Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01
*امام حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: قرآنِ کریم سمیت جملہ آسمانی کتابوں کے تمام تَر مضامین کا خُلاصہ سُورۂ فاتحہ میں موجود ہے۔ اسی لئے حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا: جس نے سُورۂ فاتحہ کی تِلاوت کی، اس نے گویا تورات، زبور، انجیل اور قرآنِ کریم کی تِلاوت کر لی۔([1])
سُور ۂ فاتحہ کے 3 مرکزی مضامین
سُورۂ فاتحہ بندوں کی زبان پر نازِل ہوئی، یعنی بنیادی طور پر یہ ایک دُعا ہے، جس میں بندہ اللہ پاک کے حُضُور التجائیں کرتا ہے۔ اپنے مضامین کےلحاظ سے سُورۂ فاتحہ 3 طرح کے مضامین پر مشتمل ہے:
پہلا مضمون: اللہ پاک کی حمد و ثنا اور صِفَات کا بیان: اِس جگہ سب سے پہلا سبق تو یہ دیا گیا کہ اللہ پاک ہی ہے جو سب تعریفوں کا واحِد مستحق اور مالِک ہے، اس کے بعد اس مالِکِ کریم کی 3 صِفَات ذِکْر ہوئیں: (1):اللہ پاک رَبُّ العَالَمِیْن ہے (یعنی تمام جہانوں کا مالِک بھی ہے، سب مخلوقات کو پالنے والا بھی ہے) (2):اللہ پاک رحمٰن بھی ہے، رَحِیْم بھی ہے، یعنی اُس کی رحمت میں کَثْرت بھی ہے اور شِدَّت بھی ہے، ادنیٰ مثال یُوں سمجھ لیجئے کہ جیسے سمندر کا دوسرا کنارہ نہیں ہوتا اور اُس کی لہریں شَرَّاٹے دار ہوتی ہیں، یونہی رحمتِ اِلٰہیہ کی کوئی حَدْ نہیں اور دریائے رحمت اتنا پُرجوش ہے کہ اُس کی لہریں بہت شَرّاٹے دار ہیں، ادھر بندہ رحمت کو پُکارے، ادھر جھولی بھر جاتی ہے۔ بخاری و مسلم میں حدیثِ قدسی ہے، اللہ پاک فرماتا ہے: بندہ رحمت کی طرف چل کر آتا ہے تو میری رحمت اُس کی طرف دوڑ کر پہنچتی ہے۔([2])
یہ رحمتِ اِلٰہی کی محض ایک مثال دی گئی ہے، ورنہ حق تو یہ ہے کہ رحمتِ اِلٰہیہ ہمیں