Book Name:Tazkira e Imam e Azam رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ مُحَدِّث و فقیہ ہونےکےعلاوہ بہت سےمُحَدِّثین و فقہا کے امام تھے۔آپ کے مُتَعلِّق بہت سےایسے مسائل کا ذکر بھی ملتا ہے جنہیں بڑے بڑےمُحَدِّث(یعنی حدیث کا علم رکھنے والے)حل نہ کرسکےلیکن آپ نے اللہ پاک کی دی ہوئی صلاحیت سےانہیں فورا ً حل کردیا۔جب اس وقت کے بڑے بڑے علما و مفتیانِ کرام آپ کے فتاوىٰ کو دىکھتے تو ان کى عقلىں حىران رہ جاتىں اور انہىں بے اختىار کہنا پڑتا کہ علم کےجس شہرمىں حضرت امامِ اعظم ابوحنىفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ موجود ہوں،ہم اس کےدروازے تک بھی نہیں پہنچ سکتے۔آئیے!پانچ(5)عظیم ہستیوں کے حضرت امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کے بارے میں اقوال سنتے ہیں:
1۔حضرت عبدُ اللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ جیسےعظیم محدِّث جوفنِ حدیث کے امیرُ المؤمنین بھی ہیں اور حضرت امام بُخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کے استاد بھی،فرماتے ہیں: میں نے کوئی شخص حضرت امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ سے زیادہ عقلمند نہیں دیکھا۔
2۔ایک مرتبہ مشہورعبّاسی خلیفہ ہارون رشید رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کے پاس امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کا ذکر ہوا تو اُنہوں نے امامِ اعظم کیلئے دُعائے رحمت کی اور کہا:وہ اپنی عقل کی آنکھوں سےوہ کچھ دیکھتے تھے جو دوسرے لوگ اپنےسر کی آنکھوں سے بھی نہیں دیکھ سکتےتھے۔
3۔حضرت علی بن عاصم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ نے فرمایا:اگر امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کی عقل کا آدھے اہلِ زمین کی عقل سے مقابلہ کیا جائے تو آپ کی عقل غالب آجائے