Book Name:Tazkira e Imam e Azam رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اور رات میں ایک ایک ختمِ قرآن کیا کرتے تھے اور ماہِ رمضان میں عید کے دن تک 62 مرتبہ قرآنِ کریم ختم کیاکرتےتھے۔ (روزانہ دن میں ایک،رات میں ایک، سارے ماہ کی تراویح میں ایک اورعید کے دن ایک)([1])
5۔حضرت خارجہ بن مُصْعَب رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:کعبہ شریف کے اندر چار بُزرگوں نے قرآنِ کریم کا ختم کیا ہے۔ (1) اَمِیْرُالمؤمنین حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ(2)حضرت تمیم داری رَضِیَ اللہُ عَنْہُ (3)حضرت سعید بن جُبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اور (4) امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ نے۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! آپ نےسُنا کہ ہمارےامامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کی عبادت، تلاوت اور روزوں کا کیا حال تھا،آپ نے علمِ دین کی خدمت اور اللہ پاک کی عبادت کے لئے اپنے تمام کےتمام اوقات کس طرح وَقْف کر رکھے تھے،اس کا اندازہ اس بات سے لگائیےکہ حضرت اَبُوالاَحْوَصْ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اگر امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کو کہہ دیا جاتا کہ آپ 3 دن کے بعد وصال فرما جائیں گے تب بھی آپ اپنے نیک اعمال میں اس وجہ سے مزید کسی عمل کااضافہ نہیں فرما سکتےتھےکہ آپ کے پاس تھوڑا سا وقت بھی فارغ نہیں تھا ۔([3])
آپ کےساری رات عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ بھی نہایت دلچسپ اور ہمارے لئے نصیحت ہےاور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ کہیں تشریف لے جا رہے