Book Name:Zikr ul Allah Ke 40 Faide
اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کر ے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے۔([1])
اے عاشقانِ رسول! اہلِ خانہ پر خرچ کرنا سُنّتِ مصطفےٰ ہے*پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اپنے گھر والوں پر خرچ فرمایا کرتےتھے *حدیثِ پاک کے مطابق ہجرت کے بعد ایک وقت وہ بھی آیا کہ رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اپنے گھر والوں کے لئے سال بھر کا غلہ جمع فرما دیا کرتے۔([2])
اس حدیثِ پاک کے تحت مَشْہُور مُفَسّرِ قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے جو شرح بیان کی، اس کا خُلاصہ ہے کہ یہ یعنی سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا سال بھر کے لئے غَلّہ جمع فرما دینا، بنو نُضَیْر کا قلعہ فتح ہونے کے بعد کی بات ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ حُضُور، جانِ کائنات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اگرچہ سال بھر کا غلہ جمع فرما دیتے تھے مگر ازواجِ پاک کَثْرت سے صدقہ و خیرات کرتیں، سال بھر کا غلہ جلد ختم ہو جاتا اور نَوبَت فاقوں تک پہنچ جاتی۔([3])
بھوکے رہتے تھے خود اوروں کو کھلا دیتے تھے کیسے صابِر تھے مُحَمَّد کے گھرانے والے
رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا سال بھر کا غلہ جمع فرمانا اس لئے ہے تاکہ یہ عَمَل امَّت کے حق میں سُنّت بن جائے، ورنہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اَہْلِ خانہ کمزور دِل نہ تھے (بلکہ وہ حضرات اللہ پاک پر کامِل بھروسہ رکھنے والے تھے)۔ ([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد