Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01

Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01

عَہد (کہ محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر ایمان لاؤ گے، اسے) پُورا کرو! اللہ پاک اپنا عَہد (کہ دُنیا میں عزّت، آخرت میں سرفرازی عطا ہو گی) پُورا فرمائے گا (3):صِرْف و صِرْف اللہ پاک ہی کا خوف رکھو! دُنیا اور دُنیاداروں سے مت ڈرو! (4):جو رسولُ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر نازِل ہوا، اُس پر ایمان لاؤ! کفر کر کے اپنے بعد والوں کے لئے   بُرا نمونہ مت بنو! (5):اللہ پاک کی آیات (یعنی تورات شریف کی تعلیمات) کو دُنیوی دولت کے بدلے مت بیچو! (6): حق  (یعنی تورات شریف میں بیان ہونے والے اَوْصافِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم)  کو نہ تو باطِل کے ساتھ مِلاؤ!  نہ اسے چھپاؤ! (7):نماز قائم کرو! زکوٰۃ دو! مسلمانوں کے ساتھ مل کر باجماعت نماز پڑھو! (8):نماز اور صبر کے ذریعے اِن سب کاموں پر مدد چاہو! (9):یاد کرو کہ اللہ پاک نے تمہیں تمہارے زمانے میں تمام قوموں پر فضیلت بخشی تھی۔ لہٰذا قیامت سے ڈرو!

حصَّہ دُوُم: بنی اسرائیل  کی ناشکری اور سرکشی کا بیان

اس کے بعد بنی اسرائیل پر ہونے والے مختلف انعامات  کا ذِکْر ہوا اور بتایا گیا کہ کیسے یہود نے اُن انعامات کا شکر ادا کرنے کی بجائے اُلٹا سرکشی کی۔ انعامات کی تفصیل یوں ہے:

پہلا انعام: فرعون جو انہیں قید میں رکھتا، اُن کے بچوں کو قتل کرتا، بچیوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ اِس بدبخت ظالِم حکمران سے انہیں آزادی عطا کی گئی۔

 دوسرا انعام:اِن کے لئے دریائے نیل میں 12راستے بنائے گئے اور ان کی آنکھوں کے سامنے فرعونیوں کو غرق کر دیا گیا۔

بنی اسرائیل کی سرکشی: بنی اسرائیل نے شکر کرنے کی بجائے اُلٹا بچھڑے کی پُوجا شروع کر دی۔

تیسرا انعام: ان کی ہدایت کے لئے موسیٰ  علیہ السَّلام   پر تورات شریف نازِل کی گئی۔