Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01
بنی اسرائیل کی ایک اور سرکشی: قرآن پر ایمان لانے کی بات ہو تو ہزار طرح کے بہانے بناتے، اعتراضات گھڑتے ہیں۔ شیطانوں نے انہیں جادُو سکھایا تو مان گئے، جادُو کے مقابلے میں تورات شریف کو چھوڑ بیٹھے تھے۔
(2): پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان میں راعِی کا لفظ استعمال کرتے۔ راعِی کا معنیٰ ہے: چرواہا۔
جواب: اَوّل تو مسلمانوں کو رَاعِنَا (ہمارے رعایت فرمائیے!) کہنے سے منع کیا گیا، اُس کی بجائے اُنْظُرْنَا (ہم پر نظر فرمائیے!) عرض کرنے کا فرمایا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو ایسی گستاخی کا موقع ہی نہ رہے۔ دوسرے نمبر پر فرمایا گیا: یہود اس حربے سے مسلمانوں کو فیضانِ نبوت سے محروم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں مسلمانوں سے حَسَد ہے۔
(3):یہود بولے: یہودی ہی جنّت میں جائیں گے، عیسائی بولے: عیسائی ہی جنّت میں جائیں گے۔
جواب: ان کے اس فاسِد گمان کے جواب میں ارشاد ہوا: یہ سب ان کی سوکھی تمنائیں ہیں۔ لاؤ! کوئی دلیل اگر ہے تو۔ حق یہ ہے کہ جو اللہ پاک کے حُضُور سرِ تسلیم خم کرے، مسلمان ہو ، اس کا اجر اللہ پاک پر ہے، اسے نہ غم ہو گا نہ خوف۔ *.پھر ان کے کرتُوت تو دیکھو بھلا جنّت میں جانے والے بالکل نہیں ہیں، مثلاً ؛ یہود عیسائیوں کو کہتے ہیں: یہ تو شئے ہی کوئی نہیں ہیں۔ عیسائی یہودیوں کو کہتے ہیں: یہ تو شئے ہی کوئی نہیں ہیں۔ جاہِل مشرک بھی ایسا ہی کہتے ہیں۔ *.ان بدبختوں نے مسجد اقصیٰ کی بےحرمتیاں کیں، جبکہ چاہئے تھا کہ خوفِ خُدا سے سرجھکائے ہوئے مسجد اقصیٰ میں جاتے۔ *.بولے: اللہ پاک کا ایک بیٹا ہے۔ اللہ اکبر! ایک طرف یہ شرک...!! اور اُدھر جنتی ہونے کے دعوے۔ اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ...!!