Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01
اَلْحَمْدُ للہ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرحمٰن الرَحِیْم
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَانُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف
پیارے اسلامی بھائیو! اَلْحَمْدُ للہ! آج ہم نے پہلی تراوِیح پڑھنے کی سعادت حاصِل کی، رَبِّ کریم ہمیں پورا ماہِ رمضان اسی ذوق و شوق کے ساتھ، 20 کی 20 تراوِیح روزانہ پڑھتے رہنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
پیارے اسلامی بھائیو! قرآنِ کریم کا پہلا پارہ سُورۂ فاتحہ اور سُورۂ بقرہ کی 141 آیات پر مشتمل ہے۔ آئیے اِن دونوں سُورتوں کے مختصر فضائل اور اِن میں بیان ہونے والے مضامین کا خُلاصہ سنتے ہیں:
سُورۂ فاتحہ قرآنِ کریم کی پہلی اور مختصر سُورت ہے۔ یہ مبارَک سُورت مکہ پاک میں، اسلام کے بالکل ابتدائی دور میں نازِل ہوئی، ایک قول یہ بھی ہے کہ سورۂ فاتحہ 2 مرتبہ (پہلے مکہ پاک میں، پِھر مدینہ شریف میں ) نازِل ہوئی([1]) *وافِیَہ *کافِیَہ *شَافِیَہ *اُمُّ الکتاب (قرآن کی اَصْل) *اور سُورۃ الدُّعا وغیرہ اِس کے دَرْجن سے زیادہ نام ہیں، جو مختلف