Book Name:Tazkira e Imam e Azam رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
(1)ایک شخص نےقسم کھائی: کبھی انڈہ (Egg)نہیں کھاؤں گا، کچھ عرصے بعد اُسی شخص نے ایک اور قسم کھائی کے فلاں کی آستین (Sleeve) میں جو چیز ہے وہ ضرور کھاؤں گا، دیکھا تو اس کی آستین میں انڈہ تھا، اب اس شخص کے لئے یہ مشکل کھڑی ہوگئی کہ انڈہ کھالے تو پہلی قسم ٹوٹ جائیگی اور نہ کھائے تو دوسری قسم ٹوٹ جائے گی۔ بڑا پریشان ہوا اور امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر مسئلہ عرض کیا: امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نے فرمایا: پریشان ہونےکی ضرورت نہیں ، اس انڈے کو مرغی کے نیچےچھوڑ دیا جائے جب چوزہ نکلے تو اسے بھون کر یا پکا کر کھالو، تمہاری کوئی بھی قسم نہیں ٹوٹے گی۔([1])
(2)ایک مرتبہ امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کے پڑوسی کا مور (Peacock) چوری ہو گیا وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا۔آپ نےفرمایا:تم خاموش رہنا۔جب آپ مسجد تشریف لے گئے اور لوگ نماز کے لئے جمع ہوگئے تو ارشاد فرمایا:کیا اُس شخص کو شرم نہیں آتی جو اپنے پڑوسیوں کا مور چُراکراس حالت میں نماز پڑھنےآتا ہے کہ اس کےسر پر مور کے پَر کااثر ہوتا ہے! یہ سُن کر ایک شخص نے فوراً اپنے سر پر ہاتھ پھیرا۔ آپ نے اُس کی طرف اپنا رُخِ انور کرتے ہوئے فرمایا:تم اپنے ساتھی کا مور اسے واپس لوٹادو۔چُنانچہ اس نے مالک کو اُس کا مور واپس کردیا۔([2])