Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01
بنی اسرائیل کی سرکشی: بنی اسرائیل نے تَورات کو ماننے سے انکار کر دیا۔
چوتھا انعام: بچھڑے کی پُوجا پر انہیں تَوْبہ کی توفیق بخشی گئی، تکمیلِ توبہ کے لئے ان میں سے 70 افراد کو کوہِ طُور پر بُلایا گیا۔
بنی اسرائیل کی سرکشی: ان 70 نے سرکشی کی، بولے: اے موسیٰ! ہم تب تک ایمان قبول نہیں کریں گے جب تک کہ اللہ پاک کو آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ ان سب پر فوراً عذاب اُترا، سب ہلاک ہو گئے۔
پانچواں انعام: موسیٰ علیہ السَّلام کی دُعا سے ان 70 کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا۔
بنی اسرائیل کی سرکشی: بنی اسرائیل کو جہاد کا حکم ہوا، میدانِ تیَہ میں پہنچ کر انہوں نے سرکشی کی، کہا: اے موسیٰ ! آپ اور آپ کا رَبّ جائے، جہاد کرے، ہم نہ جائیں گے۔ اس جُرْم میں انہیں اسی میدان میں قید کر دیا گیا۔
چھٹا انعام: اس قید کے عالم میں ان پر آسمان سے مَنّ و سلویٰ (یعنی پکا پکایا کھانا) اُتارا گیا۔
ساتواں انعام: ان کے لئے اسی میدان میں پتھر سے 12 چشمے جاری کئے گئے۔
بنی اسرائیل کی سرکشی: بنی اسرائیل نے اس کھانے پر قناعت سے انکار کر دیا، بولے: ہمیں ساگ، پیاز، مسور اور گندم چاہئے۔
آٹھواں اِنْعام: انہیں حکم دیا گیا کہ میدانِ تِیَہ سے نکل کر بیت المقدس جاؤ! دروازے سے گزرتے ہوئے اللہ پاک کے حُضُور سجدہ کرنا اور کہنا: حِطّةٌ (اِلٰہی! ہماری مغفرت فرما)۔
بنی اسرائیل کی سرکشی: یہ گھسٹتے ہوئے پیٹھ کے بَل دروازے میں داخِل ہوئے اور حِطّةٌ کی جگہ حِنْطَةٌ (گندم! گندم) پُکارتے رہے۔
نَواں انعام: انہوں نے تورات پر عمل سے انکار کیا تو ان پر کوہِ طُور کو بلند کیا، انہوں نے