Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01
پاک نے آپ کو اپنے دَسْتِ قدرت سے تخلیق فرمایا، آپ کے جَسَدِ خاکی میں رُوح ڈالی گئی، آپ کو علْمُ الْاَسْما (یعنی ناموں کا عِلْم) عطا کیا گیا، فرشتوں پر آپ کی علمی برتَرِی کا اِظْہار کیا گیا، پِھر سب فرشتوں کو حکم ہوا: آدم علیہ السَّلام کو سجدہ کرو! سب نے سجدہ کیا، ابلیس لعین جو جنّ تھا، اُس نے انکار کر دیا۔ لہٰذا شیطان مردُود ہوا اور حضرت آدم علیہ السَّلام کو کچھ عرصے کے لئے جنّت میں ٹھہرایا گیا، پِھر تاجِ خِلافت پہنا کر زمین پر اُتار دیا گیا۔
یہ انسان کی زمین پر ابتدا کی تاریخ تھی، اس کے بعد ارشاد ہوا:
فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸) (پارہ:1، البقرہ:38)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تَو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
یعنی اس زمین پر انسانوں کے لئے یہ قاعِدہ قانون ہے کہ جو اللہ پاک کی بھیجی ہوئی ہدایت کو قبول کرے گا، وہ کامیاب ہے، جو قبول نہیں کرے گا، وہ جہنّم کا حقدار ہو گا۔
بنی اسرائیل کی تاریخ اور انہیں اسلام کی دعوت
سُورۂ بقرہ، آیت: 40 سے 141 یعنی پہلے پارے کے آخرتک بنی اسرائیل سے کلام ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السَّلام کے جو 12 بیٹے تھے، اُن سے جو اَوْلاد چلی، انہیں بنی اسرائیل کہتے ہیں۔ اس جگہ جو بنی اسرائیل سے طویل کلام ہوا، اسے ہم چند حصّوں میں تقسیم کر سکتے ہیں:
حصہ اَوَّل:بنی اسرائیل کو دعوتِ اسلام:
اَوَّلاً؛ بنی اسرائیل کو حق پرست بن کر اِسْلام قبول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں چند احکام انہیں دئیے گئے: (1):اے بنی اسرائیل! اللہ پاک کی نعمتوں کو یاد کرو! (2):اللہ پاک کا