Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01

Book Name:Dars e Taraveeh - 1 Ramazan - Para 01

یہود دوسری قسم میں ہیں، ان کی خطائیں حدِ کفر کو پہنچی ہوئی ہیں، لہٰذا یہ ہر گز جنّتی نہیں ہو سکتے۔

یہود کی چند خطائیں: *.تورات میں ان سے توحید پر پابند رہنے، نماز پڑھنے، والدین ، یتیموں، مسکینوں سے حسن سلوک کرنے، لوگوں سے اچھے انداز میں گفتگو کرنے کا حکم دیا گیا، انہوں نے یہ احکام پُورے نہ کئے *.انہیں حکم تھا کہ اپنے بھائیوں سے نہ لڑو گے، نہ انہیں قتل کرو گے نہ اپنے قبیلے سے نکالو گے۔ یہ اوس و خزرج کی لڑائی میں پڑ کر اپنے بھائیوں کو قتل کرتے رہے۔ تورات کے بعض احکام پر عمل کرتے، بعض کا انکار کر دیتے  *.حضرت موسیٰ  علیہ السَّلام   کے بعد ان کی ہدایت کے لئے پے در پے (ایک کے بعد ایک) نبی بھیجے گئے، انہوں نے بعض کو شہید کر ڈالا، بعض کو جھٹلا دیا *.پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی آمد سے پہلے آپ کے نامِ پاک سے استمداد چاہتے، ان کے نام کے وسیلے سے جنگوں میں فتح پاتے، جب آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تشریف لے آئے تو اِنْکاری ہو گئے۔ یہ سب خطائیں ثابت کرتی ہیں کہ یہود کی خطائیں حدِ کفر کو پہنچی ہوئی ہیں، لہٰذا یہ جنّت کے حقدار نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ جہنّم میں رہنے کے حقدار ہیں۔

(5):نسلی تعصب: یہود کو کہا گیا کہ قرآن پر ایمان لاؤ! بولے: جو بنی اسرائیل کے نبیوں پر نازِل ہوا، ہم اسے مانتے ہیں، اس کے علاوہ کسی بات پر ایمان نہ لائیں گے۔

شُبے کا جواب: چاہئے کہ آدمی حق بات کو تسلیم کرے وہ بنی اسرائیل کے نبی پر نازِل ہوئی ہو یا خواہ مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم پر اتری ہو۔ حق یہ ہے کہ یہود بنی اسرائیل  کے نبیوں پر اُترنے والی تعلیمات پر بھی ایمان نہیں رکھتے، مثلاً *.موسیٰ  علیہ السَّلام   معجزات