگر اس سے منکر ہو گئے۔
(6):وَہْن: یعنی دُنیا کی زندگی کو پسند کرنا، موت سے ڈرنا۔ یہ لوگ موت سے ڈرتے تھے، دنیوی زندگی کے بہت حریص تھے، یہ بات دِل کمزور کرتی ہے۔ لہٰذا یہی کمزوری ان کے ایمان لانے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔
(7):بولے: مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر وحی لانے والے جبرائیل ہیں، ہماری جبرائیل سے دشمنی ہے، کوئی اور فرشتہ وحی لاتا تو ہم ضرور ایمان لاتے۔
شُبے کا ازالہ: فرمایا: جبرائیل علیہ السَّلام وحی لانے والے ہیں، پس جو جبرائیل سے میکائیل سے دشمنی رکھے وہ اللہ پاک کا بھی دشمن ہے، سب فرشتوں کا بھی دشمن ہے۔ اور اللہ پاک کافروں سے اعلانِ دشمنی فرماتا ہے۔
بنی اسرائیل کے سُوالوں کے جواب
آیت: 99 سے بنی اسرائیل کے اسلام کے متعلق سُوالات، ان کے جوابات اور ان کی کچھ خباثتوں کا ذِکْر شروع ہوتا ہے:
(1):مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کوئی نشانی نہ لائے۔
جواب: مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم پر بہت ساری نشانیاں نازِل کی گئی ہے۔ یہ لوگ مانتے نہیں کیونکہ فطرتِ انسانی سے نکلے ہوئے ہیں۔ کتنے بدبخت ہیں جب جب ان سے عَہد لیا جاتا ہے، اس سے مُکر جاتے ہیں۔