Book Name:Tazkira e Imam e Azam رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
تھے کہ کسی نےآپ کی طرف اشارہ کر کے دوسرےشخص کو بتایا کہ یہی وہ حضرت امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ ہیں جو رات بھرسوتےنہیں(یعنی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔) اس کے بعد سے آپ ساری رات عبادت میں بسر کرنےلگےاورفرمایا:مجھےاللہ پاک سے حیا آتی ہے کہ اس عبادت کے ساتھ میری تعریف کی جائے جو میں نہیں کرتا۔([1])
اَللہُاَکْبر ! یہ آپ کی عظیم سوچ تھی، اللہ پاک ہمیں بھی خوب عبادت کرنے، ماہِ رمضان کےروزوں کےساتھ نفل روزے رکھنےاورتلاوتِ قرآن کرنےکی توفیق عطا فرمائے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!آپ نے سنا کہ ہمارےامام،امامِ اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ دن بھر علمِ دین پھیلانے میں مصروف رہتے جوخود عظیم نیکی اور ثوابِ جاریہ ہے مگر اس کے باوجود آپ کس قدر کثرت سے تلاوتِ قرآن اور نفل نمازوں کا اہتمام کیاکرتے تھے۔
ہمیں بھی چاہئےکہ ہم امامِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ کےنقشِ قدم پر چلتے ہوئے پانچوں نمازیں وقت پرادا کریں*اپنے گھر والوں اور دوستوں وغیرہ کوبھی نماز پڑھنے کی ترغیب دیں *راتوں کو اُٹھ کر اللہ پاک کو یاد کریں*اس کی یاد میں آہیں بھرنے والے بن جائیں،*کثرت سے اللہ پاک کا ذکر کریں*اللہ پاک کی محبت میں اس کی عبادت کریں *اللہ پاک کو راضی کرنے کی کوشش کریں *اپنی خطاؤں پر آنسو بہائیں*جنّت میں داخلےکی دُعا اور دوزخ کےعذاب سے پناہ مانگیں *تلاوتِ قرآن