Book Name:Tazkira e Imam e Azam رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
رسالت سے ”بہترین زمانہ“ ہونے کی سند حاصل ہے جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے: اِنَّ خَیْرَکُمْ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ یعنی بے شک سب سے بہتر میرا زمانہ ہے، پھروہ لوگ جواِن کے بعد آئیں گے ،پھر وہ جو اُن کے بعد آئیں گے۔([1])
اس حدیثِ پاک میں سب سے پہلےصحابَۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُممُراد ہیں جو پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانے میں تھےپھر تابعین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہممراد ہیں جو صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم کے زمانے میں تھے اور پھر تبعِ تابعینرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہم مراد ہیں جوتابعین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہمکے زمانے میں تھے،اس سے تابعینرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہم کی عظمت بھی بخوبی سمجھی جاسکتی ہے۔یاد رہے!صحابَۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم کے بعد*تابعین ہی وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہوں نے اپنی سیرت وکردار سے اسلام کو دور دور تک پہنچایا،عِلْمِ دِین کو پھیلایا،حق کی سربلندی کے لئے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،لوگوں کی اِمامت کا خوب حق اداکیا۔ انہی تابعین میں سے ہمارے امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ بھی ہیں،امامِ اعظم نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے 7 صحابَۂ کرام رَضِیَ اللہُ عَنْہُم سے مُلاقات کا شرف حاصل کیا ہے۔ امامِ اعظم نے ان صحابۂ کرام کے نام بھی بیان فرمائے ہیں جن میں حضرت انس بن مالک ،حضرت جابربن عبدُ اللہ،حضرت مَعقل بن یَسار اور حضرت وَا ثِلہ بن اَسقع رَضِیَ اللہُ عَنْہُم بھی شامل ہیں۔([2]) آئیے! امامِ اعظم کے علمی مقام و مرتبے کے بارے میں سنتے ہیں: