Book Name:Tazkira e Imam e Azam رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
حضرت مِسْعَربن کِدام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ جوعظیم محدِّث بھی تھےاور علمِ حدیث میں امام اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کےشاگردبھی تھےفرماتے ہیں:میں امامِ اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ کی مسجِد میں حاضِر ہوا،دیکھا کہ نمازِفجر ادا کرنے کے بعد آپ ظہر تک لوگوں کو علمِ دین پڑھاتے رہے،نمازِظہر کے بعد اسی طرح نمازِ عصر تک ، عصر کے بعدمغرب اورمغرب کے بعد عشا تک علمِ دین کی محفل سجائی۔میں نے دل میں سوچا کہ آپ کو عبادت کے لئے کب فُرصت ملتی ہوگی(یعنی سارا دن علمِ دین پڑھاتےرہے اب رات کو تو آرام کریں گے)مگر لوگوں کے چلے جانے کے بعد آپ عمدہ لباس پہن کر دولہا کی طرح تیار ہو کردوبارہ مسجِد تشریف لائےاور فجر تک نوافل ادا کرتےرہے، فجر کی نماز سے پہلے گھر گئے اور لباس تبدیل کرکے واپَس آئے اورنَمازِ فجر باجماعت ادا کرنے کے بعد دوبارہ رات عشا کی نماز تک علمِ دین سیکھنےسکھانے کا سلسلہ جاری رہا۔حضرت مِسْعَربن کِدام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں نے سوچا آپ بہت تھک گئے ہونگے، آج رات تو ضرور آرام فرمائیں گے، مگر دوسری رات بھی وُہی معمول رہا۔ پھر تیسرا دن اور رات بھی اِسی طرح گزراکہ دن بھر علمِ دین سکھاتے رہے اور رات کو رَبّ کریم کی بارگاہ میں نوافل ادا کرتے رہے۔ میں بے حد مُتأ ثِر ہوا اور میں نے فیصلہ کرلیا کہ عمر بھر ان کی خدمت میں رہوں گا۔چُنانچہ میں نے ان کی مسجِد ہی میں مستقل قِیام اختِیارکرلیا۔ آپ فرماتے ہیں:میں نے امامِ اعظم کو دن میں کبھی بےروزہ اور رات کوکبھی عبادت و نوافِل سے غافِل نہیں دیکھا۔ البتّہ ظہر سے پہلےآپ تھوڑا سا آرام فرما لیا کرتے تھے۔حضرت مِسْعَر رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ امامِ اعظم سے اتنا متأثِّر ہوئے کہ بقیہ ساری عمر آپ کی بارگاہ میں گزار دی حتّٰی کہ حضرت ابنِ ابی مُعاذ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں:حضرت