Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01
وعدہ کیا کہ ہم تورات پر عمل کریں گے۔ ان پر فضل و کرم ہوا کہ ان کی اس سرکشی پر عذاب نہ اُترا۔
دسواں انعام: گائے کے گوشت کے ٹکڑے کے ذریعے ان کے لئے مردے کو زندہ کیا گیا۔
بنی اسرائیل کی سرکشی: انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا مگر یہ اٹک گئے، شریعت کے حکم کو خُود پر بوجھ سمجھا، فضول سوالات کرتے رہے۔ آخر تھک ہار کر گائے ذبح کی۔ پہلی بار میں حکمِ اِلٰہی نہ مانا۔
بنی اسرائیل کی ناشکریوں کا انجام: اللہ پاک نے فرمایا:
وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُۗ-وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠(۶۱) (پارہ: 1، البقرہ: 61)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اُن پر ذلت اور غربت مسلط کردی گئی اوروہ خدا کے غضب کے مستحق ہوگئے۔ یہ ذلت و غربت اس وجہ سے تھی کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے تھے۔ (اور)یہ اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ مسلسل سرکشی کررہے تھے۔
حصَّہ سِوُم: بنی اسرائیل کے انکار کی وُجُوہات
یہاں تک سابقہ زمانے کے بنی اسرائیل کی بات تھی۔ اس سے آگے ان یہود کا ذِکْر شروع ہوتا ہے جو سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے زمانہ مبارک میں موجود تھے۔ان کی 2 طرح کی خباثتیں یہاں بیان ہوئی ہیں: