Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01
(1):قرآنِ کریم کی 2 صِفَات کا بیان
سُورۂ بقرہ، آیت: 2 میں ارشاد ہوا:
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲) (پارہ: 1، البقرہ: 2)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: وہ بلند رتبہ کتاب جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ۔اس میں ڈرنے والوں کے لئے ہدایت ہے۔
یہ قرآنِ کریم کی 2 صِفَات ہیں: (1):قرآن کتابِ ہدایت ہے (2):قرآن لَا رَیْبَ کتاب ہے۔
آپ جانتے ہیں؛ بارش بِلا تَفْرِیق ساری زمین پر برستی ہے مگر زمین کی کیفیت میں فرق ہوتا ہے، زرخیز زمین بارش پا کر سبزہ اُگاتی ہے اور زمین کا جو ٹکڑا زرخیز نہیں ہوتا، وہ بارش برسنے کے باوُجُود بنجر کا بنجر ہی رہ جاتا ہے۔
اسی طرح قرآنِ کریم تو تمام ہی انسانیت کے لئے ہدایت ہے، البتہ! اِس ہدایت کو سب دِل قبول نہیں کرتے، چنانچہ اِس جگہ مثبت اور منفی کل مِلا کر 10صِفَات بیان ہوئیں؛ 5 صفات وہ ہیں جو قرآن سے ہدایت پانے کے لئے ضروری ہیں، 5 وہ بُری صفات ہیں، جو راہِ ہدایت میں رُکاوٹ بن جاتی ہیں۔
قبولِ ہدایت کے لئے ضروری صِفات: (1):اِیْمان بالغیب (یعنی بِن دیکھنے ماننے کی صلاحیت) (2): نماز قائِم کرنا (3): راہِ خُدا میں خرچ کرنا (یعنی حرص و ہَوَس سے پاک رہنا) (4):گزشتہ تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنا (5): آخرت پر پختہ یقین رکھنا۔