Tazkira e Imam e Azam رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

Book Name:Tazkira e Imam e Azam رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

(3)ایک مرتبہ امام اَعمش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  نے اپنی بیوی سے کہا: اگر تم نے مجھے آٹا ختم ہونےکازبانی طور پر یاتحریری طور پر یااشارےکےذریعے بتایا یا کسی اور کے ذریعے آٹا ختم ہونے کا کہلوایا یا کسی کے سامنے اس مقصد سے آٹا ختم ہونے کا تذکرہ  کیا کہ وہ مجھے بتا دے  تو تمہیں طلاق ۔یہ سُن کر حضرت امام اَعمش  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  کی زوجہ بہت پریشان ہوئیں کہ اب کیا کروں گی؟ آٹا ختم ہونے پر اگر نہیں بتاؤں گی تو بھی پریشانی کی بات ہے اور اگر بتادوں تو بہت بڑی پریشانی میں مبتلا ہوجاؤں گی ۔کسی نےانہیں مشورہ دیا:تمہیں اس مشکل سے صرف امامِ اعظم  رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  ہی نکال سکتے ہیں،چُنانچہ  امام اَعمش کی بیوی امامِ اعظم کے پاس آئیں اور ساری باتیں بتا کر اس مشکل کاحل پوچھا، امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ  نے فرمایا : اس میں کیا مشکل ہے اس مسئلے کا حل تو بہت ہی آسان ہے اور وہ یہ کہ جب اَعمش سوجائیں تو تم آٹے کا تھیلا ان کےکپڑوں کے ساتھ باندھ دینا جاگنے پر انہیں خود ہی آٹا ختم ہونے کا پتا چل جائے گا یہ سُن کر امام اَعمش کی زوجہ کی پریشانی بالکل ختم ہو گئی اور وہ بہت خوش ہوئیں ۔([1])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                        صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

سُبْحٰنَ اللہ!آپ نے سُنا کہ ہمارے امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ  کتنے ذہین تھے اور کس طرح چندلمحوں میں لوگوں کےمسائل حل فرمادیتے تھےاور اُس زمانے کے لوگ بھی کتنےسمجھدارتھےکہ انہیں کوئی پریشانی ہوتی،کوئی تکلیف پہنچتی یا کوئی مسئلہ پوچھنا ہوتا تو وہ امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ  کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اُسےحل کروانے کی کوشش کرتے۔ہمیں بھی چاہئےکہ جب کبھی کوئی شرعی مسئلہ پیش آئے تو ہم دارُ


 

 



[1] مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ للموفق،۱/ ۱۵۹