Book Name:Qabar Ke Sathi
کس قدر جوش پہ ہے حق کی عطا آج کی رات پائیں گے سارے طلب سے بھی سِوا آج کی رات
مغفرت ڈھونڈتی پھرتی ہے گنہ گاروں کو مہرباں کتنا ہے بندوں پہ خُدا آج کی رات
کوئی محروم نہ رہ جائے زمیں پر سائِل آسمانوں سے یہ آتی ہے صدا آج کی رات
ھڪ شاعر لکيو آهي:
آئی شَبِ براءَت، یہ ہے برکتوں کی رات لطف وکرم کی رات ہے، یہ رحمتوں کی رات
بارانِ فضل ہوتا ہے اس شب کو ہر گھڑی خوش بخت ہے جسے ملی یہ عظمتوں کی رات
جو چاہتے ہو، تم کو کرے گا خدا عطا اس کی عنایتوں کی ہے یہ نعمتوں کی رات
غم کا علاج آج کی شب دستیاب ہے یہ جاں فزا ہیں ساعتیں، یہ فرحتوں کی رات
کر لو مرض کے واسطے رب سے دُعا ابھی یہ ہے شفا کی رات، یہ ہے راحتوں کی رات
دامن بڑھاؤ مانگ لو خیراتِ مغفرت اے عاصیو! ہے جلوہ نما رافتوں کی رات
راضی کرو تمام جو ناراض تم سے ہیں صلح وصفا کی رات ہے، یہ قُربتوں کی رات
الله پاڪ اسان کي اڄ جي مقدس رات جون برڪتون نصيب فرمائي، ڪاش! اڄوڪي رات جي صدقي، اسان گنھگارن کي بخشش ۽ مغفرت جو پروانو نصيب ٿي وڃي. اٰمِین بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیِّيْن صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم .
مغفرت کا ہوں تجھ سے سُوالی پھیرنا اپنے دَر سے نہ خالی
مجھ گنہگار کی اِلتجاء ہے یا خدا تجھ سے میری دُعا ہے ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پياري آقا جي ملڪ الموت سان ملاقات
حجة الاسلام امام محمد بن محمد غزالي رَحْمَةُ الـلّٰـهِ عَـلَيْه لکن ٿا ته معراج جا گهوٽ، مڪي مدني مصطفيٰ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم معراج جي رات جڏھن آسمانن جو