Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01
یہ 5 صِفَات اَہْلِ تقویٰ کی ہیں۔ قرآنِ کریم کی ہدایت سے فائدہ اُٹھانے کے لئے انہیں اپنانا ضروری ہے۔
راہِ ہدایت میں رُکاوٹ بننے والی بُری صفات: (1):ضِدْ و ہٹ دھرمی، یعنی میں نہ مانُو والی طبیعت یہ کافِروں کا وَصْف ہے کہ انہیں دلائل سُناؤ! معجزات دِکھاؤ! جتنا چاہو سمجھاؤ! یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہوتے، اِن کے دِلوں اور کانوں پر مہر لگی ہے، آنکھوں پر پردے پڑے ہیں، آخرت میں اِن کے لئے بڑا عذاب ہے (2):جھوٹ اور دھوکہ دہی (3):حَسَد اور جلن (4):فسادِی طبیعت (5):نیک لوگوں کو بُرا کہنا، خُود کی تعریف کرنا۔
آخری 4 بُری صفات منافقوں کی ہیں کہ بظاہِر زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں، دِل میں کفر چھپاتے ہیں، چونکہ اِن کے اندر یہ 4 بُری صفات ہیں، اِن کے دِل کی زمین بھی بنجر ہے، جو ہدایت قبول نہیں کرتی۔
قرآنِ کریم کا دوسرا وَصْف بیان ہوا: قرآن لَا رَیْب کتاب ہے، یعنی قرآن اللہ پاک کا کلام ہے، اِس میں بھی کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے اور جو بات قرآن فرما دیتا ہے، اس کے سچ ہونے میں بھی کسی قسم کے شک کی ذَرَّہ برابر بھی گنجائش نہیں ہے۔
قرآنِ کریم کے لَا رَیْب ہونے پر غیر مسلموں نے 2 اعتراض کئے، سُورۂ بقرہ، آیت: 23 سے 27 تک اِن اعتراضات کے جواب دئیے گئے ہیں:
پہلا اعتراض: قرآن کلامُ اللہ نہیں ہے۔
جواب: اِس کے جواب میں ارشاد ہوا: اگر تمہیں اِس میں شک ہے کہ قرآن اللہ پاک