Tazkira e Imam e Azam رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

Book Name:Tazkira e Imam e Azam رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

والے تھے، آپ شفیق و مہربان اور ماہر استاد،بہترین مفتی ،شفیق باپ اور اچھےپڑوسی تھے، جو کسی کو بھی تکلیف و اذیت نہ دیتے،قرض داروں کاقرض معاف کرنے،نیکی کا حکم دینےاور برائی سے روکنے،حق بات کےلئے ڈٹ جانے،ہر ایک کے ساتھ عدل و انصاف کا برتاؤ کرنے اور خود کو تکلیف و اذیت دینے والوں کو معاف کرنےوالے تھے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

امامِ اعظم کی ایک خُصُوصیّت

پیارے اسلامی بھائیو!امامِ اعظم  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  کو بہت سی خصوصیات کے ساتھ ساتھ ایک بہت عظیم خُصُوصِیَّت یہ بھی حاصل تھی کہ آپ تابعی تھے۔ تابعی اس مُبارک ہستی کو کہتےہیں جسے ایمان کی حالت میں کسی صحابی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہو اور ایمان کی حالت میں ہی اسے موت آئی ہو۔([1]) تابعین وہ مُبارَک شخصیات ہیں جو مسلمانوں  کےحقیقی راہ نما ہونے کا اعزازرکھتے ہیں، *اگر انہیں تلاش کیا جائے تو یہ علم وفضل کےخزانوں،اَحادیْثِ کریمہ کی کتابوں،قرآنِ کریم کی تفسیروں،اعلیٰ اخلاق کےحامل لوگوں، گفتار و کردار کے غازیوں،باطل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والوں ، شریعت و طریقت کےجلووں اور علمِ دین کے شَہسُواروں  میں ملیں گے۔

یاد رکھئے! ہمیں اپنے علم و عمل میں بہتری لانے کے لئے اور علم و عمل کوسنوارنے کے لئے جس آ ئینَۂنور کی ضرورت ہے وہ آ ئینَۂ نور تابعینِ کرام  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہم ہی ہیں کیونکہ انہیں اسلام کا  نورصرف ایک واسطے سے پہنچا ہے۔ پھر یہ کہ ان کےزمانے کو زبانِ


 

 



[1]  شرح نخبۃ الفکر، ص ۱۳