Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01

Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01

مُرَاقَبَہ کا سبق

عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: اِن 3 مضامین کے پسِ پردہ جو ایک مرکزی نکتہ ہمیں سُورۂ فاتحہ میں سمجھایا گیا ہے، وہ ہے: مُرَاقَبَۃُ الْعِبَادِ لِرَبِّہِمْ یعنی بندے کا اپنے رَبّ کے لئے مُرَاقَبَہ کرنا۔([1])

مُرَاقَبَہ ایک تعلق کا نام ہے، بندے کا اپنے رَبّ کے ساتھ مضبوط ترین تعلق، اتنا مضبوط کہ بندے کا دِل، دماغ، اس کی سوچیں، خیالات اور تمام تَر تَوجُّہات ہر وقت اللہ پاک کی طرف رہیں،  بندے کو ہر وقت یہ یقین ہو کہ میرا رَبّ مجھے دیکھ رہا ہے، وہ میرے ظاہِر حال کو بھی جانتا ہے اور میرے باطن کو بھی جانتا ہے۔ اسے مُرَاقَبَۃُ اللہ کہا جاتا ہے۔([2])

حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا:اِحْفَظِ اللہ یَحْفَظُکَ تم اللہ کو نگاہ میں رکھو،اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا اِحْفَظِ اللہ تَجِدْہُ تُجَاہَکَ اللہ پاک کو نگاہ میں رکھو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔([3])

اللہ پاک ہمیں توفیق  بخشے، کاش! ہمارا دِل ہر وقت اللہ پاک کی طرف مُتَوَجِّہ رہے، ہر وقت اللہ پاک کی یاد سے آباد رہے اور ہم اسی پیاری پیاری یاد کے ساتھ زِندگی گزارتے چلے جائیں۔

محبّت میں اپنی گما یااِلٰہی!                  نہ پاؤں میں اپنا پتا یااِلٰہی!

رہوں مست و بیخود میں تیری وِلا میں      پِلا جام ایسا پِلا یااِلٰہی!

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد

سُور ۂ بقرہ؛ تعارُف و مختصر فضائل

سُورۂ فاتحہ کے بعد سُورۂ بقرہ شروع ہوتی ہے *سُورۂ بقرہ قرآنِ کریم کی سب بڑی


 

 



[1]...تفسیر نظم الدرر،جلد:1،صفحہ:12۔

[2]...رسالہ قشیریہ، باب المراقبہ،صفحہ:225خلاصۃً۔

[3]...ترمذی، ابواب صفۃ القیامۃ، صفحہ:594، حدیث:2516۔